195

قبائلی اضلاع کی نشستوں میں اضافہ

قومی اسمبلی نے دستور میں 26ویں ترمیم کی منظوری دے دی ہے آئینی ترمیمی بل کی حمایت میں 288ووٹ آئے جبکہ کسی نے بھی مخالفت نہےں کی‘آئین میں ترمیم کے ساتھ قومی اسمبلی میں ان اضلاع کے لئے مختص12نشستیں برقرار رہےں گی جبکہ صوبائی اسمبلی میں نئے اضلاع کی نمائندگی 16سے بڑھ کر 24 ہوجائے گی وطن عزیز کی پارلیمانی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کسی نجی بل پر حکومت اور اپوزیشن کے اتفاق سے آئینی ترمیم منظور ہوئی ہو قومی اسمبلی میں یہ بل ایم این اے محسن داوڑ نے پیش کیا دستور میں ترمیم اور خیبرپختونخوا کا حصہ بننے والے قبائلی اضلاع کےلئے صوبائی اسمبلی کی نشستیں بڑھنے سے کرم اور جنوبی وزیرستان میں نشستوں کی تعداد ڈبل ہوجائے گی 26 ویں آئینی ترمیم کی توثیق کے ساتھ خیبرپختونخوا اسمبلی کےلئے نشستوں کی تعداد155ہوجائےگی خیبرپختونخوا کو قومی اسمبلی میں 61نشستیں مل جائیں گی وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پوری قوم قبائلی اضلاع کیساتھ کھڑی ہے اور یہ کہ تمام صوبے این ایف سی کا 3فیصدنئے اضلاع کو دیں گے‘ اس حقیقت سے انکار ممکن نہےں کہ وسیع جغرافیے کے حامل قبائلی اضلاع ماضی قریب میں بہت نقصان اٹھاچکے ہےں حقیقت یہ ہے کہ خیبرپختونخوا کے اپنے وسائل سے ان نئے اضلاع میں تعمیر وترقی کے حوالہ سے ضروریات پوری کرناآسان نہےں ان علاقوں کو ترقی کے دھارے میں لانے کےلئے فنڈز کا بروقت اجراءضروری ہے۔

 جس کےلئے اب کاغذی کاروائیوں کو ڈیڈ لائن کے ساتھ مکمل کرنا ہوگا اس سب کےساتھ مدنظر یہ بات بھی رکھنی چاہےے کہ خیبرپختونخوا مجموعی طورپر بھی ایک طویل عرصہ سے متعدد مشکلات کا سامنا کررہا ہے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی اور امن وامان کی صورتحال سے صنعتی وتجارتی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئی ہےں صوبے کا انفراسٹرکچر بھی اس سارے منظرنامے میں ناکافی ہوکر رہ گیا اس سب سے باوجود قبائلی اضلاع میں مہیا وسائل کیساتھ تعمیر وترقی کا کام بھی جاری ہے قبائلی اضلاع کےلئے فنڈز کا اجراءاور وزیراعظم کی جانب سے این ایف سی ایوارڈمیں شیئر کی یقین دہانی کے ساتھ ضرورت خیبرپختونخوا کے لئے ایک مجموعی جامع ترقیاتی پیکیج کی بھی ہے جس میں انفراسٹرکچر کی بہتری کے ساتھ صنعتی وکاروباری سرگرمیوں کے فروغ کےلئے وسائل کی فراہمی اور مراعات بھی شامل ہوں۔

ادویہ ساز کمپنیوں کا انکار؟

وطن عزیز کی ادویہ ساز کمپنیوں نے 395ادویات کی قیمتوں میں کمی کرنے سے انکار کردیا ہے قومی صحت کے سیکرٹری سینٹ کی قائمہ کمیٹی کے سامنے یہ عزم بھی کررہے ہےں کہ حکومت قیمتیں کم نہ کرنے والی کمپنیوں کے خلاف ڈرگ کورٹ جائے گی اور اضافی کمایا گیا منافع بھی واپس لے گی یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ دواﺅں کی قیمتیں2001ءمیں بڑھائی گئیں پھر 2013ءمیں قیمتیں بڑھا کر بعد میں فیصلہ واپس لیاگیا ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے کمپنیوں کو اب بھی 395 دوائیاں سستی کرنے کا کہا تھا ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کمپنیوں کی مجبوری ضرور ہوسکتا ہے جس کا حقیقت پسندانہ جائزہ لئے جانے کی گنجائش موجود ہے جس کے لئے سبسڈی بھی دی جاسکتی ہے تاہم غریب مریضوں پر بہت بڑا بوجھ ڈالے جانا زیادتی ہے اس سب کے ساتھ وطن عزیز میں دوائیوں کے میعار کو یقینی بنانا ضروری ہے جس کے لئے ٹھوس حکمت عملی ترتیب دینا ہوگی۔