152

خیبرپختونخوا‘ اہداف و مشکلات

خیبرپختونخوا کابینہ نے اپنے گزشتہ روز کے اجلاس میں بجٹ تجاویز کی منظوری دے دی ہے‘ مہیا تفصیلات کے مطابق قبائلی اضلاع کیلئے 53 ارب روپے مختص کئے جارہے ہیں جبکہ صوبے میں آن لائن سروس ٹیکس19.5 سے کم کرکے2 فیصد کر دیاگیا ہے‘ صوبے میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کا تخمینہ122 ارب روپے لگایاگیا ہے‘کابینہ کے اجلاس میں یہ بات بھی نوٹ کی گئی کہ صحت اور تعلیم کے محکمے اپنا بجٹ استعمال کرنے میں ناکام رہے جبکہ کابینہ نے اگلے بجٹ کے بعد تمام محکموں کا ہر تین ماہ بعد جائزہ لینے کا فیصلہ بھی کیا‘ اس سب کے ساتھ صوبے کو مالی مسائل کا سامنا بھی ہے‘ خیبرپختونخوا کو رواں سال پن بجلی بقایاجات کی مد میں35 ارب روپے وصول نہ ہوسکے‘ قاضی فارمولے کو عملی شکل دینے کیلئے خصوصی کمیٹی کا اجلاس مسلسل تاخیر کا شکار چلا آرہاہے‘ اگر یہ سلسلہ اسی طرح رہا تو رقم کی ادائیگی کیلئے سی سی آئی میں سفارشات پیش نہ ہونے کا خدشہ ہے۔

 ان تمام معاملات پر وزیراعظم عمران خان کیساتھہونے والے اجلاس کی تفصیلات تادم تحریر سامنے نہیں آئیں جہاں تک صوبے کی اکانومی کا تعلق ہے تو یہاں کے مخصوص حالات میں صنعتی و تجارتی سرگرمیاں یقینی بنانے اور تعمیر وترقی کیساتھ خدمات کی فراہمی ٹھوس اقدامات کی متقاضی ہے‘ چاہئے تو یہ کہ خیبر پختونخوا کو مختلف شعبوں میں خصوصی مراعات و سہولیات فراہم کرنے کیساتھ صوبے کے واجبات بروقت ادا کئے جائیں‘ ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ خیبرپختونخوا میں انفراسٹرکچر اور خدمات میں بہتری کیلئے خصوصی پیکیج بھی دیاجائے‘جہاں تک صوبے میں اپنے انتظامی معاملات کا تعلق ہے تو ان میں اداروں کی کارکردگی پر کڑی نظر ضروری ہے‘تعلیم اور صحت کے شعبے حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست ہونے کے باوجود بجٹ کا بروقت خرچ نہ ہوناسوالیہ نشان ہے اس کیلئے سہ ماہی جائزہ اجلاسوں کا باقاعدگی سے انعقاد ضروری ہے اس کےساتھ آن سپاٹ چیکنگ کا ریگولر نظام بھی ضروری ہے‘ تعمیراتی منصوبوں میں معیار یقینی بنانے کیساتھ خدمات کے اداروں میں اربوں روپے خرچ ہونے کے نتیجے میں عوام کو ملنے والے ریلیف کا جائزہ بھی ناگزیر ہے‘ صوبے کے دفاتر کی فعالیت سے ہی عوام کے لئے سہولیات ممکن بنائی جاسکتی ہےں بصورت دیگر حکومت کے تمام اقدامات لوگوں کیلئے بے ثمر ہی رہتے ہیں۔

ترجیحات کا تعین؟

انگریزی روزنامے نے اپنی خصوصی رپورٹ میں ہیپاٹائٹس سی اور جگر کے دیگر امراض سے متعلق جو اعدادوشمار پیش کئے ہیں ان کی روشنی میں مرض کی تشخیص و علاج کیلئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے‘ امراض جگر کی سٹڈی سے متعلق سوسائٹی کے سربراہ بریگیڈئر (ر) ڈاکٹر مسعود صدیق کے حوالے سے رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ پانچ فیصد آبادی ہیپاٹائٹس کاشکارہے 8 ملین مریضوں میں سے پانچ فیصد سے بھی کم کا علاج ہو رہا ہے‘ رپورٹ کے مطابق ہر سال25 ملین شہریوں کا سکرین ٹیسٹ ضروری ہے جبکہ سات لاکھ مریضوں کا ہر سال علاج بھی کرنا ہوگا‘ علاج کی سہولیات فراہم کرنا ہر حکومت اپنی ترجیح قرار دیتی ہے تاہم علاج کے وسیع شعبے میں آگے ترجیحات کا تعین بھی ضروری ہے ہیپاٹائٹس کی تشخیص اور علاج کے ساتھ اس کے پھیلاﺅ کے اسباب کو روکنا بھی ضروری ہے جس کیلئے موثر حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔