149

ڈاکٹرجمیل جالبی ایک منفرد محقق اور نقاد

ڈاکٹر جمیل جالبی کی تحقیق وتنقید کا سفر سات عشروں تک جاری رہنے کے بعد چند روز پہلے اختتام پذیر ہوا آپکی تصنیفات کی طویل فہرست پتہ دیتی ہے کہ آپکی شخصیت ایک ادبی مورخ‘ محقق ‘ماہر لسانیات‘ ناقد اور مترجم کی صلاحیتوں کا خوبصورت امتزاج تھی‘ آپ نے متنوع ادبی‘ سماجی اور تہذیبی موضوعات پر چالیس کتابیں اور دوسو سے زائد اعلیٰ درجے کے مقالے لکھے ڈاکٹر جالبی یکم جولائی 1929 کو سہارن پور میں پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم میرٹھ اور علی گڑھ میں حاصل کرنے کے بعد آپ 1947 میں ہجرت کرکے پاکستان چلے آئے اور کراچی میں مستقل سکونت اختیار کی‘ آپکی گرانمایہ تصانیف کو پاکستان اور انڈیا کی جامعات اور تحقیقی اداروں میں مستند ادبی حوالوں کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے آپکی نگارشات کا بنظر غائر مطالعہ کرنے والے ناقدین میں سے کچھ ” تاریخ اردو ادب“ کو آپکا بے مثال ادبی کارنامہ مانتے ہیں اور کچھ یہ کہتے ہیں کہ ” قدیم اردو کی لغت“آپکی اہم ترین ادبی کاوش ہے ” تاریخ اردو ادب“کی چار جلدیں ہیں اور ان میں سے ہر ایک‘ ایک ہزار صفحات پرمشتمل ہے آپ سے پہلے اردو ادب کی تاریخ مرتب کرنے کی ذمہ داری کئی محققین اور اداروں کو سونپی گئی مگر خاطر خواہ نتائج برآمد نہ ہوئے اس موضوع پر لکھی ہوئی جو تصانیف منظر عام پر آئیںانہیں ناقدین نے سطحی اور غیر معیاری قرار دیکر مسترد کردیا۔

 یہ تصنیفات کئی دانشوروں کے لکھے ہوئے مقالات کا مجموعہ تھیں‘محققین کی رائے میںاردو ادب کی تاریخ کسی فرد واحد کو لکھنی چاہئے تا کہ ایک ایسا نقطئہ نظر سامنے آئے جو صدیوں پر محیط اردو ادب کو اسکے مخصوص تہذیبی تناظر میں اجاگر کر سکے‘ اس مقصد کے حصول کیلئے ڈاکٹر جمیل جالبی کا انتخاب انکے علم اور مطالعے کی وسعت اور گہرائی کا پتہ دیتا ہے اور اس حقیقت کی نشاندہی کرتاہے کہ 1967میں جب یہ گرانقدر ذمہ داری آپکو سونپی گئی تواسوقت بھی پورے ملک میںآپکو ایک منفرد اور بلندپایہ محقق اور نقاد تسلیم کیا جاتا تھا ڈاکٹر جالبی کی مساعی جمیلہ کے نتیجے میں ’ تاریخ اردو ادب‘کی پہلی جلد کے شائع ہوتے ہی محققین نے اسے ایک مستند تخلیقی اور تنقیدی شہ پارے کے طور پر تسلیم کر لیا‘عصر حاضر کے ایک ممتاز محقق اور تنقید نگار ڈاکٹر سلیم اختر جنہوں نے چند ماہ پہلے رحلت فرمائی کی رائے میںجمیل جالبی کی مدون کردہ ”قدیم اردو کی لغت“ ان دکھنی الفاظ و متروکات پر مشتمل ہے جن سے جدید لغات عاری نظر آتی ہیں“ ڈاکٹر جالبی کی بیش بہا ادبی خدمات کا محاکمہ کرتے ہوئے پروفیسر رشید احمد صدیقی نے لکھا ہے ”میں جمیل جالبی کے فکر کے تنوع ‘ وسعت اور گہرائی کو محسوس کر کے خوش ہوا ہوں انکے سوچنے کا انداز منصفانہ اور ہمدردانہ ہے جسکے سبب وہ متاثر بھی کرتے ہیں اور مطمئن بھی یہ اچھے شخص اور مصنف بالخصوص تنقید نگار کی بڑی مستند نشانی ہے انکی تحریر میں نہ صرف عصری‘ تہذیبی اور ادبی رجحانات کی معتبر عکاسی بلکہ انکی فکر انگیز تعبیر و توضیح بھی ملتی ہے“ ڈاکٹر جالبی کو آج اور آج سے نصف صدی قبل انکے ہمعصر محققین نے جو خراج تحسین پیش کیا ہے ۔

وہ بہت کم اہل قلم کے حصے میں آیا ہے ڈاکٹر جالبی کی تصانیف کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ آپکی انفرادیت اور کامیابی کا محرک آپکا اپنے درخشاں ماضی سے وابستگی تھا آپ نے تنقیدی مقالوں کے مجموعے ” تنقید اور تجربہ“ کے مقدمے میں لکھا ہے ”یہ مضامین میرے اس ماضی سے تعلق رکھتے ہیںجس نے میری تربیت و تشکیل کی ہے اور جو میرے اندر آج بھی زندہ ہے یہ مضامین وقت کی پگڈنڈی پر پڑے ہوئے میرے قدموں کے وہ دھندلے اور واضح نشان ہیںجن پر گذشتہ پندرہ سولہ سال چل کر میں یہاں تک پہنچا ہوں‘یہ نشان میرے ذہنی سفر کو ظاہر کرتے ہیں“ ڈاکٹر جالبی کی ” تنقید اور تجربہ“ پہلی مرتبہ 1967 میں شائع ہوئی تھی اسکے بعد اسکے کئی ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں اس کتاب کا مقدمہ لکھتے وقت ڈاکٹر جالبی یہ نہ جانتے تھے کہ انکا پندرہ سولہ سال کا ذہنی سفر تو محض ایک آغاز تھا اس کٹھن مسافت نے تو اگلے ساٹھ برس تک جاری رہنا تھا‘آج اس طویل سفر کے اختتام پرہم بڑے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ ڈاکٹر جمیل جالبی کا شمار ان چند اہل قلم میں ہوتا ہے جنہوں نے قلم و قرطاس کو کبھی کسی ذاتی منفعت کیلئے استعمال نہیں کیا تخلیقی عمل سے انکا تعلق ایک گہری کمٹمنٹ کی صورت میں زندگی بھر انکی سانسوں میں رچابسارہا علم وادب سے اپنی وابستگی کے بارے میں انہوں نے لکھا ہے” میں میتھیو آرنلڈ کی طرح اس امر سے بھی انکار نہیں کرتا کہ تخلیقی قوت کا استعمال اور آزاد تخلیقی سر گرمی انسان کا صحیح منصب ہے تخلیق ہی سے انسان حقیقی خوشی حاصل کرتا ہے“ ڈاکٹر جالبی زندگی بھر اپنی فکری صلاحیتوں سے یہ حقیقی خوشی کشید کرتے رہے آپکو چار مرتبہ داﺅد ادبی انعام سے نوازا گیاانیس سو نوے میں آپکو ستارہ امتیاز اور اسکے چار سال بعد ہلال امتیاز دیا گیاآپ طویل عرصے تک کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی رہے ڈاکٹر جالبی کو ملنے والے ادبی اعزازات کی فہرست بہت طویل ہے۔

 مگر آپ کار ادب کو انعامات سے بلند و بالا سمجھتے تھے آپ نے ” ادیب کی سماجی ذمہ داری“ کے عنوان سے لکھے ہوئے مقالے میں اس خیال کا اظہار کیا ہے” میری سمجھ میں توآج تک یہ نہ آسکا کہ حقیقی ادیب مصلحت کیسے برت سکتا ہے وہ خوف کے تصور سے کیسے خاموش ہوسکتا ہے دراصل یہ وہ جنگ ہے جو صدیوں سے حکومت اور ادیب کے درمیان جاری ہے کسی حکومت کے انتشار اور زوال کا سبب یہی ہوتا ہے کہ وہ معاشرے کی آواز اور اسکی خواہشات اور احساسات کو سننا بند کر دے یوں اسکا عمل معاشرے کی فکر سے الگ ہو جاتا ہے ‘معاشرہ ایک ایسی عظیم قوت ہے کہ اس پر کوئی چیز باہر سے نہیں ٹھونسی جا سکتی ‘وہ صرف ان چیزوں کو قبول کرتا ہے جو اسکے شعور میں واضح یا غیر واضح طور پر موجود ہوتی ہیں اور سچا ادیب معاشرے کے اس شعور کا آئینہ ہے جو اسے اپنے احساسات سے باخبر کرتا ہے“ ڈاکٹر جالبی اسی مقالے میں ادب اور معاشرے کے تعلق پر سیر حاصل گفتگو کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ”مظلوم و مجبور معاشرے میں ادب وتہذیب زندہ نہیں رہ سکتے یہ محض اتفاق نہیںہے کہ نازی جرمنی کا ادب اور اطالوی فسطائی ادب ردی اور صرف پروپیگنڈہ تھے ہٹلر اپنی ساری کوشش‘ قوت اور گسٹاپو کے باوجود ادب و تہذیب کو آگے نہ بڑھا سکا تھا “اس اعتبار سے کسی معاشرے کے ادبی اور تہذیبی ارتقا کیلئے اسکا ذہنی طور پر آزاد ہونا ضروری ہے۔

 ڈاکٹر جالبی کی وضع کردہ اس اس کسوٹی کا اطلاق علم و ادب کے علاوہ سیاست پر بھی کیا جا سکتا ہے کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ آج کے پاکستان کا معاشرہ مظلوم و مجبور لوگوں کا معاشرہ نہیں ہے یہ ایک ایسا معاشرہ ہے جسکے اہل قلم دو ٹوک انداز میں اپنی بات کہہ سکتے ہیں اور کہہ رہے ہیں اگر ایسا نہیں ہے تو پھر یہ ایک ایسا معاشرہ ہے جو مظلوم و مجبور ہے اور جس میں ڈاکٹر جالبی کے مطابق ادیب ایک ایسا ٹائپ رائٹر ہے جو ادب اور تہذیب کو زندہ رکھنے کا کارنامہ سرانجام نہیں دے سکتاڈاکٹر جمیل جالبی نے اردو ادب‘ تنقید اور تحقیق کو جن نئے میدانوں اور جہتوں سے روشناس کرایا ہے وہ ہمیشہ کیلئے آنیوالے ادیبوں اور نقادوں کیلئے مشعل راہ ثابت ہوں گے انکے جذبوں کی فراوانی ‘علم دوستی اور فکرو فن سے گہری کمٹمنٹ وابستگان علم وادب کیلئے نشان منزل کی طرح روشن رہے گی‘ڈاکٹر جالبی کی گرانمایہ ادبی خدمات کی بدولت انہیں ہمیشہ یاد رکھا جائیگاآخرمیں انکے فن اور شخصیت کو اس شعر کی صورت میں خراج تحسین پیش کیا جا سکتا ہے۔
مقدور ہو تو خاک سے پوچھوںکہ اے لئیم
تو نے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کئے