121

اچھے کام کی تعریف

جہاںغلط کاموں پر تنقید لازمی ہے وہاں اچھے کاموں کی تعریف بھی ضروری ہے‘عمران خان کے چین کے حالیہ دورہ کے دوران ہونے والا جو فیصلہ اس ملک کے غریب عوام کو اچھا لگا وہ پشاور سے کراچی تک ڈبل ریلوے ٹریک بچھانے کاہے اس سے اگر کسی کا فائدہ ہوگا تو وہ اس ملک کے غریب عوام ہیں کیونکہ ریل گاڑی غریبوں کی ٹرانسپورٹ ہے‘ یہ کام بہت پہلے ہو جانا چاہئے تھا پر دیر آید درست آید‘ اب بھی اگر یہ کام پایہ تکمیل تک پہنچایا جاتا ہے تو اس سے بہتوں کا بھلا ہوگا ظاہر ہے یہ کام پاکستان خود شاید ابھی کئی مزید برسوں تک سرانجام نہ دے سکتا کہ پچھلے حکمرانوں نے قومی خزانے میں کچھ چھوڑا ہی نہیں‘سی پیک کے طفیل اب اگر یہ کام ہو جاتا ہے تو پاکستان ریلوے کی تاریخ میں یہ ایک انقلابی کام ہوگا‘ روڈ ٹرانسپورٹ کی لابی پر یقینا اس فیصلے سے اوس پڑ گئی ہوگی کیونکہ کافی حد تک وہ اس ملک میں ریلوے کی تباہی کی ذمہ دار ہے چونکہ ایوان اقتدار میں ایک عرصے سے اسکا اثر و رسوخ تھا اس نے ہر دور میں حکومت کو ریلوے کے نظام کو جدید بنانے ہی نہ دیا چین کے حالیہ دورہ کے دوران اگر وزیراعظم کی سوویت یونین کے سربراہ پیوٹن سے بھی ملاقات ہو جاتی تو بہتر ہوتا ‘ فارن آفس کو پتہ تھا کہ چین میں اسوقت پیوٹن بھی موجود ہوگا جبکہ عمران خان وہاں جائیں گے لہٰذا اگر وہ تھوڑی سی محنت کرتا تو بیجنگ میں کانفرنس کی سائیڈ لائن پر ان دو رہنماﺅں کے درمیان ملاقات کا اہتمام کیا جاسکتا تھا‘ وزیراعظم عرب امارات سے بھی ہو آئے ہیں اور ایران اور سعودی عرب کی یاترا بھی کر آئے ہیں اور چین کے بھی دو چکر لگا آئے ہیں۔

 کوئی مضائقہ نہیں اگر وہ اب روس کا بھی ایک تفصیلی دورہ کرلیں‘ آج کل چین اور روس میں وہ نظریاتی تناﺅ نہیں جو ماﺅزے تنگ کے دور اقتدار میں تھا آج کافی حد تک وہ ایک صفحے پر نظر آرہے ہیں اور ان دونوں سپر پاورز کی اس ہم آہنگی کا فائدہ اٹھا کر ہم روس کےساتھ بھی اپنے معاملات درست کرلیں تو بہتر ہوگا گو امریکہ اور بھارت دونوں کی یہ کوشش ہوگی کہ پاکستان اور روس کے درمیان محبت کی پینگیں کسی طور بھی نہ بڑھیں ہماری سیاسی قیادت کو معلوم ہونا چاہئے کہ ہمارے فارن آفس کے اندر امریکہ کی اچھی خاصی مضبوط لابی موجود ہے جو کسی صورت نہیں چاہتی کہ پاکستان اور امریکہ میں دوریاں پیدا ہوں اور یا پھر پاکستان اور روس آپس میں شیر و شکر ہو جائیں‘ ہمیں امریکہ سے تعلقات بھی نہیں بگاڑنے اور روس کےساتھ اپنے تعلقات بھی مضبوط کرنے ہیں۔

 ان دونوں کے بین بین ایک رستہ ہمیں تلاش کرنا ہے ‘ہاں تو بات ہم نے شروع کی تھی ریلوے ٹریک کی تو اس ضمن میں مزید عرض یہ ہے کہ جس طرح پشاور سے کراچی تک ڈبل ٹریک بچھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اسی ٹریک کو راولپنڈی سے کوہاٹ‘ بنوں‘لکی مروت ‘ٹانک‘ تنائی ‘ مغل کوٹ ‘ فورٹ سنڈیمن اور بلوچستان تک ڈبل کیا جا سکتا ہے اس سے نہ صرف یہ کہ بلوچستان جانے کیلئے ایک متبادل ریلوے لائن دستیاب ہو جائے گی ڈیرہ اسماعیل خان سے بھی پشاور کا بذریعہ ریل رابطہ ہوجائےگا جب مال گاڑیاں بھی اس ریلوے ٹریک پر چلنا شروع ہو جائیں گی تو اشیائے صرف سستے داموں ملک کے دور دراز علاقوں میں بسنے والے پاکستانیوں کو میسر آسکیں گی نیز سڑکوں پر ٹریفک کا دباﺅ بھی کافی حد تک کم ہوجائیگا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔