132

کچھ علاج اس کا بھی اے شیشہ گراں ہے کہ نہیں

 گھر سے نکلتے وقت اور خصوصاََ پشاور سے باہر جاتے ہوئے میں ہمیشہ ابتسام سے پوچھتا ہوں کہ گاڑی کے کاغذ (رجسٹریشن بک)رکھ لئے ہیں، اتفاق سے رمضان المبارک سے پہلے کے دو مہینے مسلسل سفر میں رہا ، ایبٹ آباد،فتح جنگ ،لاہور اور اسلام آباد میں کئی کئی روزہ ادبی تقریبات میں شریک ہو نا پڑا ،سو گاڑی کے کاغذات کے بارے میں پوچھنا بھی جاری رہا ،جب پروین شاکر ٹرسٹ کے ادبی میلہ میں شرکت کے لئے جا رہا تھا تو پتہ چلا کہ گاڑی کے کاغذات نہیں مل رہے،جانے سے دو دن قبل ابتسام ہی نہیں گھر کا ہر فرد تمام ممکنہ جگہوں پر ڈھونڈتا رہا اور ہر ایک کی تان اس بات پر ٹوٹتی کہ گھر سے باہر ہی کہیں گر گئے ہوں گے، گھر میں ہوتے تو اب تک مل گئے ہوتے،ابتسام اس معاملے میں قدرے لا ابالی ضرور ہے کہ وہ کوئی بھی چیز کہیں رکھ دیتا ہے اور پھر ایک ایک سے پوچھتا پھرتا ہے، مگر کاغذ گھر میں ہوتے تو ملتے ایک ایک جگہ کو کئی کئی بار دیکھا گیا اور ہر ایک نے اپنے اپنے طور پر دیکھامگر نہ ملے اب اس کا سیدھا سیدھا مطلب یہی تھا کہ جس کے پاس کاغذ ہوں گے گاڑی اس کی ہوئی ،، مجبوراََ پروین شاکر ٹرسٹ کے کتاب میلے میں شرکت کے لئے میں اور رفعت گاڑی کی بجائے نجی کمپنی کی بس سے چلے گئے، یہ بھی چار دن کا میلہ تھا اس لئے ہمارے بعد بچوں نے ایک بار پھر پورا گھر چھان مارا مگر کاغذ نہ ملے میں نے کہا کہ پہلے تو ایف آئی آر کرا لو اور پھر ڈپلیکیٹ کے لئے اپلائی کرا لو۔

اس کے لئے اخبار میں اشتہار کی شرط بھی ہوتی ہے سو یہ کام بھی اس نے کر لیا، دوسرے دن جب ابتسام گھر سے ایف آئی آر کے لئے نکلنے والا تھا تو اسے ایک کال آئی، ادھر سے پوچھا گیا آپ ابتسام علی سید ہیں،؟ مشرقی پنجاب کے ایک قصبے سے میں شہزاد بول رہا ہوں،آپ کی گاڑی کے کاغذات میرے پاس ہیں ، آپ نشانی بتا دیں تو میں آپ کو بھیج دوںگا ، ابتسام نے پوچھا مگر آپ کے پاس میرا نمبر کیسے آیا ؟ اس نے کہا کہ میں نے کل اخبارمیں کاغذات کی گمشدگی کا پڑھا اس میں آپ کا نمبر تھا، پوچھا کہ کس اخبار میں تھا، شہزاد نے کہا میرے گھر دو اخبارات آتے ہیں لاہور کا نوائے وقت اور پشاور کا روزنامہ آج دونوں میں سے کسی ایک میں پڑھا تھا‘اب یاد نہیں، بات تو ٹھیک تھی،بک کا کلر اسے بتایا اور ساتھ ہی اسے کہا کہ اگر بک کے کسی صفحہ کی تصویر وٹس ایپ پر بھیج دیں تو موصوف نے کہا کہ یہ چھوٹا سا قصبہ ہے اور یہاں یہ سہولت میسر نہیں ہے آپ گھر کا ایڈریس مجھے ٹیکسٹ کر دیں ‘میں کورئیر کے ذریعے بھیج دوں گا‘ ابتسام نے کہا آپ کو کہاں سے کاغذات ملے ہیں ،تو اس نے کہا کہ میرا بھائی پشاور کسی کام سے گیا تھا اسے ملے تھے ،اب بات کچھ کچھ واضح ہو گئی پھر بھی اسے کہا کہ اگر بک میں درج معلومات آپ مجھے پڑھ کر سنا دیں تو مہربانی ہو گی کہ کہیں غلط کاغذ نہ منگوا لوں اس نے ادھر سے درج معلومات سنا دیں۔

 جو سو فی صد درست تھیں، در اصل ابتسام ایک گمنام آدمی کو گھر کا ایڈریس بھیجوانے میں پس و پیش سے کام لے رہا تھا‘مگر ساری معلومات درست مہیا کرنے کے بعد کوئی عذر مانع نہ تھا‘ ابتسام نے ایڈریس بھیج دیا، اس نے کہا کہ وہ کورئیر کر کے رابطہ کرتا ہے، کچھ دیر بعد اس کا پھر فون آیا کہ میرا خیال تھا کہ سو سوا سو روپے کی بات ہو گی، کر لوں گا مگر کورئیر والے زیادہ پیسے مانگ رہیں کہ یہ ڈاکومنٹ ہیں اور اس کے ریٹ زیادہ ہیں ، مجھے اچھا نہیں لگ رہا مگر مہینہ کی آخری تاریخیں ہے میرے پاس اتنے پیسے نہیں ،تو اب کیا کیا جائے ابتسام نے اسے کہا میں ایزی پیسہ کے ذریعے پیسے بھیج رہا ہوں آپ اپنا آئی کارڈ نمبر بھیج دیں اس نے نمبر اور ابتسام نے مطلوبہ سے کچھ زیادہ رقم بھیج دی، اس نے رسید نمبر بھیج دیا، یہاں تک تو سب ٹھیک تھا، مگر جب دو تین دن صبح شام کورئیر سے رابطہ کے با وجود کاغذات نہ ملے تو پھر اسے فون کیا مگر اب اس کا نمبر بند تھا‘ اپنے طور پر ہم نے معلومات کیں وہ بہاولپور کا نواحی علاقہ بتا رہا تھا،سم منڈی بہاو¿الدین سے لی گئی تھی ،آئی کارڈ نمبر جس دوکاندار کا تھا وہ سر گودھا کا نکلا‘ کچھ دوستوں نے مدد کی تو پتا چلا کہ شہزاد نام کے ان صاحب کے پاس کم و بیش چار سم ہیں کبھی ایک کبھی دوسری بند کرتا رہتاہے گویا فراڈ،مگر رجسٹریشن بک کی معلومات اس کے پاس کہاں سے آئیں۔

ابتسام نے سوچا اور کہا،او نو ،میں نے کہا کیا ہوا کہنے لگا ایک منٹ،پھر اس نے گاڑی نمبرآن لائن فیڈ کیا تو پوری معلومات کا پیج کھل گیا‘ اب ایک پرانا لطیفہ سن لیں کہ ” ایک پولیس آفیسر کی گھڑی گم ہو گئی اس نے تھانے فون کر کے بتادیا، مگر کوئی آدھ گھنٹہ بعد دوبارہ فون کر کے معذرت کی کہ گھڑی مل گئی ہے،تو انسپکٹر نے کہا مگر سر یہاں تو میری پہلی تفتیش ہی میں چار لوگ اعتراف جرم کر چکے ہیںان کا کیا کروں‘ ہم نے بھی مایوس ہو کر ایف آئی آر کٹا لی ،مگرگزشتہ کل باہر سے ایک مشاعرے کی دعوت ملی تو پاسپورٹس کا ڈبہ نکالا جس میں ہم سب کے نئے پرانے آٹھ دس پاسپورٹ پڑے ہوتے ہیں جس کے بیچوں بیچ ہو بہو پاسپورٹ بک کلر کی گاڑی کی رجسٹریشن بک پڑی ہوئی تھی‘ مرزا رفیع سودا یا د آ گیا
 دل کے ٹکڑوں کو بغل بیچ لئے پھرتا ہوں
 کچھ علاج اس کا بھی اے شیشہ گراں ہے کہ نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔