116

مودی کی قوم پرست ریاست

انڈیا میں گیارہ اپریل سے انیس مئی تک 29 ریاستوںاور سات وفاقی یونٹوں میںسات مراحل میں ہونیوالے انتخابات کے نتائج کا اعلان 23 مئی کو کیا جائیگا اس انتخابی مشق میں نو ے کروڑ رجسٹرڈ ووٹروںمیں سے ستر فیصد کی شمولیت متوقع ہے یہ ووٹرملک بھر میں پھیلے ہوے دس لاکھ پولنگ سٹیشنوں پر اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک میںاتنی بڑی تعداد میں لوگ ووٹ نہیں ڈالتے اس انتخابی عمل کو کسی بھی قسم کی سیاسی یا سرکاری مداخلت سے بچانے کیلئے بارہ ملین تربیت یافتہ کارکن کام کرتے ہیں الیکشن کمیشن آف انڈیا 1950 سے اب تک سولہ انتخابات کرا چکا ہے اور ایک آزاد اور خود مختار ادارے کے طور پر اسکی کارکردگی کو متنازعہ نہیں سمجھا جاتا پانچ برس پہلے ہونے والے انتخابات میں نریندرا مودی کی کامیابی کو پچھلے تیس برسوں کی سب سے بڑی انتخابی فتح قرار دیا گیا تھا اس الیکشن میں جواہر لعل نہرو اور اندرا گاندھی کی کانگرس پارٹی نے انڈیا کی انتخابی تاریخ کی سب سے بڑی شکست کھا کر لوک سبھا کی 543 نشستوں میں سے صرف چوالیس حاصل کی تھیں نریندرا مودی کی بی جے پی نے 282سیٹیں جیت کر گذشتہ تین عشروں میں سب سے بڑا مینڈیٹ حاصل کیا تھا۔اس مرتبہ کے انتخابات میں انڈیا کے عوام نے یہ طے کرنا ہے کہ وہ جواہر لعل نہرو کی لبرل اور سیکولر سیاست کو چھوڑ کر نریندرا مودی کی مذہبی قوم پرستی والی سیاست کے تعاقب میںکس حد تک جانے کیلئے تیار ہیں بہتر برس پہلے کیمبرج کے تعلیم یافتہ نہرو نے انڈیا کو ایک ایسی سیکولر ریاست بنانے کا خواب دیکھا تھا۔

 جسمیں مذہب نے ریاست سے صرف الگ تھلگ ہی نہیں رہناتھابلکہ اسمیں تمام اقلیتوں کو اکثریت کے برابر حقوق بھی حاصل ہونے تھے اسوقت انڈیا میں مسلمانوں کی تعداد پینتیس ملین تھی جو اب 172 ملین ہو چکی ہے نہرو جس قوم کو تعویذ گنڈوںاور توہم پرستی کی دلدل سے نکال کر سائنسی طرز فکر رکھنے والی ایک ماڈرن قوم بنانا چاہتا تھا اسپر آج ایک ایسا شخص حکمرانی کر رہا ہے جس نے ممبئی میں ڈاکٹروں اور سائنسدانوں کی تقریب سے خطاب کرتے ہوے تھا کہ ” ہم بھگوان گنیشا کے پجاری ہیںہم یہ مانتے ہیںکہ اس زمانے میں یقینا کوئی ایسا پلاسٹک سرجن ہو گا جس نے ہاتھی کے سر کو انسانی جسم پر لگا دیا تھا “ اس قسم کی پرانی اور فرسودہ سوچ رکھنے والا حکمران سوا ارب سے زیادہ لوگوں کے ملک کوکس سمت میں لے جا سکتا ہے اسکا مظاہرہ ہم پچھلے پانچ برسوں میں دیکھ چکے ہیںانڈیا کے مسلمان جو کل آبادی کا چودہ فیصدہیںکو وزیر اعظم مودی کے پانچ سالہ دور حکمرانی میں بے پناہ تشدد اور قتل و غارت کا نشانہ بنایا گیاشاید ہی کوئی مہینہ ایسا ہو جس میں کسی مسلمان کو مقدس گائے کو ذبح کرنے کے جھوٹے الزام میںبے قابو ہجوم نے سفاکی سے قتل نہ کیا ہوممبئی کے بائیں بازو کے اخبارات کے مطابق ان وارداتوں میں غنڈوں کی سرکاری سرپرستی کے امکان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا قاتلوں کے خلاف کسی کاروائی کی بجائے ریاستی حکمرانوں کی مکمل خاموشی کی وجہ سے مذہبی انتہا پسندی میں اتنا اضافہ ہو چکا ہے کہ اب مودی خود بھی اس پر قابو نہیں پاسکتا‘انڈیا کی ہندو اکثریت میں تشدد کا یہ رحجان اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ اب اس نے نئے شکار تلاش کرنا شروع کر دیئے ہیں ۔

دیکھنے میں یہی آیا ہے کہ نفرت کا جن ایک مرتبہ بوتل سے باہر نکل آئے توپھر وہ کسی ایک مقام پر نہیں رکتاجولائی دو ہزار سولہ میںمودی کی آبائی ریاست گجرات میں اونچی ذات کے ہند وﺅں نے چار دلیتوں کو گائے ذبح کرنے کے الزام میںبرہنہ کر کے پہلے سڑکوں پر گشت کرایا پھر انہیں بری طرح زدو کوب کرکے زخمی حالت میں چھوڑ دیا وزیر اعظم مودی کے دور میںمسلمانوں ‘ دلیتوں اور مسیحیوں کے علاوہ سکھوں حتیٰ کہ لبرل سوچ رکھنے والے تعلیم یافتہ ہندووں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا انڈین معاشرے میں سیاسی اور مذہبی اختلافات مودی کے دور سے پہلے بھی پائے جاتے تھے مگر اب یہ اختلافات ایک کلچر وار کی صورت اختیار چکے ہیںانڈیا کے مشہور ادیب اورصحافی آتش تاثیر نے کہاہے کہ مودی نے انڈیا کی سیاست کو دائیں یا بائیںبازو میں تقسیم کرنے کی بجائے ایک بڑے اور گہرے تضاد میں الجھا دیا ہے تاثیر نے ٹائم میگزین کی حالیہ اشاعت میں لکھا ہے کہ انڈین ریاست کا وہ کردار جسے معماران قوم نے وضع کیا تھا اب قصئہ پارینہ بن چکا ہے اسکی رائے میں کل تک جو آدرش انڈیا کیلئے باعث فخر تھے اب وہ ہندو اکثریت کیلئے مشکوک اور ناقابل اعتبار ہو چکے ہیں۔

 اب اقلیتوں کے علاوہ بڑے تعلیمی اور تجارتی اداروں کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے آزاد میڈیا اور اعلیٰ تعلیم کی دی ہوئی روشن خیال سوچ جو کبھی انڈین سیکولرزم کی پہچان ہوا کرتی تھی کو اب اکثریت کےخلاف ایک بڑی سازش سمجھا جاتا ہے‘مودی کیونکہ خود بھی نچلے طبقات سے تعلق رکھتا ہے اسلئے اسکے انتخاب کو بھارتیہ جنتا پارٹی نے مقبولیت حاصل کرنے کیلئے ایک طبقاتی انقلاب کا لبادہ اوڑھا دیامودی نے کانگرس فری انڈیا یعنی کانگرس پارٹی کے مکمل خاتمے کا نعرہ لگایا تو اسکے پیچھے ہندو اکثریت اور تمام اقلیتوں کو اکٹھا کر کے ایک متحد قوم بنانے کا ارادہ نہ تھا بلکہ اسکا مقصد مذہبی قوم پرستی کی سیاست کو ترویج دینا تھا انڈیا مودی کی وزارت عظمیٰ سے پہلے بھی اقلیتوں کیلئے ایک دہکتا ہوا الاﺅ تھا انیس سو چوراسی میں اندرا گاندھی کے سکھ باڈی گارڈوں کے ہاتھوں قتل ہونے کے فوراّّ بعد دہلی کی سڑکوں پر لگ بھگ تین ہزار سکھوں کو ہندو ہجوم نے موت کی نیند سلا دیا تھا دو ہزار دو میں مودی کی وزارت اعلیٰ کے دوران گجرات میں ایک ہزار سے زیادہ مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا تھا ان دنوںوزیر اعلیٰ نریندرا مودی نے جس ہجوم کا ساتھ دیا تھا وہ اب پورے ملک میں پھیل چکا ہے مودی اور اسکی بی جے پی اس مذہبی قوم پرست ہجوم کی کہیں خفیہ اور کہیں کھلم کھلا سرپرستی کر رہی ہے اس سے ملتی جلتی سیاست بعض مغربی ممالک میں بھی پروان چڑھ رہی ہے لیکن وہاں اس کے رنگ قدرے مختلف ہیں ۔

امریکہ میںمذہبی قوم پرستی کی بجائے سفید فام نسل پرستی ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت میںانتشار اور ہیجان پھیلا رہی ہے برطانیہ کی سفید اکثریت مہاجرین سے نفرت کرنے کی بنا پر یورپی یونین سے الگ ہورہی ہے‘ یورپ کی سفید اکثریتیں اس خوف میں مبتلا ہیں کہ مہاجرین انہیں اقلیت میں بدل دینگے اب 2019 میںنریندرا مودی مغربی ملکوں کی سیاست کی تقلیدکرتے ہوے مذہبی قوم پرستی کے رتھ پر بیٹھ کر الیکشن جیتنا چاہتا ہے اس کے پہلے دور حکومت میں انڈیا نے اقتصادی طور پر خاصی ترقی کی ہے امریکہ‘ یورپ اور چین سے تعلقات بھی بہتر ہوئے ہیںدوسری طرف کانگرس کو راہول سے بہتر کوئی لیڈر میسر نہیںان حقائق کی روشنی میں حالات نریندرا مودی کے دوسرے دور حکمرانی کی پیش گوئی کرتے نظر آرہے ہیں۔
(تصحیح۔گزشتہ کالم میں میجر جنرل آصف غفور صاحب کو غلطی سے لیفٹیننٹ جنرل لکھ دیا گیا تھا میں اس کیلئے معذرت خواہ ہوں)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔