182

رمضان المبارک کی آمد اور ہم

رمضان المبارک کی آمد آمد ہے ہم سب مسلمانوں کےلئے یہ ایک بابرکت اور مقدس مہینہ ہے‘ عبادات کے اس مہینے میں ہم اللہ کی رحمتیں سمیٹتے ہےں سحر وافطار کی نعمتیں میسر آتی ہےں‘ اسے قناعت کا مہینہ بھی قرار دیا جاتا ہے مگر ہوتا یہ ہے کہ ہمارے ہاں سب سے زیادہ اخراجات اسی مہینے میں ہوتے ہےں‘ صبح وشام سحر اور افطار میں کئی کئی ڈشز اور مشروبات کا اہتمام کیا جاتا ہے‘ فروٹ چاٹ‘دہی بھلے‘ پکوڑوں کے بغیر تو ہماری افطاری مکمل نہےں ہوتی‘افطار کا وقت قریب آتے ہی سموسوں اور پکوڑوں کی دکانوں پر رش دیدنی ہوتا ہے‘ ایسا لگتا ہے کہ کوئی مفت چیز بٹ رہی ہے اور لوگوں کا ایک ہجوم امڈ پڑا ہے‘گھروں میں بھی اس طرح کے پکوان تیار کئے جاتے ہےں روزانہ کلو دوکلو بیسن تو ہر گھر میں استعمال ہوتا ہے‘ سال بھر اتنا بیسن کسی معدے میں نہےں جاتا جس قدر رمضان المبارک میں ہم اپنے معدوں میں بھر لیتے ہےں‘ روزے کے دیگر روحانی فوائد کے علاوہ انسانی بدن پر بھی اثرات ہوتے ہےں‘بدن کی بھی ایک طرح کی اوورہالنگ ہوجاتی ہے لیکن فی زمانہ دیکھا جائے تو رمضان المبارک کے بعد عموماً ہر شخص کا وزن بڑھ جاتاہے‘ وجہ صرف یہ ہے کہ ہم افطار کے وقت ضرورت سے زیادہ کھاجاتے ہےں پھر گھی یا آئل میں تلی ہوئی اشیاءقدرے زیادہ استعمال ہونے سے بھی ہمارا وزن بڑھ جاتا ہے‘اگر قناعت کے اس مہینے میں واقعتا قناعت کی جائے تو گھر کے بڑھتے بجٹ کے کم ہونے کےساتھ ساتھ‘ہمارا ذاتی وزن بھی کم ہوسکتا ہے ‘یہ ضروری نہےں کہ ہر روز پاﺅ بھرپکوڑوں سموسوں کےساتھ ہی روزہ افطار کیا جائے عام دنوں میں بھی ہم کب اس قدر بیسن اور تلی ہوئی اشیاءاستعمال کرتے ہےں‘۔

وزہ توکھجور ‘ نمک اور سادہ پانی سے بھی افطار کیا جاسکتا ہے نماز کے بعد ڈنر بھی اگر سادہ ہوتو رات سکون سے عبادت کی جاسکتی ہے اور پھر سحری کے وقت آپ بھرپور کھانا تناول کرسکتے ہےں لیکن ہمارے ہاں تو سحری کے اوقات میں بھی مرغن غذاﺅں کا استعمال بڑھ گیا ہے اب جو اشیاءہم افطاری کے وقت نہ کھاسکیں‘سحری کے اوقات میں کھانے لگے ہےں‘ بعض گھروں میں سری پائے ‘بریانی سحری میں بھی کثرت سے استعمال کی جاتی ہے انسان کو اگر رمضان المبارک کا حقیقی روحانی لطف اٹھانا ہو تو اسے اپنی خوراک اعتدال کےساتھ کھانی چاہئے‘ یہ تو ایک پہلوہے دوسرا پہلو یہ ہے کہ رمضان المبارک کا چاند نظر آنے سے قبل ہی خوردنی اشیاءکی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہےں‘ فروٹ‘ سبزی‘ گھی‘ دالیں سب کچھ دگنا مہنگا ہوجاتا ہے اور اوپر سے گلی سڑی سبزیاں بیچنے والے بھی پہلے سے زیادہ چوکس ہوجاتے ہےں‘ ملاوٹ کرنا دین میں ویسے بھی منع کیاگیا ہے مگر اس بابرکت مہینے میں جعلی اشیاءبھی بک جاتی ہےں‘ ظاہر ہے ہر شخص نے افطاری کرنی ہے اور پھر خوب کرنی ہے‘ سو پکوڑوں سموسوں میں گلی سڑی باسی سبزیاں بھی کام آجاتی ہےں یہاں بھی جعلی مال پہلے نکالا جاتا ہے کیا اس برکتوں اور رحمتوں کے مہینے میں یہ سب کچھ کرنا جائز ہے؟نہےں ہرگز نہےں سب کو پتہ ہے کہ یہ رحمتوں کا مہینہ ہے مگر ہم سب مال مہنگا بیچتے ہےں ملاوٹ کرتے ہےں اور اپنی عید مناتے ہےں‘ بعض ممالک میں مذہبی تہواروں پر اشیائے خوردونوش بے حد سستی کردی جاتی ہےں تاکہ عام آدمی بھی اس سے فائدہ اٹھا سکے جو لوگ استطاعت نہےں رکھتے ان کو خوشیوں میں شریک کرنے کےلئے سستے بازار جو واقعی سستے اور معےاری اشیاءسے مزےن ہوتے ہیںوجود مےںآتے ہیںبازار تو ہمارے ہاں بھی ہوتے ہیں۔

 مگریہاں معےاری اشےاءکم ازکم سستی نہےں ملتیںیہ سب دکھاوے کی باتیں ہےں جو حکومتی سطح پر ہوتی ہےں اور کہایہی جاتا ہے کہ عوام کےلئے رمضان اور عید بازار لگائے گئے ہےں مگر ان بازاروں میں کبھی اچھا اور معیاری سودا سلف نہےں ملتا نہ ہی ریٹ مناسب ہوتا ہے‘ البتہ ریٹ لسٹ ضرور آویزاں کی جاتی ہے اگر کوئی گاہک ریٹ لسٹ کا ذکر کرے تو اسے تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا ہے اسی ریٹ لسٹ کے مطابق جو اشیاءدکھائی جاتی ہےں آپ انہےں خریدنا گوارا نہےں کرسکتے کیونکہ وہ انتہائی ناقص اور غیر معیاری ہوتی ہےں‘کیا رحمتوں اور برکتوں کے مہینے میں ہماری یہ حرکات اور اعمال ہماری عبادات کےلئے مناسب ہےں؟یہ سوال اہم ہے اور سوچنے کے لائق ہے کوئی مسلمان جعلی ناقص اشیاءبیچ کر اگر یہ کہے کہ میرا روزہ ہے توکیا اسکا روزہ برقرار رہ سکتا ہے؟ ضرورت اس بات کی ہے کہ رمضان المبارک میں اپنے روزمرہ معمولات پر بھی دھیان دینا چاہئے دوسروں کےلئے باعث رحمت بنیں گے تورمضان ہمارے لئے رحمتوں کا باعث ہوسکتا ہے ورنہ اگر ہمارے رویے دوسروں کےساتھ درست نہےں‘ لوگوں کےساتھ معاملات میں ہم اچھے نہےں تویہ بھوکا پیاسارہناکسی کام کا نہےں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔