92

چینی سکینڈل

جب سی پیک کاغلغلہ بلندہونے لگاتو انہی سطورمیں یہ عرض کیاگیاتھاکہ اب کفالت نظام کی داغ بیل ڈالنی چاہئے تاکہ کوئی بھی غیر ملکی بالخصوص سی پیک کی آڑ میں آنے والے چینی باشندے بغیر پاکستانی کفیل کے کاروبار نہ کرسکیں کیونکہ یہی پابندیاں بیرون ملک پاکستانی باشندوںپربھی عائد ہیں‘یہ غالباً تین سال قبل کی بات ہے اس وقت معاملات بہت ہی ابتدائی مراحل میں تھے ا سلئے ہماری معروضات کو درخور اعتناءنہ سمجھا گیا ویسے بھی جب پالیسی ساز آنکھیں اور کا ن بند کرلیں تو ان کون سمجھا سکتاہے‘ چنانچہ حالات مےںجس بگاڑ کی طرف اشارہ کیا گیا تھا وہ رفتہ رفتہ سامنے آنا شروع ہوا‘ سی پیک کے تعمیراتی منصوبوں پر کام کےلئے بہت سے مقامات پر چینی ورکنگ فورس کو پاکستا ن لایاگیا اور پھر پنجاب میں سب نے دیکھا کہ کس طرح چینی باشندوں نے پنجاب پولیس کی چھترول کرکے ان کی گاڑی پرچڑھائی بھی کردی تھی تب پاک چین دوستی کے نشے میںچور حکمران اورپالیسی ساز اس کو معمولی واقعہ قراردےکر سی پیک کے وسیع تر مفاد میں فراموش کرنے کی نصیحت کرنے لگے مگر کوئی چیک نہ رکھاگیا پھرچینی باشندوں کی آمدا ور وطن عزیز میں پراسرار سرگرمیوں کی رفتارتیزترہوتی چلی گئی‘اچانک میڈیا پر خبر چلنے لگتی کہ چینی باشندے نے مسلمان ہوکر پاکستان لڑکی سے شاد ی کرلی سوشل میڈیا سے ہوتے ہوئے یہ خبر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر چھاجاتی اور خصوصی کوریج کی حامل ٹھہرتی۔

میڈیا بھی تو بھیڑ چال کاشکارہوکر اس قسم کی خبروں کو اچھالنے میں مصروف ہوگیا کسی نے بھی حالات کی سنگینی کی طرف توجہ دینے کی زحمت گوارہ نہیں کی کہ مبادا پاک چین دوستی کو نظر لگ جائے ‘مگر اب چینی باشندوںکی شادی سکینڈل کے سامنے آنے والے حقائق نے سب کچھ طشت ازبام کرکے رکھ دیاہے پنجاب میں پکڑے جانے والے چینی باشندوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے جن کاکام شادی کا جھانسہ دےکر پاکستانی لڑکیوں کو اپنے جال میں پھنسا کر ان سے شاد ی کرکے چین لے جانااور وہاں ان سے جسم فروشی کامکروہ دھندا کراناتھا ‘ہم نے ہر چپٹی ناک والے کو چینی سمجھ کر یہ تصور کرلیاتھاکہ یہ چین کے کسی رئیس گھرانے کافرد ہوگا جو پاکستان میں سرمایہ کاری کی غرض سے آیاہے ویسے بھی ہمارے لوگوںکی سادہ لوحی کایہ عالم ہے کہ انکے نزدیک غربت اورجرائم کسی اور ملک میں ہوہی نہیں سکتے خاص طور پرچین کے متعلق ہمارے عام لوگوں کے ذہنوںمیںیہی بات بیٹھی ہوئی ہے کہ یہ اخلاقی لحاظ سے سب سے مضبو ط قوم ہے اور یہاں غربت نام کی کوئی شے نہیں‘ حالانکہ جہاں تک اخلاقی پستی وبلندی کاتعلق ہے تودنیاکاکوئی بھی معاشرہ اس سے کسی بھی طرح مستثنیٰ قرارنہیںدیاجاسکتا ‘ہر قوم کی طرح چین میں بھی جرائم پیشہ ا فراد کی بڑی تعداد موجود ہے چونکہ قوانین پرعملدر آمدسخت ہے اسلئے کھل کروارداتیں نہیں کرسکتے جسکے بعد ان میں سے بعض نے پاکستان کو نسبتاً سستی اور آسان مارکیٹ سمجھ کریہاں کارخ کرلیا اور پہلے مرحلہ میں شادی کے نام پر جرائم کی دکان کھول لی اور یہ دکان خوب چلی کیونکہ ہمارے ہاں والدین مجبور بھی ہیں اورلالچی بھی‘ مجبور والدین تو پاکستان میں جہیز کی لعنت کی وجہ سے چینی باشندوں کےساتھ بیٹیوں کی شادیوں پر خوشیاں منانے لگے جبکہ لالچی والدین محض بیرون ملک بیٹی بھجوانے کی خاطر اس جھانسے میں آتے چلے گئے۔

 اس سلسلہ میں کم علمی کی وجہ سے بھی بہت سے والدین دھوکا کھاتے چلے گئے ہمارے ہاں اب یہ فیشن بن گیاہے کہ دوتین چینی باشندوں کی خدمات کرائے پرحاصل کرکے ان کےلئے پوش علاقوں میں دفاتر حاصل کر لئے جاتے ہیں پھر ان کو بہت بڑے سرمایہ کار ظاہر کرکے ان کے پاکستانی ایجنٹ سرگرم ہو جاتے ہیں اور مقامی کاروباری اور سرمایہ کار برادری کےساتھ انکی ملاقاتیں شروع کردی جاتی ہیں‘رینٹ کی بڑی بڑی گاڑیاں مقامی سرمایہ کاروں کو مرعوب کرنے کےلئے کافی ہوتی ہیں‘ اسلئے وہ بھی مزید تحقیق کی ضرورت گوارہ نہیں کرتے اور ان نوسربازوں کےساتھ بڑی بڑی ڈیلز میں مصروف ہوجاتے ہیں ہمارے بعض دوستوںنے اس حوالہ سے ضلع مہمند کاخصوصی طورپرحوالہ دیا ہے کہ کس طرح قیمتی معدنیات کی کانوںکاوزٹ کرواکربعض مقامی کان مالکان یا ٹھیکیداروں کےساتھ ان چینی باشندوںکی ڈیل کروانے کی کوشش کی جاتی ہے بتایاجاتاہے کہ بعض کیسوں میںتو کچھ لو گ لٹ بھی چکے ہیں مگر تاحال ایسے واقعات رپورٹ نہیں کئے جارہے اور ڈر ہے کہ روک تھا م نہ کی گئی تو شادی سکینڈل سے بھی بڑا سکینڈل سامنے آسکتاہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔