489

چاہ بہاربمقابلہ گواد ر

اب تک طالبان اور امریکہ کے درمیان گفت و شنید کے سلسلے میں جو نتیجہ نکلا ہے اس کا لب لباب یہ ہے کہ ان کے درمیان یہ معاہدہ طے پا چکا ہے کہ افغانستان سے تمام خارجی افواج کو نکال لیا جائے گاطالبان کی طرف سے اس گارنٹی دینے کے بعد افغانستان کی سرزمین کو آئندہ کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں کیا جائے گا ‘ امریکہ کے اصرار کے باوجود طالبان نے اس بات سے قطعاً انکار کیا ہے کہ ان کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں موجود افغان حکومت کو شامل کیا جائے کیونکہ ان کے نزدیک وہ غیر آئینی اور ناجائز ہے اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ افغان حکومت برابر کوشش کرتی رہی ہے کہ طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کو کسی نہ کسی طریقے سے سبوتاژ کیا جائے افغانیوں کی مرضی اور احساسا ت کے خلاف افغان صدر اشرف غنی نے امریکی صدر ٹرمپ سے کہا کہ وہ افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا بالکل نہ کریں اس ضمن میں قطر میں ہونےوالے مذاکرات تعطل کا شکار بھی ہوئے یہ بات تو طے ہے کہ اگر افغانستان میں ایسی حکومت برسراقتدار آجاتی ہے کہ جو طالبان کیلئے نرم گوشہ رکھتی ہے تو اس صورت میں تو پھر بھارت افغانستان کو پاکستان کےخلاف استعمال کرنےکی کوشش میں کامیاب بالکل نہیں ہو سکتا یہ بات بھی طے ہے کہ امریکہ طالبان کے طالبان کے خلاف جنگ ہار چکا ہے بہتر ہو گا اگر اشرف غنی اور ان کے حواری نوشتہ دیوار پڑھ لیں یہاں اس بات کا ذکر بے جا نہ ہو گا کہ بلوچستان کے نزدیک ایران کے علاقے میں بھارت نے چاہ بہار کی بندرگاہ محض اس لئے ڈویلپ کی کہ پاکستان کو تنہا کیا جائے اور اسے بائی پاس کیا جائے افغانستان اور وسطی ایشیا کو جو سب سے قدرتی اور موثر راستہ جاتا ہے وہ صرف پاکستان کی سرزمین سے ہی گذر کر جاتا ہے اور جب سی پیک مکمل طور پر فنکشنل ہو جائے گا ۔

تو اس روٹ کی افادیت مزید آشکار ہو جائےگی حیرت کی بات ہے کہ بھارت نے بین الاقوامی فورمز میں میڈیا کے ذریعے ایک مہم چلاکر دنیا کو یہ تاثر دے کر گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے کہ چاہ بہار کی بندرگاہ گوادر کی بندرگاہ سے بہتر ہے لیکن اس کا یہ پراپیگنڈہ اسلئے فیل ہوا ہے کہ زمینی حقائق بھارت کے موقف کے بالکل برعکس ہیں ان دونوں بندرگاہوں کے درمیان کافاصلہ72کلو میٹرہے یہ دونوں بندرگاہیں گہری بندرگاہیں ہیں لیکن گوادر کی گہرائی چاہ بہار سے کافی زیادہ ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ بڑے بڑے بحری جہاز یہاں بہ آسانی لنگر انداز ہو سکتے ہیں گوادر کو سڑکوں کے ایک وسیع نیٹ ورک کے ذریعے چین سے منسلک کیا جا رہا ہے اور پھر اس کے ذریعے اس کا زمینی رابطہ روس اور وسطی ایشیائی ممالک کےساتھ بھی ممکن ہو جائے گا کچھ اس قسم کی سکیم بھارت ایران اور افغانستان نے بھی بنائی ہے کہ چاہ بہار کو پہلے افغانستان کے ساتھ لنک کرکے اس کے رستے پھر روس اور وسطی ایشیائی ممالک کےساتھ جوڑا جائے لیکن افغانستان کے اندر خراب سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر یہ آپشن کچھ زیادہ پائیدار نظر نہیں آ رہا افغانستان کے اندر ایک وسیع علاقے پر طالبان کا قبضہ ہے اوراب وہاں آئی ایس آئی ایس(ISIS) بھی سر اٹھا رہی ہے پاکستان میں ایک منظم فوج ہر وقت اس کی سکیورٹی کا خیال رکھتی ہے ۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس ریجن میں چین ایک بہت بڑاایکسپورٹر ہے اور خلیج سے تیل امپورٹ کرنےوالا وہ سب سے بڑا ملک ہے اور اس کی یہ ایکسپورٹ اور امپورٹ اب گوادر کے رستے ہی سے ہوا کرے گی بھارت سے وسطی ایشیائی ممالک کو جو امپورٹس ہورہی ہیں وہ چین کے مقابلے میں کافی کم ہیں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ایران پر اکثر اقوام متحدہ اقتصادی پابندیاں لگاتا چلا آ رہا ہے اس لئے بڑی طاقتیں پاکستان کو بائی پاس کرکے ایران کی بندرگاہ چاہ بہار کے ذریعے تجارت کرنے سے گریز کریں گی چاہ بہار کی بندرگاہ البتہ بھارت کیلئے کافی سود مند ہو گی اس بندگاہ سے بھارت افغانستان کےساتھ تجارت بڑھا کر پاکستان کا افغانستان پر تجارتی لحاظ سے اثرو رسوخ کم کر سکے گا ‘ گو چاہ بہار مالی طور پر گوادر کو تھوڑی حد تک نقصان پہنچائے گا لیکن وہ اسے ہلا کر نہیں رکھ سکتاگوادر ہر لحاظ سے چاہ بہار پر چھایا رہے گا جہاں تک کارگو کی ہینڈ لنگ چاہ بہار کی سالانہ استطاعت 10 سے12 ملین ٹن کارگو ہو گی جبکہ گوادر کی بندر گاہ ہر سال 300 سے 400 ملین ٹن کارگو ہینڈل کر سکے گی اس سے آپ خود اندازہ لگا لیجئے گا کہ گوادر کہاں ہے اور چاہ بہارکہاں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔