123

گر زندگی یہی ہے جو کرتے ہیں ہم اسیر

اب کے رمضان کا آغاز ویساکھ کے آخری عشرے میں ہوا جس کی وجہ سے موسم بڑی حد تک مہربان رہا ہے پشاور میں اگرچہ بادلوں کو چھما چھم برسنے کا حکم نہیںتھا مگر اطراف سے بارشوں نہائی ہوئی ٹھنڈی ہواو¿ں کی آمد و رفت جاری رہی جس سے موسم کی حدت میں شدت کے آثار کم کم ہی پیدا ہوئے ہیں‘ حالانکہ بادلوں کے قافلے ادھر سے کئی بار گزرے اور دو ایک بار پڑاو¿ بھی کیاابھی گزشتہ کل ہی چاروں اور سے اکٹھے ہوتے ہوئے بادلوں نے پشاور کے حصے کے آسمان پر خیمے لگا دئیے تھے مگر اس سے قبل کہ وہ اپنی چھاگلوں کے منہ کھولتے ہوا میں تیزی آنا شروع ہو گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے جھکڑ چلے اور آندھی نے گرد و غبار کا وہ طوفان گلیوں میں دوڑایا کہ دروازوں اور دریچوں کے شور سے یار لوگ سہم گئے ‘یہ افطاری سے گھنٹہ بھر پہلے کا قصہ ہے کہ جب آندھی کا زور تھما اور آسمان کی طرف نگاہ اٹھی تو دور دور تک کہیں بادلوں کا نشاں نہ تھا۔ پھر رات گئے ِتک مہرباں ہوا اپنی سی سعی کرتی رہی مگر دور بھگائے ہوئے بادلوں کو واپس لانے میں کامیاب تو نہ ہو سکی تاہم ہلکی سی خنکی سے ماحول خوشگوار ہو گیا‘پھر چھوٹی سکرین نے خبر دی کہ قریب اور دور کے بہت سے علاقوں پر بادلوں نے اپنی چھاگلوں کے منہ کھول دئیے اور جل تھل ایک کر دئیے‘خوشی ہوئی کہ کہیں تو بادلوں نے ماحول کو بھگودیا کہیں تو یار لوگوں کے چہروں پر خوشی رقصاں ہوئی‘ یہ ڈھارس بھی غالب کے شعر نے بندھائی۔
 
دیکھئے غیر سے کیا خوب نبھائی اس نے
 نہ سہی ہم سے پر اس بت میں وفا ہے تو سہی

خیر اب تو ویساکھ آخری سانسوں پر ہے‘ سرسوں کی بہار جسے بسنت پالا اڑنت کہا جاتا ہے کہ سرسوں کے پیلے پھولوں کا پھوٹنا دراصل جاڑے کے اختتام کا اعلان ہو تا ہے‘کبھی اس پیلے موسم کا استقبال میلے ٹھیلوں اور گھروں میں خصوصی پکوانوں اور یاروں کی محفلوں سے ہوتا تھا اب خبر بھی نہیں ہوتی کہ کب سرسوں پھوٹی اور کب بسنت آ کر چلی بھی گئی‘ ویسے بھی اسے پچیس دنوں کا تہوار کہا جاتا ہے‘ جب آسمان نیلے پیلے لال رنگ کی چھوٹی بڑی پتنگوں سے بھر جاتا تھا‘ اب تو موسموں کی چال اور رویوں میں بہت فرق آ گیا ہے ‘پچھلے چند ایک برسوں سے کبھی موسم گرما دیر تک ڈیرے جمائے رکھتا ہے بلکہ ایک بار تو جاڑوں کے وسط تک گرم کپڑے نکالنے کی نوبت ہی نہیں آئی تھی‘اسی طرح کئی بارجاڑوں کے پوہ اور ماگھ کے مہینوں کی نسبت پھاگن کے مہینے میں جب بسنت پالا اڑنت کی آمد آمد ہو تی ہے کڑاکے کی سردی پڑنا شروع ہو جاتی ہے ۔ مجھے یاد ہے کہ جب موسموں کے بارے میںمجھے زیادہ شدھ بدھ نہ تھی خیر وہ تو اب بھی اتنی نہیں ہے مگر بات بسنت کی تھی کہ اس موسم میں آسمان پر پتنگیں اڑنا شروع کر دیتیں تومیں سوچتا کہ میرے محلے کے لڑکے بالوں کو کیسے پتا چلتا ہے کہ اچانک سارے پتنگ باز ساجن چھتوں پر چڑھ کر پتنگیں اڑانا شروع کر دیتے‘ میرے پڑوس میں ایک بہت ہی ماہر پتنگ باز دوست شہر یار (شیرو) تھا جو پتنگ اڑانے اور دوسروں کی گڈیاں کاٹنے کےلئے مشہور تھا‘ اسکے گھر کی چھت پر اس موسم میں جیسے ایک میلہ سا لگ جاتا‘اسکے شفیق ماں باپ نے کبھی محلے کے کسی لڑکے کو گھر آنے سے روکا ٹوکا نہیں‘عصر کے وقت جب ہم جاتے تو صحن کے جنوبی حصے میں اسکی بلا کی پروقار اور مہرباں ماں چائے بنا رہی ہو تی۔

چائے کے پتیلے میں وہ جب ڈوئی سے چائے کو ہوا دیتی تو مجھے بہت اچھا لگتا‘ ہمارے گھروں میں ایسا نہیں ہو تا تھا‘ایک دن میں نے اپنی والدہ سے پوچھا تو انہوںنے کہا کہ یہ کشمیر سے ہیںنا اسلئے انکا اپناانداز ہے‘ اب سوچتا ہوں ممکن ہی وہ کشمیری چائے (شیر چائے )ہی پیتے ہوں‘مجھے یہ بھی یاد ہے کہ میں نے شہریارسے ایک بار پوچھا تھا کہ پتنگ کب اڑاتے ہیں تو جواب ملا تھا جب سردی کے بعد ہوا دھیمی ہو کر مشرق سے مغرب کی طرف چلنا شروع ہو جائے تو پتنگ اڑانے کا موسم شروع ہوتا ہے‘یہ دیہاتی دانش تھی جو موسموں کے ناموں سے ماورا اپنا نظام اوقات رکھتی ہے‘شاید کسی سیانے نے ٹھیک ہی کہا ہے کہ جب ہمارے پاس گھڑی نہ تھی تو بہت وقت تھا جب سے گھڑی آگئی ہے کسی کے پاس وقت ہی نہیںہے‘ گھڑی ہی کیا اب تو بہت سی ایسی سہولتیں آ گئی ہیں جس نے ہر شخص کو غیر فعال کر دیا ہے ‘مشینوں کی حکمرانی کے زمانے میں اب ہم سانس لیتے ہیں‘ گھڑی کے الارم نے تو جسم کی قدرتی گھڑی کو بھی زنگ لگا دیا ہے‘ میری عمر کے لوگ اب بھی رات میں یا سحری کےلئے کسی الارم یا سائرن کے محتاج نہیں ہیں‘جب چاہتے ہیں جاگ جاتے ہیں مگر شاید اب بہت سے لوگوں کےلئے یہ ممکن نہیں رہا‘ زمین کے کام بڑھ جائیں تو آسمان کی طرف دیکھنے کا موقع نہیں ملتا۔

چاند کو صرف ایک دو مہینوں میں دیکھنے والوں کو اسکے طلوع کے اوقات اور زاویہ کا علم کیسے ہو سکتا ہے اور اب تو یار لوگ ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بریکنگ نیوز کےلئے چھوٹی سکرین کے سامنے بیٹھے رہتے ہیں‘ زلزلہ آ جائے توپناہ گاہ ڈھونڈنے کی بجائے ریموٹ ڈھونڈھنا شروع کر دیتے ہیں‘ چودھویں کے چاند کی خوبصورتی اور رعنائی کو بھول کر بحث میں الجھ جاتے ہیں‘چودھویں کا ہے یا پندرھویں کا ہے ایسی افرا تفری میں شب مہتاب منانے کا دماغ کسے ہو تا ہے‘ بھلا ہو میجر عامر کا کہ اب بھی اسکے جادوئی فارم ہاو¿س نیسا پور میں پورن ماشی کے سواگت کا گاہے گاہے اہتمام کیا جاتا ہے‘ بات رمضان کے پہلے عشرے کی ہو رہی ہے کہ یہ عشرہ اس بار ویساکھ کے آخری ہفتہ میں آیا ہے تو موسم کی مہربانی سے دھوپ میں قدرے نرمی اور گداز ہے اور گھروں میں چھت کے نیچے بہت سکھ اور آرام سے دن گزر رہے ہیں‘ البتہ کل سے جیٹھ کا مہینہ شروع ہو گےا ہے اگر بادلوں نے اپنا پرانا قرض چکا دیا اورپانی بھری چھاگلیں لے کر آ گئے تو یار لوگوں کے چہروں پر تناو¿ آنے سے پہلے ہی ختم ہو جائے گا‘مگر ہم جو چھوٹی سکرین کی وجہ سے اچھے خاصے ’ہوم سک ‘ ہو چکے ہیں کوئی سبیل اگر ایسی ہو جائے کہ اس سے چھٹکارا مل جائے اور ہم پھر سے موسموں کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا لیں تو شاید موسموں کو بھی مہرباں ہوتے دیر نہ لگے۔لیکن زندگی کرنے کے رنگ دھنگ اگر یہی رہے کہ ہم مشینوں کے اسیر ہوتے رہیں‘ تو پھر وہی ہو گا جو میر جی کہہ چکے ہیں۔
 گر زندگی یہی ہے جو کرتے ہیں ہم اسیر
 تو وے ہی جی گئے جو گرفتار مر گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔