111

میں روزے میں ہوں

روزہ ایک ایسی عبادت ہے جسکا سوائے اللہ کریم کے اور اس کے بندے کے کسی کو بھی علم نہیں ہوتا کہ بندہ روزے سے ہے یا نہیں‘ بہت سے ایسے لوگ ملیںگے کہ جو بظاہر کھاتے پیتے نہیں ہوں گے مگربندوں سے چھپ کر وہ اپنا کام کرجاتے ہوں گے‘ گو وہ ساتھی انسانوں سے تو اپنا جرم چھپا سکتے ہیں مگرجس نے روزے کا حکم دے رکھا ہے اس سے کبھی بھی چھپا نہیں سکتے‘روزہ جس طرح صبر کی تلقین کرتا ہے اس کا تقاضا تو یہ ہے کہ روزے دار کو ہرطرح کا صبر کرنا چاہئے ‘جب وہ اللہ کی رضاکےلئے کھانے پینے اور ہر حلال کام سے پرہیز کرتا ہے اسے ہر حرام شے سے بھی پرہیز کرنا چاہئے‘جس میں ساتھی انسانوں سے لڑائی جھگڑے سے پرہیز لازمی ہے‘ مگر دیکھا یہ گیا ہے کہ روزے کے دوران ایک دوسرے کےساتھ جھگڑے میں اضافہ ہو جاتا ہے ‘اگر وجہ پوچھی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ بہت ہی معمولی بات پر تلخی شروع ہوئی او ربات قتل مقاتلے تک جا پہنچی‘اور جب وجہ کی کھوج لگائی تو معلوم ہوا کہ بندے کو روزہ ’ لگ گیا‘تھا اور اس نے معمولی بات کو اتنا کھےنچا کہ نوبت یہاں تک پہنچ گئی‘دو دوست باتیں کر رہے ہیں اور بات ہنسی ہنسی میں بگڑتی گئی‘حالانکہ ہم ایسے ہنسی مذاق تو عام طور پر کرتے ہی رہتے ہیں مگر غیر رمضان میں توکبھی ایسی باتوں کا نوٹس بھی نہیں لیا جاتا‘ ہر بات کو ہنسی میں ٹال دیا جاتا ہے مگر رمضان کی برکت سے وہی ہنسی مذاق کی بات ایک مسئلہ بن جاتی ہے۔ سمجھ نہیں آتی کہ جب ہم سب کچھ برداشت کر رہے ہیں تو کیا ہم غصے کو برداشت نہیں کرسکتے۔

یہ بھی تو ایک حرام شے ہے جس سے پرہیز تو عام حالات میں بھی ہونا چاہئے مگر روزے کے دوران یہ برداشت ختم ہو جاتی ہے‘ اور باتوں باتوں میںایک دوسرے کو میں روزے سے ہوں کی تڑھی لگائی جاتی ہے اور پھر دونوں حضرات ہی روزے سے ہو جاتے ہیں اور اور پھر روزہ حوالات میں جا کر کھلتا ہے‘ روزہ کھولنے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ یار بات تو کچھ تھی ہی نہیں کہ جس سے ہم نے ایک دوسرے کی سر پھٹول کر دی۔ ایک ایسے عمل کے دوران کہ جس میں صرف اورصرف صبر ہی کا دامن تھاما ہوا ہوتا ہے لڑائی جھگڑے کی تک بنتی تو نہیں مگر ’ میں روزے سے ہوں ‘کی تڑھی بہت سخت ہوجاتی ہے۔ بعض حضرات تواس جملے کو اپنی جان چھڑانے کےلئے استعمال کرتے ہیں کہ یار میں جھگڑنے کے موڈ میں نہیںہوں اسلئے کہ میرا روزہ ہے اور روزہ مجھے لڑائی جھگڑے سے منع کرتا ہے مگر فریق ثانی شاےد ایسے موڈ میں نہ ہو اور وہ اس کواس معنی میں لے کہ دوسرا اس پر طنز کر رہا ہے کہ وہ روزے سے ہے اور جھگڑنا نہیںچاہتا ۔ تاہم دیکھا یہی گیا ہے کہ بازار میں ہو‘ دکاندار سے ہو ‘دوستوں یاروں سے ہو‘بال بچوںسے ہو ’ میں روز ے سے ہوں‘ کی تکرار آج کل عام ہو گئی ہے‘ ادھر روزہ بھی گرمی کا ہے اور دن بھی کافی لمبے ہیں یعنی بھوک پیاس کےلئے کافی وقت مل جاتا ہے اسلئے بندہ دوپہر کے بعد تو بہت زیادہ ہی ’ روزے سے ‘ہو جاتا ہے۔

 افطاری کی تیا ری کےلئے ہر انسان کچھ نہ کچھ تو خریداری کرتا ہی ہے مگر آج کل ہماری حکومت کی مہربانی سے روزوں کا اہتمام کچھ زیادہ ہی ہو گیا ہے‘ بیس روپے کلو کا تربوز پچاس روپے کلو مل رہا ہو تو افطاری سے پہلے جب بھوک اورپیاس کا زور ہوتا ہے دکاندار کےساتھ توتومیںمیں ہونالازمی ہی ہے غریب آدمی اگر کچھ خریدنے کے قابل نہیں ہے تو اسے غصہ کرنے کا حق تو ہے نا اور یہ حق وہ کسی حکومتی اہلکار پر تو نہیں نکال سکتا تو صرف راستے میں آنے والے دکاندار پر ہی اترے گا نا‘ اسکے بعد کیا ہوتاہے وہ پوچھنے والی بات نہیں دیکھنے والی ہوتی ہے‘ دکاندار اور گاہک آپس میں سر پھٹول کر رہے ہیںاور روزہ داروں کا ایک مجمع اکٹھا ہو کر ان کا تماشا کر رہا ہے۔ اسلئے کہ سارے ہی روزے سے ہیں ‘مہنگائی نے تواس دفعہ روزہ داروں کی چیخیں ہی نکال دی ہیں ویسے بھی ہم مسلمان دکانداروں کو یہی ایک مہینہ ملتا ہے کہ کمائی کر لیں مگر اس دفعہ حکومت نے بھی حد کر دی ہے ۔ یوٹیلٹی سٹوروں کو بھی ’روزے سے‘بھیج دیا گیا ہے‘ اسلئے کہ کوئی بھی شے ان سٹوروں پر نہیں مل رہی‘رمضان بازاروں کا بھی اہتمام کیا گیا ہے جن میںآپ کو سارا دن قطار میں لگ کر ایک کلو چینی ملتی ہے مگر حکومت کے کارپردازوں کی تقریروں سے معلوم ہوتا ہے کہ بازار میں ہر شے لوگوں کو تقریباً مفت ہی مل رہی ہے‘ اور لوگ مزے سے روزے رکھ رہے ہیں اور عید کا بھی خاطرخواہ انتظام کر دیا گیا ہے کہ کوئی بھی کپڑاغریب تو چھوڑو متوسط طبقے کی پہنچ میں نہیں آ رہا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔