154

خیبرپختونخوا کا کیس

وفاقی حکومت نے مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس 29مئی کو طلب کیا ہے پانچ ماہ کی تاخیر سے بلائے جانے والے اجلاس کے ایجنڈے میں غربت کے خاتمے اور غریب خاندانوں کے سماجی تحفظ جیسے نکات پر غور ہوگا‘خیبرپختونخوا حکومت نے سی سی آئی کے پلیٹ فارم پر صوبے کے پن بجلی منافع کی مد میں 128ارب روپے سالانہ کے حصول کے لئے کوششیں مزید تیز کرنے کا عندیہ دیا ہے‘یہ رقم بجلی منافع کے لئے پیش اے جی این قاضی فارمولے کے تحت طلب کی جارہی ہے دوسری جانب اندیشہ ہے کہ یہ معاملہ ایک بار پھر تاخیر کا شکار ہوجائے گا‘اس اندیشے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی ہدایت کی باوجود پلاننگ کی وزارت خصوصی کمیٹی کا اجلاس نہےں بلارہی کہ جس میں اس حوالے سے سفارشات ترتیب دی جانی ہےں‘ ہمارے رپورٹر کی فائل کردہ سٹوری کے مطابق وزیراعلیٰ محمود خان نے اس ضمن میں وزیراعظم سے رابطے کا فیصلہ کیا ہے‘ خیبرپختونخوا کی جانب سے سفارشات پیش نہ ہونے کی صورت میں کونسل کے اجلاس کے بائیکاٹ پر بھی غور کیا جارہا ہے‘ خیبرپختونخوا بندرگاہ سے دور صوبہ ہے قدرتی وسائل اور سیاحت کے لئے دلکش مقامات کے حامل اس صوبے میں تعمیر کا کام نسبتاً کم رفتار میں رہا افغانستان میں روس کی مداخلت کےساتھ اس صوبے کو لاکھوں مہاجرین کی میزبانی کاکام سونپا گیا جو ابھی تک جاری ہے‘ ۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس صوبے کو نمایاں حیثیت حاصل رہی اور اسے فرنٹ لائن کا درجہ دیاگیا امن وامان کی صورتحال نے یہاں صنعتی وتجارتی سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کیا ‘وسطی ایشیائی ریاستوں کے لئے گیٹ وے قرار دیئے جانے والے صوبے میں ایک نئی تبدیلی قبائلی اضلاع کے انضمام کی صورت بھی آئی جہاں تعمیر وترقی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لئے صوبے کی حکومت کو بہت زیادہ کام کرنا ہے‘یہ ساری صورتحال تو اس بات کی متقاضی ہے کہ خیبرپختونخوا کے وسائل میں اضافہ کیا جائے صوبے کو خصوصی ترقیاتی پیکیج دیا جائے یہاں کی صنعت وکاروبار کو مراعات اور سہولیات دی جائیں‘ اس سب کے برعکس اگر صوبے کا پن بجلی منافع کے بقایا جات کا کیس التواءکا شکار ہوتا ہے تو وزیراعظم کو اس کا فوری نوٹس لینا ہوگا قابل اطمینان ہے کہ وزیراعلیٰ محمود خان اس حوالے سے بھرپور کوششیں کررہے ہےں جن میں وفاق کے تمام اداروں کوبھی تعاون کرنا چاہئے تاکہ معاملہ یکسو ہوسکے۔
اچھی خبریں اور عوامی مسائل
 سعودی عرب کی جانب سے تیل کی فراہمی کا اعلان ہوگیا ہے موخر ادائیگی پر ملنے والے تیل سے زرمبادلہ کے آﺅٹ فلو پر دباﺅ کم ہوگا جبکہ ادائیگیوں کا مجموعی توازن بھی بہتر ہوگا ڈالر کو بریک لگنے اور قدر میں کمی کی خبر بھی حوصلہ افزاءہے ایف بی آر کی جانب سے اصلاح احوال کی کوششوں میں تیزی آرہی ہے‘ صنعتوں کے لئے سیلز ٹیکس میں ایمنسٹی سکیم کے نتائج بھی اچھے آنے کی توقع ہے اس ساری صورتحال میں عام شہری اپنے لئے ریلیف کا متقاضی دکھائی دیتا ہے اس شہری پر گرانی کا بوجھ کم کرنے اور یوٹیلیٹی بلوں میں ریلیف کے لئے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے‘ مرکز اور صوبوں کے ذمہ دار دفاتر کو اس مقصد کے لئے موثر پلاننگ کرنا ہوگی۔