138

آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں

رمضان المبارک میں افطارکے وقت کو پشتو دانش کے مطابق عیدقرار دیا گیا ہے اور اس میں کوئی دوسری رائے نہیں ہو سکتی کہ اس عید کا اصل لطف اور اصل خوشی اپنے گھر، اپنے دستر خوان اور اپنے گھر والو ں کے ساتھ مل کر روزہ افطار کرنے سے ہی حاصل ہوتی ہے، اس لئے ہر روزہ دار کی کوشش اور خواہش یہی رہتی ہے کہ دن بھر جہاں بھی ہو،سر ِ شام وہ گھر پہنچ جائے، اس لئے سڑکوں اور بازاروں میں افطاری سے پہلے بہت بھیڑ ہوتی ہے، سڑکوں پر گھر پہنچنے کی جلدی کی وجہ سے اور بازاروں میں افطاری کے لئے پھل اور کچھ چٹپٹی اشیا کی خریداری کی وجہ سے ہجوم بڑھ جاتا ہے، ہر شخص چاہتا ہے کہ جتنا بھی میسر ہو، گھر خالی ہاتھ نہ جائے،ہر چند کہ دستر خوان پہلے سے ہی پر رونق ہوتا ہے، پھر بھی بازار سے خریدی ہوئی بھلے سے کوئی ایک آدھ چیز ہی کیوں نہ ہواس کا سب کو انتظار رہتا ہے،پھر افطار سے قبل جب مل کر دعا کی جاتی ہے ، تووہ لمحے بھی بہت جاں فزا ہوتے ہیں ، چھوٹے بچوں کا روزہ ہو نہ ہو ان کو بھی ساتھ بٹھایا جاتا ہے اس سے انہیں افطار کے آداب سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ بچپن میں تو خیر ہم محلے بھر کے سارے بچے مسجد کے دروازے کے پاس اکٹھے ہو جاتے اور اذان کا انتظار کرتے جونہی مو¿ذن چبوترے کی طرف بڑھتا ہم گھر کی طرف رخ کر کے اسی طرح انتظار کرتے جیسے ریس میں حصہ لینے والے سیٹی کا انتظار کرتے ہیں اور پھر اللہ و اکبر کی پر شوکت آواز کے ساتھ ہی ” روزہ کھل گیا “ روزہ کھل گیا کی چیخ و پکار کے ساتھ گھروں کی طرف دوڑ پڑتے، ہم سارا دن اس ایک لمحے کا انتظار کرتے۔

 اب سوچتا ہوں کہ ہم جو کلمات پشتو میں ادا کرتے تھے جس کا مفہوم یہ تھا کہ کسی کا ہو کہ نہ ہو،روزہ کھل گیا ( روجے کھوجے ماتے ) تب تو کہیں بھی اور خصوصاََ گاو¿ں میں ،روزہ نہ رکھنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہو تا تھا شاید یہ رعایت ہم بچوں کے لئے تھی کیونکہ ہم بھی پوری سنجیدگی سے روزہ نہ ہونے کے باوجود افطارکرتے۔، اذان کے ساتھ بچوں کی یہ چیخ و پکار اس زمانے میں اس لئے بھی ضروری تھی کہ اذان دور تک سنائی نہیں دیتی تھی،لاو¿ڈ سپیکر تو ایک طرف کم کم گھروں میں کہیںگھڑیاں ہو تیں ، ہوتیںبھی تو اس کی بجائے اذان کو ہی اہمیت دی جاتی، اب جب کہ چھوٹی سکرین کی حکمرانی ہے پھر بھی جہاںجہاں اذان کی آواز پہنچتی ہے اسی کا ہی انتظار کیا جاتا ہے، باہر کی دنیا میں البتہ روزہ ہی نہیں نماز کیلئے بھی موبائیل فونز پر اذان فیڈ ہو تی ہے اور بر وقت اس سے اذان نشر ہونا شروع ہو جاتی ہے، کیونکہ وہاں جاب کے اوقات کار کو بھی دیکھنا ہو تا ہے، ویسے دیکھا جائے تو غیر اسلامی ممالک میں، اسلامی ممالک کے برعکس نماز اور روزہ کے اوقات کا خصوصی اہتمام کرنا پڑتا ہے ، وہاں روزہ داروں کی افطاری کا وقت واقعی ان کے لئے عید کی سی خوشی لے کر آتا ہے کیونکہ جہاں سب کا روز ہ ہو وہاں یہ ایک معمول کی سر گرمی ہے مگر جہاں سب کا روزہ نہ ہو وہاں روزہ رکھنے کا اپنا ایک مزہ ہے،آپ کے آس پاس ہر طرف لوگ کھا پی رہے ہوتے ہیں اور آپ کو حکم نہیں ہوتا،،مجھے یاد ہے کہ جب افراز امریکہ گیا تھا تو پہلے پہل اس کی جاب پلیس پر وہ اکلوتامسلمان تھا،میں پوچھتا کہ روزے کیسے جا رہے ہیں۔

 تو کہتا پہلی بار صحیح معنوں میں مزہ آ رہا ہے، اب تو خیر وہ جس جگہ جاب کر رہا ہے وہاں اب اتنے مسلمان ہیں کہ سارا سال ہر روز با جماعت نماز ادا کی جاتی ہے،، ابھی دو دن پہلے ویک اینڈ پرافراز نے دوستوں کے ساتھ مل کر شہر کی مسجد میں افطاری اور ڈنر کا زبردست اہتمام کیا تھا،جس میں مرد اور خواتین کی بہت بڑی تعداد شریک تھی ، میں نے بھی ایک رمضان ڈینور میں گزارا ہے وہاں عام دنوں میں عموماََ اور ویک اینڈ پر خصوصاََ شہر کی مساجد میں افطاری کا اہتمام کیا جاتا ہے جس میں شہر میں مو جود مختلف ممالک کے مسلمان شرکت کرتے ہیں اسی طرح ہر رمضان میں تراویح میں ختم القران کا بھی بندو بست کیا جاتا ہے تاہم ہمارے ہاں کے بر عکس وہاں ایک ڈیڑھ پارہ ہی پڑھا جاتا ہے ،بہر حال رمضان المبارک میں مساجد کی رونق دیکھنے لائق ہوتی ہے۔ بات گھر پر افطاری کے لطف کی ہو رہی تھی میری بھی یہی خواہش ہوتی ہے مگر بسا اوقات باہرجانا ناگزیر ہو جاتا ہے، اور اس بار تو پہلی اور دوسری دو دن افطاری گھر سے باہر تھی کیونکہ جس نجی پشتو چینل پرمیرا ادبی شو چلتا ہے،اس چینل کی ہر سال رمضان المبارک میں خصوصی براہ راست (لائیو ) نشریات ” لبیک یا رمضان “ کے نام سے ہوتی ہیں یہ تین گھنٹے کا لگاتار شوہے جو افطار تک چلتا ہے۔سو افطاری بھی وہیں ہوتی ہے ،پہلے روزے اس شو کے تعارفی پروگرام میں سارے میزبان شریک تھے، پھر ہر دن دو میزبان شو پیش کرتے ہیں، اور اتفاق سے پہلے رمضان کے تعارفی شو کے بعد دوسرے ہی دن میری باری تھی۔ دونوں دن گھر سے دور رہا، پھر گاو¿ں بھی جانا ہوتا ہے،لیکن غنیمت ہے کہ اب کے پہلی بار بہت سی افطاریاں گھر پر نصیب ہوئیں، دو ایک دوستوں کو معذرت بھی کرنا پڑی مگر ہر رمضان میں ایک افطار ڈنر کا اہتمام بہت برسوں سے اباسین آرٹس کونسل کے صدر اور معروف سماجی کارکن ’روٹیرین‘ عبدالروف ایڈو کیٹ کرتے ہیں۔

 ہم خیال دوستوں کا یہ اکٹھ ایک طرح جو، اب روایت کی حیثیت اختیار کر گیا ہے بہت تازہ دم کر دیتا ہے ،سو وہاں جانا لازمی ہے۔البتہ افطاری کے بعد رات کو بعض احباب کے سا تھ نشستوں کا سلسلہ وقفوں سے جاری ہے گزشہ کل مشتاق شباب کے گھر دوست جا پہنچے اور پھر سحری تک وہیں رہے، کچھ بچھڑنے والے دوستوں سے بات شروع ہوئی اور پھر ادبی سرگرمیوں تک جا پہنچی۔ وہ دن یاد کئے گئے جب حلقہ¿ ارباب ذوق میں ادبی سرگرمیاں رمضان میں بھی جاری رہتیں جو مختلف دوستوں کے گھر وں میں افطار ڈنر کے ساتھ ہوتیں تا کہ کار ادب رکنے نہ پائے۔ کوہاٹ کے ایوب صابر اپنے کالموں میں لکھتے کہ روزوں میں ہمارے صوبے کے لکھاری کار ادب صرف پڑھنے کی حد تک ہی کرتے ہیں، لکھنا ترک کر دیتے ہیں۔ شاید وہ درست کہتے ہوںمگر میں سمجھتا ہوں کہ لکھنا اختیاری تھوڑی ہو تا ہے، لکھنے کا حکم بھی ا±سی طرح غیب سے ملتا ہے، جس طرح غالب نے شعر میں تازہ مضامین کی آمد کے بارے میں کہا تھا۔
آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں
غالب صریر ِ خامہ نوائے سروش ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔