215

لگژری گاڑیوں کی رجسٹریشن پر ٹیکس ختم کر نیکا عندیہ  

ملتان۔پنجاب کے وزیر برائے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول حافظ ممتاز احمد نے کہا ہے کہ پنجاب میں لگژری گاڑیوں کی رجسٹریشن پر عائد ٹیکس بجٹ  2019-20ء میں ختم کررہے ہیں۔

 انہوں نے آج یہاں ایوان تجارت وصنعت میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس ٹیکس کی بدولت عوام اپنی گاڑیوں کی رجسٹریشن اسلام آباد سے کرانے کوترجیح دے رہے تھے جہاں پر لگژری ٹیکس نہیں ہے،  اس ٹیکس کی بدولت پنجاب میں لگ بھگ 15ہزار سالانہ رجسٹرڈ ہونے والی گاڑیوں کی تعداد کم ہو کر صرف2ہزار سالانہ رہ گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ عوام کی ٹیکس معاملات سے لاعلمی متعلقہ اداروں کے ملازمین کی بلیک میلنگ کا سبب بنتی ہے اور ہم اسے ختم کرنے کے لیے اب ای سسٹم پر منتقل ہورہے ہیں،  ستمبر یا اکتوبر میں نئی ایپ کی بدولت آپ گھربیٹھے اپنے تمام ٹیکسز اور واجبات کی ادائیگی اور موجودہ ”سٹیٹس“ سے آگاہ ہوسکیں گے، پرانی عمارات پر ٹیکس کی شرح میں کمی کی تجویز حکام کے سامنے رکھیں گے۔

 اس کے علاوہ صنعت کاروں کا یہ مطالبہ کہ انڈسٹریل ایریاز میں چونکہ ضلعی حکومتیں سہولیات مہیا نہیں کرتیں تمام کام ان  کے اپنے بورڈزسرانجام دیتے ہیں اس لیے وہاں پراپرٹی ٹیکس لاگو نہیں ہونا چاہئیے، میں ذاتی طورپر اس سے متفق ہوں اور اس ضمن میں حکومتی سطح پر بھی بات کروں گا۔ حافظ ممتاز نے کہاکہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بیوہ خاوتین کی پراپرٹی پر ٹیکس ختم کردیا جائے گا اس کے علاوہ پورے پنجاب میں گاڑیوں کی رجسٹریشن کے لیے ہرضلع کی نمبر پلیٹ کی بجائے ایک ہی سیریز شروع کرر ہے ہیں۔ اب لاہور یا اسلام آباد کے نمبر سے گاڑی رجسٹرڈ کرانے کا مسئلہ ختم ہوجائے گا۔

 ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پنجاب کے ریونیو اکٹھا کرنے والے ادارے صرف20فیصد ریونیو حاصل کرتے ہیں باقی 80فیصد ہمیں این ایف سی ایوارڈ سے حاصل ہوتا ہے، جو اچھی صورتحال نہیں ہے ہمیں نئے ٹیکس لگائے بغیر سسٹم کو مزید فعال کرتے ہوئے ریونیو وصولی کو بڑھانا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ 18ویں ترمیم کے بعد ہارڈ یا سافٹ نارکوٹکس کی تشریح اور اس کے بارے میں قوانین میں سختی یانرمی کامعاملہ صوبوں نے حل کرنا تھا لیکن اس پر کوئی کام نہیں ہوا لہذا اب ہم اس بارے میں جلد ہی نیا قانون لارہے ہیں پھر آپ کواس بارے میں اپ ڈیٹ کریں گے۔ قبل ازیں ایوان تجارت وصنعت ملتان کے صدر محمد سرفراز نے صوبائی وزیر کو سپاسنامہ پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ پراپرٹی ٹیکس جولائی 2014ء کی نئی شرح کے مطابق مختلف کیٹیگریز بنا کر کیاگیا ہے، کم ترقی یافتہ شہر ہونے کی وجہ سے ملتان میں کم شرح کی کیٹیگریز کانفاذ کیا جائے، اسی طرح 2014-15ء میں پراپرٹی ٹیکس پر جو ربیٹ دیاگیاتھا اب 5 سال بعد وہ واپس لے لیاگیا ہے اسے ختم کیا جائے، پرانی عمارتوں پر ٹیکس میں 30فیصد رعایت دی جائے۔اس موقع پر ڈائریکٹر ایکسائز ملتان تنویر عباس گوندل نے کہاکہ ٹیکس معاملات پر ہرکوئی میرے آفس میں ہر وقت آسکتا ہے، اگرکسی کے ساتھ میرا سٹاف زیادتی کرتا ہے تو اس اہلکار کو بھی سزا ملے گی۔انہوں نے کہاکہ اگرکوئی گھربند پڑا ہے یا خستہ حال ہوکر اس کاکچھ حصہ گر گیا ہے تو قانون میں ایسی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ اس پر واجب ٹیکس ختم کیا جاسکے اس بارے میں قانون بنانا ہوگا۔