105

مسجد قرطبہ

گزشتہ ماہ سپین کے سفر کے دوران مجھے قرطبہ کی عظیم مسجد دیکھنے کا اتفاق ہوا‘قرطبہ ہمارے پروگرام میں شامل نہےں تھا میں نے اور میرے دوستوں نے پروگرام بنایا کہ غرناطہ سے قرطبہ جاکر مسجد کی زیارت کی جائے تیز رفتار (bullet) ٹرین نے 320 کلومیٹر کا سفر 45منٹ میں طے کرکے ہمیں قرطبہ پہنچا دیا۔ عرب مسلمانوں(Moors)نے سپین کی سرزمین پر سن711ءمیں قدم رکھا مراکو اور سپین کے درمیان10 کلومیٹر کا سمندری فاصلہ ہے‘ طارق بن زیادنے خلیفہ وقت عبدالرحمن اول کے حکم کے مطابق پہلے جبرالٹر پر قبضہ کیا (جبرالٹر کا اصل نام جبل طارق یعنی کوہ طارق ہے لیکن وقت کے ساتھ نام بگڑتے بگڑتے جبرالٹر ہوگیا) سننے میں آیا ہے کہ طارق نے سپین یا اندلس پر قدم رکھتے ہی جنگی بیڑے کی کشتیاں اور جہاز جلا دینے کا حکم دیا تھاتاکہ فوج کے دل سے پسپائی کا خیال ختم ہوجائے ‘عرب مسلمانوں نے سرزمین اندلس پر 800سال حکومت کی‘ سپین کا جنوبی علاقہ اندلس کہلاتا ہے اسی وسیع علاقے میں مسلمانوں نے کئی مشہور شہر آباد کئے اور پہلے سے آباد شہر علم ‘ہنر اور تجارت کے مراکز بنادیئے‘ اکثر لوگ یہ سمجھتے ہےں کہ عربوں نے جس سلطنت کی بنیاد رکھی اسکی حدیں تمام اندلس کو سمیٹے ہوئی تھےں حقیقت یہ ہے کہ اندلس میں ایک وقت میں کئی حکومتیں قائم تھےں ایک وقت میں مسلمان حکومت پورے سپین اور پرتگال پر قابض تھی ان دونوں ملکوں کو ملا کر تمام خطہ (Iberian Peninsula)کہلاتا تھا یہ سب کچھ خلیفہ عبدالرحمن اول کے دور حکومت میں ہوا ۔

خاندان امیہ کے حکمرانوں نے کئی صدیوں پر پھیلی ہوئی راجدھانی میں ایسا نظام قائم کیا جس میں ملک کے باشندوں کو چاہے وہ مسلمان ہوں‘ عیسائی ہوں یا یہودی مکمل آزادی حاصل تھی‘ ان تین مذاہب کے لوگوں کے باہمی اشتراک نے ایک ایسی تہذیب کو جنم دیا کہ جو عرب مسلمانوں کا سنہری دور کہلاتا ہے‘ زندگی کے ہرشعبے میں ترقی ہوئی ایسی ایسی عمارتیں تعمیر ہوئیں کہ آج تک لوگوں کو یقین نہےں آتا کہ یہ عمارتیں یعنی الحمراءاور مسجد قرطبہ آج سے ہزار سال سے اوپر تعمیر کی گئی تھےں‘ اسی طرح فلسفے‘ تاریخ سائنس اور عمرانیات کے میدانوں میں بھی حیرت انگیز ترقی ہوئی اسی معاشرے نے اس دور کے دو عظیم فلسفی اور ڈاکٹر پیدا کئے‘ ایک کا نام ابن میمون Mainmondes تھا جو یہودی تھا اور اسکی لکھی ہوئی تورات کی تفسیراب بھی یہودی مذہب میں استعمال ہوتی ہے‘دوسرا تھا مسلمان ابن رشد جو سرجن ہونے کے علاوہ فلسفی‘کیمیا دان اور تاریخ دان بھی تھا ۔اس پس منظر کے تناظر میں‘اب میں مسجد قرطبہ کی طرف آتا ہوں سن 784ءمیںعبدالرحمن اول قرطبہ کا حاکم تھا اس نے اس شہر میں ایک عظیم الشان مسجد تعمیر کرنے کافیصلہ کیا اس جگہ پہلے ایک گرجا موجود تھا عبدالرحمن نے وہ گرجا خرید کر وہاں مسجد کی تعمیر شروع کی ہر چند کہ مسجد کی تعمیر اسکے عہدمیں مکمل ہوگئی تھی اسکے دو جانشینوں نے مسجد کی توسیع کرکے اس میں تین گنا اضافہ کیا انہوں نے مسجد کے پائیں باغ میں نارنج کے درخت بھی لگوائے‘ اس لحاظ سے قرطبہ نارنجوں کا شہر بھی کہلاتا ہے ۔

 مسجد کی تعمیر بغداد کی امیہ مسجد کے طرز پر کی گئی لیکن بادشاہ عبدالرحمن ایک ایسی مسجد تعمیر کرنا چاہتا تھا جو فن تعمیر کے اعتبار سے مسجد اقصیٰ اور حرم شریف کے برابر کھڑی ہوسکے‘ مسجد میں856 سنگ مرمر اور باقی قیمتی پتھروں کے ستون ہےں کئی ستون رومن زمانے کے کھنڈرات سے اٹھائے گئے تھے باقی یہیں تراشے گئے تھے اس مسجد کا محراب فن تعمیر اور آرٹ کا ایک نادر نمونہ ہے ۔ سن 1236عیسوی میں ساڑھے چار سوسال بعد قرطبہ دوبارہ عیسائیوں کے قبضے میں چلا گیا انہوں نے مسجد کے اندر گرجابنا دیا اور ساتھ ہی چھوٹی چھوٹی عبادت گاہےں Chapelsبھی بنادیں اب اسے قرطبہ کا مسجدگرجا Mosque Cathederalکہتے ہےں عیسائی یہاں عبادت کرسکتے ہیںلیکن مسلمانوں کو عبادت کی اجازت نہےں‘ ہاں یہ ضرور ہے کہ مسلمانوں کی شکست پرنئے عیسائی حکمرانوں نے مسجد کو نقصان نہےں پہنچایا عمارت کے اندرجانے کےلئے ٹکٹ خریدنا پڑتا ہے‘ اب یہ ایک لحاظ سے میوزیم ہے‘ 1933ءمیں علامہ اقبال ہسپانیہ کے دورے کے دوران مسجد قرطبہ بھی گئے اور انہوں نے وہاں نماز پڑھنے کی سعادت بھی حاصل کی‘ مسجد قرطبہ سے متاثر ہوکر انہوں نے شہرہ آفاق نظم مسجد قرطبہ لکھی یہاں میں طویل نظم کے چند شعر لکھتا ہوں ۔
اے حرم قرطبہ ‘عشق سے تیرا وجود...عشق سراپا دوام جس میں نہےں رخت بود...رنگ ہو یا خشت وسنگ‘ چنگ ہو یا حرف وصوت...معجزہ فن کی ہے خون جگر سے نمود... تیری فضا دل فروز‘میری نواسینہ سوز...تجھ سے دلوں کا حضور مجھ سے دلوں کی کشود... تیری بنا پائدار تیرے ستون بے سہار...شام کے صحرا میں ہو جیسے ہجوم نخیل...تیرے درو بام پرواری ایمن کا نور...تیرا منار بلند جلوہ گہ جبریل...دیدہ انجم میںہے تیری زمین‘آسمان...آہ کہ صدیوں سے ہے تیری فضا بے اذان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔