103

جانوروںسے استفادہ

چند برس قبل ایک خبر کے ذرےعے پتہ چلا تھا کہ امریکہ نے بندروں کو فوجی ٹریننگ دینا شروع کر دی ہے اور اس کےلئے جنگلوں میں باقاعدہ انہیں سدھانے کےلئے فوجی انسٹرکٹر کام کررہے ہیں۔ بندر کو ہم نے میلوں ٹھیلوں میں بندوق چلاتے تو دیکھا ہے مگر اس طرح باقاعدہ جنگ کےلئے اور خاص طور پر بارودی سرنگوں کی تلاش کےلئے بندروں کو استعمال کر نا قدرے حیرت کا باعث ہے لیکن اگلے روز روس کے سائنسدانو ںکے حوالے سے ایک خبر نظر سے گزری تو ہم چونک گئے۔ پہلے آپ خبر ملاحظہ کیجیے ”روسی سائنسدانوں کاکہنا ہے کہ اب میدان جنگ میں بم تلاش کرنے کےلئے کتوں کی ضرورت نہیں پڑےگی کیونکہ انکی جگہ چوہے لے لیں گے۔روسی ماہرین کے مطابق چوہوں کو نصب کیا ہوا بارودی مواڈ ھونڈنے کےلئے تربیت دی جاسکتی ہے‘کتوں کے برعکس چوہے ناقابل رسائی نظر آنے والے چھوٹے سے چھوٹے سوراخوں اور دراڑوں میں بھی گھس سکتے ہیںاس طرح یہ ملبے کے بہت نیچے تک رستہ تلاش کر لیتے ہیں۔ چوہوں کی اس خصوصیت کی بنا پر ریسکیو بہترطور پر فیصلہ کر سکتے ہیں کہ پھنسے ہوئے افراد تک راستہ کس طرف سے بنانا چاہئے‘یہ تجربات کامیاب ہونے کی صورت میں روس چوہوں کی انوکھی فوج تیار کرنے میں کامیاب ہو جائےگا اوریوں وہ امریکہ کو بھی حیرت میں ڈال سکتا ہے“

جانوروں سے بار برداری دودھ اور گوشت کے حصول کی بات پرانی ہو چکی ہے اب تو جنگل کی مخلوق سے بھی کام لینے کی سوچ ابھر رہی ہے‘دواﺅں کے تجربے تو چوہوں پر ہوتے تھے مگر اب چوہوں سے مزید استفادہ کیا جارہاہے ایک زمانے میں میدان جنگ سے بھاگنے والی بزدل فوج کو چوہوں کی فوج قرار دیا جاتا تھاآ ج روس میں چوہوں کی فورس تیا ر کی جا رہی ہے۔ممکن ہے چوہوں کی فوج ظفر موج سے مقابلے کےلئے ‘امریکہ بہادر‘ اپنی بلیاں سامنے لے آئے کیونکہ اب تو کچھ بھی ہوسکتا ہے کہ امریکہ کے سربراہ ڈونلڈ ٹرمپ ہیںاور وہ اس طرح کے کارنامے سرانجام دینے میں مہارت رکھتے ہیں۔ فی الوقت تو صدر ٹرمپ پر‘ روس کی مدد سے الیکشن جیتنے کا الزام ہے بعض حلقوں کے مطابق صدر ٹرمپ کو صدارت سے الگ کرنے کی تیاریاں بھی کی جارہی ہےں۔سننے میں آرہا ہے کہ ٹرمپ جیسا ماڈرن صدر امریکا افورڈ نہیں کر سکتا یاد رہے کہ ٹرمپ نے چند روز قبل کہا تھا کہ وہ ماڈرن صدر ہیں اسلئے سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں‘ عزیز قارئین! یہ تو ترقی یافتہ ممالک بلکہ بڑی طاقتوں کی باتیں ہیںہم تو ان قوموں سے بہت پیچھے ہیں۔ہمارے ہاں تو ابھی تک گدھوں سے ہی استفادہ کیا جارہا ہے گدھوں پر سمگلنگ ہوتی ہے گدھوں کی کھالیں چین کو فروخت ہونے لگی ہیں اور اسکا گوشت بعض جگہوں پر ’گدھا کڑاہی ‘ کے طور پر استعمال ہوتا ہے خوشی کی بات یہ ہے کہ رواں سال میں گدھوں کی آبادی میں ایک لاکھ اضافہ ہو گیا ہے‘ایک اقتصادی سروے کے مطابق پاکستان میں اب گدھوں کی تعداد باون لاکھ ہو چکی ہے ہماری رہائشی سوسائٹی میں گدھے گاڑی والا نوجوان کوڑا اٹھانے آتا ہے ایک روزبتانے لگا ’ میرا گدھا کبھی کبھی بھاگ بھی جاتا ہے۔

ایک روز میں اپنے گدھے کوکان سے پکڑ کے تھانے کے سامنے سے گزرا تو ایک سپاہی کو شرارت سوجھی ‘ کہنے لگا ’ ابے گھامڑ ! اپنے بھائی کو کہاں کھینچے لئے جارہے ہو‘میں نے برجستہ ایسا جواب دیا کہ ٹھنڈا ہو گیا میں نے کہا ’اسلئے کہ یہ کہیں پولیس میں بھرتی نہ ہوجائے‘لیکن اس سے زیادہ فکر انگیز بات ہمارے ایک دوست نے بتائی۔ نفسیات کے پروفیسر اپنے طالب علموں کو حیوانی نفسیات کے متعلق مثال دے کر سمجھا رہے تھے۔ پوچھا ’ ایک گدھے کے سامنے ایک پانی کی بالٹی رکھ دیں اور دوسری شراب کی تو وہ کس بالٹی میں منہ مارے گا؟ ایک طالب علم کی آواز آئی ’پانی کی بالٹی میں‘ پروفیسر صاحب نے نکتہ اٹھایا پانی کی بالٹی ہی میں کیوں ؟ اسی طالب علم کی دوبارہ آواز آئی’ گدھا جوہوا‘بات چوہوںکی ہورہی تھی کہ روس چوہوں کی فوج تیار کر رہا ہے‘ہمارے ہاں چوہوں نے ہر جگہ اودھم مچایا ہوا ہے۔یہ پی آئی اے کے جہازوں تک میں گھس کر ان میں رخنہ ڈال دےتے ہیں اب تو جہازوں میں چوہے مار گولیاں رکھی جانے لگی ہیں۔ظاہر ہے جہاز میں چوہے پکڑنے والی ’کڑکیاں ‘رکھنا تو مشکل ہے ہم نے لاہور کے ریلوے سٹیشن پر بڑے بڑے چوہے دیکھے ہیںجو بلیوںکے سامنے اکڑ کر کھڑے ہو جاتے ہیں‘یہ کھاتے پیتے چوہے بلیوںسے بھی نہیں ڈرتے ہمارے لوگ چوہوں کو پسند نہیں کرتے تو کیا ہی اچھا ہو‘ پاکستان روس کو اپنے چوہے سپلائی کرنا شروع کر دے اس سے زرمبادلہ تو ہاتھ آئے گا ہی‘ قوم کو چوہوں سے بھی نجات مل جائے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔