86

بینکاری اور چیک کی کہانی

ِاب جبکہ پاکستان نے آئی ایم ایف کی چوکھٹ پرایک بارپھرماتھا ٹیک دیاہے تو ہر طرف سے بحث و مباحثہ شروع ہوگیاہے معاہدے کے فوائد و نقصانات گنوائے جارہے ہیں ماضی میں آئی ایم ایف کے درپر دستک دینے والے بھی اب مخالفت میں بول رہے ہیں تو حیرت ان لوگوں کی ڈھٹائی پرہوتی ہے اپنے دور میںجو خوب تھا اب وہ ناخوب آخرکیونکر ہوگیا بہرحال ہمارا موضوع آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والا معاہدہ نہیں بلکہ ماضی میں دنیا کو جدید معاشی نظام دینے کے حوالہ سے عالم اسلام کاکردار ہے کیونکہ بہت کم لوگ یہ جانتے ہونگے کہ جدیدبینکاری میں بنیادی اہمیت کے حامل چیک سسٹم کی بنیاد مسلمانوں رکھی تھی بعدازاں اس نظام کو نہ صرف وسعت دی بلکہ استحکام بھی بخشا جس نے پھر 17ویں صدی عیسوی میں جدید بینکاری کی دنیامیںانقلاب برپاکردیاتھا نظام بینکار ی آنے سے سرمایہ کاروںاورتاجروں اور ساتھ ہی کاروباری برادری کو بہت سہولت ملی کیونکہ اب ان کو اپنے ساتھ بھاری رقو م پھرانے سے نجات مل گئی لیکن یہ کام قریباً ہزار سال قبل مسلمان تاجر ممکن کرکے دکھاچکے تھے یہ و ہ دورتھا کہ جب سفر کرنا انتہائی مشکل تھا قافلوں کی صورت میں لوگ ایک جگہ سے دوسری جگہ آمدورفت کیا کرتے تھے تجارتی قافلے تو بہت بڑے ہوا کرتے مگر محفوظ کوئی نہ تھا ڈاکوﺅںکے بڑے بڑے گروہ تجارتی قافلوں کی خبررکھتے اور پھر راتوںکو ان پرشبخون مارکر سب کچھ لوٹ لیتے اسلئے تجارت بڑے دل گردے کا کام تھا مگر مسلمان اس معاملہ میںبہت ہی سخت جان ثابت ہوئے دوربنوعباس میں کاروبار اور تجارت خوب پھیلی مسلمان تاجر دنیا بھر میں پھیل چکے تھے کاروبار تیزی سے بڑھ رہاتھا اسلئے اس جدت بھی آتی چلی گئی جب معاشرہ حرکت میں رہتے ہیں تو آگے بڑھنے کے نئے نئے راستے خود بخودسامنے آتے اور کامیابی کے دروازے کھلتے چلے جاتے ہیں۔

 مسلمان اس دور میں متحرک اور فعال معاشروںکے حامل تھے چنانچہ آج سے بارہ سو سال قبل صرافوں کاایک گروہ ایسا پیداہوگیاتھا جوتاجروںکومناسب شرح منافع پر بڑی بڑی رقمیں قرض دیتا انکاکام صرف روپیہ مہیا کرنا ہوتا تھا گویا انہوںنے اسی زمانے میں بینکنگ کی بنیادرکھ دی تھی یہ شخصی بینک ہواکرتے تھے اور پوری ذمہ داری اوردیانتداری کےساتھ کام کرتے تھے ان میں سے تو بعض حکومت تک کوقرض دیا کرتے تھے جس پر حکومت چار فیصد کے حساب سے منافع ادا کرتی تھی یہ لوگ نہ صرف قرض دیاکرتے تھے بلکہ حکومت اور اوربڑے کاروباری لوگوںکا روپیہ اپنے پا س جمع بھی رکھتے بڑے بڑے لوگ خطرات سے بچنے کی خاطر اپنی رقمیں ان کے پاس جمع کراتے تھے ایک شہر کے تاجر کا روپیہ لے کر اسے دوسر ے یاتیسرے شہر کارقعہ تھما دیتے جہاں انکے نمائندے مناسب شرح منافع پر ان کاروپیہ ان کو ادا کردیتے بغداد کا کوئی تاجر چاہتاتو بلخ یابخار ا کے کسی دوردرازمقام پر بغداد میں جمع کی ہوئی رقم وصول کرلیتا ،چوتھی صدی ہجری میںتویہ کام اس قدربڑھ گیا تھاکہ عموماً ایک شہر سے دوسرے شہر روپیہ اسی طریق کار کے مطابق پہنچتا جس سے تاجروںکو بہت سہولت ملی اور کاروبار خوب خوب پھیلا بعدازاں ہوتے ہوتے ان رقعوںنے سفری چیکوں کی صورت اختیا ر کرلی اور عام تاجر اپنے شہر کے بڑے ساہوکاروںسے سفری چیک لے کر تجارتی سفر اختیار کرتے ،چیک کاٹنے کارواج عباسی دور میں خوب چلاتھا چیک دراصل فارسی زبان کا لفظ ہے بعض مﺅرخین تو یہاںتک کہتے ہیں کہ چیک کو عرب میں سیدنا عمرفاروق ؓنے رواج دیا جبکہ عباسی دور میں ان کا استعمال بہت عام ہوگیا بادشاہ جن لوگوںکو کچھ دیناچاہتے ۔

انہیں اس مضمون کاچیک دیتے کہ حامل رقعہ کو اتنے روپے دے دیئے جائیں کہا جاتا ہے کہ اس دورمیںچیکوں کے ذریعہ عام خریدو فروخت بھی ہوا کرتی تھی عموماً شہزادوںاور بڑے لوگوںکوچیکو ںکے ذریعہ تنخواہ دینے کارواج شروع ہوچکاتھا بڑے لوگوں کوتنخواہ کے چیک مہینہ کے آخر میں جاری ہوتے جن کی ادائیگی پہلی تاریخوں میں ہواکرتی ،سرکاری چیکوںپر صرف وزیر خزانہ کے دستخط ہوا کرتے تھے چیکوں کارواج چوتھی صدی ہجری میںخوب پلاپھولا ،اس دور میں ساری تنخواہیں اور ادئیگیاں چیکوںکے ذریعہ ہوا کرتی تھیں حتی کے یہ رجحان اتناعام ہوا کہ نو دس درہم جیسی معمولی رقم کے بھی چیک جار ی ہونے لگے ‘ آج حالت یہ ہے کہ دنیا کو ہزار سال پہلے جدیدمالیاتی نظام سے متعارف کرانے والے مسلمانوں کے اکثر ممالک عالمی مالیاتی اداروں کے محتاج ہوکررہ گئے ہیں جن میں واحد اسلامی ایٹمی قوت پاکستان بھی شامل ہے اسی لئے اقبال کہہ گئے تھے۔
بھلادی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثریا سے زمیںپہ آسماں نے ہم کو دے مارا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔