211

’پاکستان کو88 ارب 19 کروڑ امریکی ڈالر کے قرضے ادا کرنے ہیں‘ 

اسلام آباد۔سینیٹ کوحکومت نے آگاہ کیا ہے کہ پاکستان پر 88 ارب 19 کروڑ امریکی ڈالر کے غیر ملکی قرضے ہیں،اس سال ہمیں 9.2ارب ڈالر قرضہ واپس کرنا ہے جبکہ پانچ سال میں 37 ارب ڈالر کا قرضہ واپس کرنا ہے۔

مارچ میں ملک میں افراط زر کی شرح 9.4 فیصد تھی جبکہ اس وقت 8.8 فیصد ہے،(ن) لیگ کے دور میں افراط زر کی شرح ڈبل ڈیجٹ پر جبکہ پیپلز پارٹی کے دور میں یہ 25 فیصد پر چلی گئی تھی، گزشتہ چار سالوں کے دوران صوبائی حکومتوں سے 119 ترقیاتی اسکیمیں موصول ہوئیں جس میں سے سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی نے صوبائی حکومتوں کی جانب سے اسپانسر کردہ 43 منصوبوں کی منظوری دی،جبکہ 31 منصوبے صوبوں کو واپس کیئے گئے۔

ان خیالات کا اظہار جمعرات کو سینیٹ میں وقفہ سوالات کے دوران وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر اور وزیر منصوبہ بندی وترقی خسرو بختیار نے ارکان کے سوالوں کے جواب میں کیا،سینیٹرعتیق شیخ کے سوال کے جواب میں وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے ایوان کو بتایا کہ وسل بلور(مخبر)کو متعلقہ فیلڈ فارمیشن کے چیف کمشنر کے سامنے یا براہ راست فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں شکایت درج کرائے گا،دوسرے کیس میں ایف بی آر قانون کے مطابق ضروری کے کاروائی کے لیئے متعلقہ فیلڈ فارمیشن کو شکایت کو بھیجے گا،سینیٹر طلحہ محمود کے سوال کے جواب میں وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے ایوان کو بتایا کہ پاکستان پر 88199 ملین امریکی ڈالر کے غیر ملکی قرضے ہیں،اس سال ہمیں 9.2 ارب ڈالر کا قرضہ واپس کرنا ہے جبکہ پانچ سال میں 37 ارب ڈالر واپس کرنے ہیں،پاکستان نے 2013/14 میں  79 کروڑ، 97 لاکھ ڈالرز سود سمیت  6 ارب 90 کروڑ 89 لاکھ ڈالرز قرضہ واپس کیا،سال 2014/15 میں پاکستان نے 99 کروڑ 51 لاکھ ڈالرز سود سمیت  5 ارب 4 کروڑ 72 لاکھ ڈالرز قرضہ واپس کیا،پاکستان نے سال 2015/16 میں 1ارب 14 کروڑ 25 لاکھ ڈالر سود سمیت 4 ارب 45 کروڑ ڈالرز قرضہ واپس کیا پاکستان نے سال 2016/17 کے دوران 1ارب 32 کروڑ 81 لاکھ ڈالرز سود سمیت 6 ارب 52 کروڑ 38 لاکھ ڈالرز قرضہ واپس کیا،پاکستان نے سال 2017/18 کے دوران 1 ارب 76 کروڑ 43 لاکھ ڈالرز سود سمیت 6 ارب 2 کروڑ 52 لاکھ ڈالرز قرضہ واپس کیا،پاکستان نے مالی سال 2018/19 میں جنوری 2019 تک 1ارب 29 کروڑ 52 لاکھ ڈالرز سود سمیت  4 ارب 55 کروڑ 15 لاکھ ڈالرز قرضہ واپس کیا،سینیٹر طلحہ محمود کے سوال کے جواب میں وزیر منصوبہ بندی وترقی خسرو بختیار نے ایوان کو آگاہ کیا کہ گزشتہ چار سالوں کے دوران صوبائی حکومتوں سے 119 ترقیاتی اسکیمیں موصول ہوئیں جس میں سے سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی نے صوبائی حکومتوں کی جانب سے اسپانسر کردہ 43 منصوبوں کی منظوری دی،۔

 گزشتہ چار سالوں کے دوران صوبائی حکومتوں کی جانب سے اسپانسر شدہ 31 منصوبے صوبوں کو واپس کیئے گئے،منصوبوں کو واپس کرنے کی اہم وجہ منصوبے کے لیئے فنانسنگ ذرائع کی غیر یقینی تھی،ہم گوادر کو نیشنل گرڈ سے منسلک کر رہے ہیں گوادر کے ماسٹر پلان پر اتفاق رائے ہو گیا ہے،سینیٹر مشتاق احمد کے سوال کے جواب میں وزیر ریونیو نے کہا جلد ہی چند ماہ میں این ایف سی ایوارڈ کا معاملہ طے کر لیا جائے گا،سینیٹر مشتاق احمد کے سوال کے جواب میں وزیر ریونیو حماد اظہر نے کہا کہ افراط زر کی شرح 6 فیصد ہماری حکومت کو ملی تھی اس وقت 8.8 فیصد ہے،ن لیگ کے دور میں یہ ڈبل ڈیجٹ میں چلی گئی تھی جبکہ پیپلز پارٹی کے دور میں یہ 25 فیصد پر چلی گئی تھی،نومبر 2018 میں 6.5،دسمبر2018 میں 6.2،جنوری2019 میں 7.2،فروری میں 8.2 جبکہ مارچ میں افراد زر کی شرح 9.4 فیصد تھی،سینیٹر مشتاق احمد کے سوال کے جواب میں وزیر ریونیو حماد اظہر نے کہا کہ ہم چارٹر آف اکنامی سے متفق ہیں،گزشتہ سال میں شرح نمو 5.22 فیصد رہی لیکن یہ صارف پر مبنی نمو تھی۔