62

مودی کا مینڈیٹ اور ایجنڈا

دوسری مرتبہ بھاری اکثریت سے وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد جب نریندر مودی جمعرات کی شام جشن فتح کی تقریب سے خطاب کرنے کیلئے ایک بڑے ہجوم کے سامنے نمودار ہوا تو اسکے ہمراہ سٹیج پر ایک دوسرا شخص بھی تھا دونوں نے ہاتھ فضا میں بلند کئے اور پھر پھولوں کی پتیاںبرسنا شروع ہوئیں جو دیر تک برستی ہی چلی گئےں‘اس ہجوم کی وارفتگی اور جنوں خیزی دیدنی تھی مودی اور اسکا دوست مسکراتے چہروں اور لہراتے ہاتھوں سے پرجوش نعروں کا جواب دے رہے تھے‘ وزیر اعظم کے اس دوست کا نام امیت شاہ ہے یہ بھارتیہ جنتا پارٹی کا سربراہ ہے اور اسے مودی کی پہلی اور دوسری انتخابی فتح کا معمار سمجھا جاتا ہے‘ یہ وہی شخص ہے جس نے انتخابی مہم کے دوران کہا تھا کہ انڈیا میں رہنے والے غیر قانونی مسلمان کیڑے مکوڑے ہیںاور ان سے نجات حاصل کرنا ضروری ہے ظاہر ہے اسکا اشارہ اپنے ملک کی آبادی کے سولہ فیصد حصے یعنی لگ بھگ بیس کروڑ مسلمانوں کی طرف نہ تھا بلکہ وہ آس پاس کے ممالک سے روزگار کی تلاش میں آئے ہوئے مسلمانوںکی توہین کر رہا تھا اسکا یہ دشنام اسکے لیڈر کی سوچ اور اسکے جماعت کے ایجنڈے کا اعلان تھا۔

مودی بارہ برس تک گجرات کا وزیر اعلیٰ اور پانچ برس تک انڈیاکا وزیر اعظم رہ چکا ہے اسکا طرز حکمرانی ایک کھلی کتاب ہے اسے ہر پاپولسٹ لیڈر کی طرح ہجوم کو گرمانااور بھڑکانا آتا ہے مگر سٹیج سے اترنے کے بعد وہ کرتا وہی ہے جو اسکے دو چار قریبی دوست کہتے ہیں‘ اسے کسی لوک سبھا اور کسی حزب اختلاف کی کوئی پرواہ نہیں اسکے ووٹروں نے جو مینڈیٹ اسے دیا ہوتا ہے وہ بڑی ہوشیاری سے اس پرعمل کرتا ہے ہر پاپولسٹ لیڈر کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ نہ صرف اپنے ایجنڈے پر قائم رہے بلکہ اس پر عملدرآمد کرتا ہوا نظر بھی آئے‘ اس طرح کے حکمران بڑی چالاکی سے ریاستی اداروں کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرتے ہیں‘امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ آئے روز اپنے وزیروں کو تبدیل کر کے اداروں کو قابو میں رکھتا ہے ترکی میں طیب اردوان یہی کچھ کر رہا ہے‘ برطانیہ میں تھریسا مے ایک کمزور وزیر اعظم ثابت ہوئیں وہ بریگزٹ کے ایجنڈے کو عملی جامہ نہ پہنا سکیں اور بالآخر انہیں استعفیٰ دینا پڑ گیا ‘مودی کا مینڈیٹ اور ایجنڈا جنگجویانہ ہندو قوم پرستی کے گرد گھومتا ہے اسکے پیرو کار اکثر بے قابو ہو کر مظلوم اور بے بس اقلیتوں کو تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔

ایسے لیڈر تقریروں میں اپنے اصلی اور خفیہ ایجنڈے کی بات نہیں کرتے بلکہ وہ ایک پاپولسٹ لیڈر کی زبان بولتے ہیں‘ جمعرات کی رات جشن فتح میں مودی نے کہا ”یہ فتح اس ماں کی فتح ہے جسے ٹائلٹ میسر نہ تھا یہ فتح اس کسان کی فتح ہے جسکے خون پسینے کی محنت سے ہم اپنے دسترخوان سجاتے ہیں“انڈیا کے طول وعرض میں لاکھوں ٹائلٹ بنانے کا وعدہ مودی نے 2014 کی انتخابی مہم میں کیا تھا اور وہ اس نے پوراکر کے دکھا دیا اسکے پہلے دور اقتدار میں معیشت اگر زور دار نہ تھی تو بری بھی نہ تھی ‘ابھی تک نوجوانوں کی امیدوں کے چراغ گل نہیں ہوئے وہ اسے مسیحا نہ سہی امید کی کرن ضرور سمجھتے ہیں‘انڈیا میں ہر سال پانچ ملین لوگ دیہات سے شہروں میں کام کی تلاش میں آتے ہیںمودی کا اصل مینڈیٹ اس جم غفیر کو روز گار مہیا کرنا ہے وہ اگر ایسا نہ کر سکا تو پھر اسے ہندو قوم پرستی کے ڈھول کو زیادہ تیزی سے پیٹنا پڑے گا‘اس ہنگامے میںمسلمانوں کے شب و روز کی تلخی بڑھ جائیگی۔

 کشمیریوں پر فوج کشی میں اضافہ ہو گا اور پاکستان پر آئے روز گرجنا اور برسنا معمول کی بات ہو گی اس طرح کے حربوں نے حالیہ انتخابات میں ایسے نتائج دےئے ہیں جو مودی کی توقعات سے کہیں زیادہ ہیں چودہ فروری کے دن سرینگر ہائی وے پر پلوامہ کے قریب ایک خودکش حملے میں چالیس بھارتی سپاہیوںکی ہلاکت سے پہلے بی جے پی کی کامیابی مشکوک تو نہ تھی مگر اتنی واضح بھی نہ تھی‘ حیرانی کی بات یہ ہے کہ 26 فروری کی شب بالا کوٹ حملے میں دو طیارے گنوانے اور ایک پائلٹ کے قیدی بن جانے کے باوجود بھی مودی نہ صرف اس جنگ کا ہیرو بن گیا بلکہ اسکے قد کاٹھ میں اتنا اضافہ ہوا کہ لوگ اسے ایک ایسا طاقتور حکمران سمجھنے لگے جو دشمنوں کے دانت کھٹے کر سکتا ہے‘ کیا بھارتیوں کو یہ معلوم نہ تھا کہ انکے دو طیارے پاکستان نے گرا دےئے تھے اور انکا پائلٹ ابھی نندن گرفتار ہوکرمیڈیا پر دشمن کے حسن سلوک کی تعریف کررہا تھا‘وہ یہ سب جانتے تھے مگر انکا جنون اس شکست کو ایک بڑی جنگ کا آغاز بنانا چاہتا تھا انکا میڈیا زورو شور سے طبل جنگ بجا رہا تھا پھر مودی نے دیکھتے ہی دیکھتے پردے کے پیچھے سے ڈوریں ہلا کر ایسی کامیابی حاصل کر لی جو اسے میدان جنگ میں نہ مل سکی تھی۔

 وہ ملک جس نے ریمنڈ ڈیوس جیسے امریکی قاتل کو 49 دن تک جیل میں رکھا اور بھارتی نیوی کا افسر کلبھوشن یادیوتین مارچ2016کو بلوچستان میںجاسوسی کاروائیاں کرنے کے الزام میں گرفتار ہو کر آج تک پاکستان کی جیل میں ہے اسی ملک نے اڑتالیس گھنٹے کے اندر بھارتی پائلٹ کو واپس کر کے ایک دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا‘اس قلا بازی پر نہ پارلیمنٹ میں بحث ہوئی اور نہ ہی پاکستان کے کارپوریٹ میڈیا نے پوچھا کہ آخرایسی بھی کیا جلدی تھی جو مطالبہ دوسری جنگ عظیم کے بعد1949 میں جنگی قیدیوںکے بارے میں منظور کئے جانےوالے جنیوا کنونشن میں بھی نہیں کیا گیا اسے اتنا جلدی کیوں پورا کر دیا گیا اب سننے میں آ رہا ہے کہ ایک تو امریکہ نے دباﺅ ڈالا تھا اور دوسرا مودی نے سات عدد خطرناک برہمواس میزائلوں کا رخ پاکستان کی طرف کر دیا تھا‘اب ہمارے اخبار لکھ رہے ہیں کہ ابھی نندن اگر اتنا جلدی رہا نہ ہوتا تو مودی کیلئے یہ الیکشن اتنے بڑے مارجن سے جیتناممکن نہ ہوتاابھی نندن کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مودی نے جشن فتح کی تقریر میں تین مرتبہ اسکا ذکر کیااور خوب داد وصول کی‘ مودی کا انتخابی اتحاد این ڈی اے تین سو پچاس سیٹیں جیت کر دوسری مدت اقتدار کے آغاز کی تیاریوں میں مصروف ہے۔

 اس لمحے کا سوال یہ ہے کہ کیا مودی ایک مدبر ‘معتدل اور امن پسندحکمران بنے گا یا وہ جنگجو اور ناراض ہندو اکثریت کا لیڈر بن کر آتش وآہن برسائے گا‘یہ سوال آج ایشیا سے زیادہ یورپ اور امریکہ میں پوچھا جا رہا ہے ہر طرف سے جواب یہی ہے کہ مودی سے کسی اعتدال یا امن پسندی کی توقع دریا سے الٹا بہنے کی امید رکھنے والی بات ہے‘ وہ ہر پاپولسٹ لیڈر کی طرح امن پسندی کا تاثر ضرور دیگا مگر کرے گا وہی کچھ جو اسے امیت شاہ اور راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ کے دھنوان کہیں گے‘ بھارتی وزیر اعظم پاکستان کیساتھ ٹریک ٹوڈپلومیسی سے بھی لطف اندوز ہوتا رہیگااور تیرہ جون کو کرغیزستان کے شہر بشکک میں ہونیوالی شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن میں عمران خان کےساتھ ملاقات بھی کرلے گا مگر اس تھیلے میں سے کچھ برآمد ہوتا نظر نہیں آرہا‘ مودی کا میندیٹ پاکستان سے دوستی کا نہیں دشمنی کا ہے اسکے ووٹروں کا مطالبہ یہ ہے کہ آئین کے آرٹیکل 370 کو منسوخ کر کے جموں میں باہرکے لوگوں کو جائیدادیں خریدنے کی اجازت دےدی جائے تا کہ کشمیر کے دارالخلافے میں مسلمان اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کردیا جائے نریندر مودی کا اصلی چہرہ اب سامنے آئیگا وہ کشمیر میں وہ سب کچھ کریگا جو بنجامن نےتن یاہو نے فلسطین میں کر کے دکھا دیا ہے‘ آج کا انڈیا راجیو گاندھی‘ اٹل بہاری واجپائی یا منموہن سنگھ کا انڈیا نہیں ہے یہ ایک طاقتور پاپولسٹ حکمران نریندر مودی کا انڈیا ہے وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح اپنے مینڈیٹ اور ایجنڈے سے سر مو انحراف بھی نہیں کریگا ہمیںایران کی طرح صبر کا گھونٹ بھر کر اچھے دنوں کا انتظار کرنا پڑیگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔