112

نئے صوبوں کی بحث

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) میں بہت سے لوگ ہیں جو جنوبی پنجاب صوبے کی حمایت کرتے ہیں‘ ان سے درخواست کریں گے کہ جنوبی پنجاب کو صوبہ بننے دےں‘ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کاکہناتھا کہ پی ٹی آئی نے جنوبی پنجاب کو علیحدہ تشخص دینے کا وعدہ کیا تھا‘ ہم نے جنوبی پنجاب صوبے کا بل قومی اسمبلی میں متعارف کروا دیا ہے لہٰذا اب ان جماعتوں کو اس بل کی منظوری میں پی ٹی آئی کاساتھ دینا چاہئے جو جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کے حق میں ہیں‘شاہ محمود قریشی کاکہنا تھا کہ پیپلز پارٹی پہلے ہی سے جنوبی پنجاب صوبے کے نہ صرف حق میں ہے بلکہ وہ اس ضمن میں پی ٹی آئی کے پیش کردہ بل کی حمایت بھی کر رہی ہے لہٰذا توقع ہے کہ وہ صوبہ جنوبی پنجاب بل کی منظوری میں پی ٹی آئی کی غیر مشروط حمایت کرے گی ‘بقول شاہ محمود قریشی جنوبی پنجاب صوبے کےلئے آئین میں ترمیم درکار ہے ‘ ملتان ڈویژن‘بہاولپور ڈویژن اور ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے علاقے جنوبی پنجاب میں شامل ہونگے‘ہمارے ہاں نئے صوبوں کی بحث ویسے تو کافی پرانی ہے اور اس ضمن میں ملک کے مختلف علاقوں سے نئے صوبوں کے قیام کی آوازیں اٹھتی رہتی ہیں لیکن ہمارے ہاں چونکہ پچھلے ستر سال میں شاید ایک دن بھی سیاسی استحکا م نصیب نہ ہوسکا ۔

اس لئے نئے صوبوں کے قیام کے اس سنجیدہ موضوع پر کبھی بھی کھل کربات کرنے کی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی بلکہ بعض اوقات تو اگر کسی نے یہ ایشو چھیڑنا بھی چاہا تو اس پر غداری ‘بیرونی ایجنٹ ہونے ‘ملک توڑنے اور نہ جانے کیاکیا الزامات تک لگائے گئے۔سوال یہ ہے کہ نئے صوبوں کی بحث چھڑتے ہی مرکزگریز قوتوں کے پسینے کیوں چھوٹنے لگتے ہیں اور انہیں پاکستان کاوجودموم سے بھی کم نرم کیوں نظر آنے لگتا ہے خدانخواستہ یاخاکم بدہن پاکستان کوئی شیشے کاگھریا کانچ کا ٹکڑا تو نہیں ہے جو نئے صوبے وجود میں آنے سے کرچی کرچی ہوجائے گا ویسے بھی سائنس کےساتھ ساتھ مےنجمنٹ کا یہ بنیادی اور سیدھا سادا اصول ہے کہ معاملات کو سدھارنے اوربہتر نتائج کے حصول بالخصوص شہریوں کو بہتر معیار زندگی اور بنیادی سہولیات دینے کےلئے وسائل اور اختیارات جتنی نچلی سطح پرتقسیم ہوتے ہیں اس کے نہ صرف زیادہ گہرے اور دیر پا نتائج سامنے آتے ہیں بلکہ اس طرز حکمرانی سے لوگوں کے مروجہ سیاسی نظام اور اداروں پر اعتماد میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

 واضح رہے کہ تقسیم برصغیر کے وقت بھارت کے حصے میں چودہ صوبے آئے تھے جن کی تعداد وقت گزرنے کےساتھ ساتھ اب 29 ہوچکی ہے جس سے بھارت کمزور ہونے کی بجائے مزیدمستحکم ہو اہے ہم اگر پنجاب اور بنگال کی مثالوں ہی کو لے لیں تو ہمیں اس نتیجے پرپہنچنے میں دیر نہیں لگے گی بڑے صوبوں کی تقسیم اور ان سے نئے صوبوں کا جنم گھاٹے کی بجائے فائدے کاباعث بنتا ہے ۔یہاں ہمیں اس تلخ حقیقت کو بھی تسلیم کرناپڑے گا کہ برصغیر پاک وہند میں صوبوں اور خاص کر مستحکم انتظامی یونٹوں کی داغ بیل ڈالنے کا سہرا برطانوی حکمرانوں کو جاتا ہے جن کی کوششوں سے برصغیر پاک وہند میںاگر ایک طرف صوبوں کاجال بنا گیا تو دوسری جانب نئے صوبوں کے قیام کا عمل بھی انگریز سرکار کے دور میں شروع ہوا جسکے فیوض وبرکات سے آج بھارت اور پاکستان دونوں مستفید ہو رہے ہیں ‘پنجاب جو کبھی ہندوستان کاسب سے بڑا صوبہ تھا۔

 تقسیم برصغیرکے بعد پہلے مشرقی اور مغربی پنجاب کے دوصوبوں میں تقسیم ہوا اور بعد میں بھارت نے اپنے حصے کے مغربی پنجاب کو پہلے دو اور اب تین صوبوں میں بانٹ رکھاہے جبکہ اس کے برعکس ہم نے قیام پاکستان کے آٹھ سال بعد ہی گنگا الٹی بہاتے ہوئے پہلے سے موجود پانچ صوبوں کو مشرقی اور مغربی پاکستان کے دومصنوعی اور غیرفطری صوبوں میں سمیٹ دیا جس کا خمیازہ بعد ازاں ہمیں سانحہ مشرقی پاکستان کی صورت میں بھگتناپڑا۔شاہ محمود قریشی سے زیادہ اس حقیقت سے کون واقف ہوسکتا ہے کہ جنوبی پنجاب صوبہ اگر اسمبلی میں محض ایک بل پیش ہونے سے بن سکتا تھا تو جنوبی پنجاب تو کجا اب تک پاکستان میں انتظامی بنیادوں پر کئی نئے صوبے بن چکے ہوتے لیکن یہ کام چونکہ اتنا آسان نہیں ہے اسلئے پاکستان کی بقاءاور استحکام سے جڑے اس اہم کام کےلئے پاکستان کے تمام نمائندہ طبقات اور ریاستی سٹیک ہولڈرز کو جذبہ حب الوطنی اور پاکستان کے پسے ہوئے محروم طبقات کو ریاستی معاملات میں انکا جائز حصہ دلانے کی غرض سے نہ صرف ایک قومی ڈائیلاگ کا آغاز کرناہوگا بلکہ ریاست کے تمام سٹیک ہولڈرز کو ایک ٹیبل کے گرد بیٹھ کر اس مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کےلئے کوئی مشترکہ لائحہ عمل بھی جتنا جلدی ہوسکے طے کرناہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔