65

موٹر سائیکل چلانے والی ڈولفن مچھلیاں

ان دنوں تو ہر جانب ڈالر کی ہاہا کار مچی ہے اور ڈالر ہے کہ ادھر ڈوبا ادھر نکلا کبھی ڈوبا اور پھر نکلا تو گویا پرندہ ہو گیا‘ معیشت کی فضائے بسیط میں پرواز کرنے لگا اور اب ماہرین اپنی اپنی معاشی قابلیت کے کوٹھوں پر چڑھ کر اسے پچکارتے ہیں۔ سیٹیاں بجا کر متوجہ کرتے ہیں جیسے کبوتر باز اپنے کبوتروں کو واپس ٹھکانے پر لانے کے لئے عجب عجب آوازیں نکالتے ہیں کہ آ لوٹ کے آ جا میرے میت تجھے میرے گیت بلاتے ہیں اور ڈالر ہے کہ پرواز کرتا چلا جاتا ہے۔ نخرے دکھاتا ہے قلا بازیاں لگاتا ہے لیکن فی الحال ہماری منڈیر پر اترتا ہی نہیں‘ لیکن اس ڈالر ہاہا کار سے کچھ ہفتے پیشتر قومی اخراجات میں کمی کی ایک مہم چلی تھی یعنی بھینسیں اور ان کے کٹے فروخت کر دیئے گئے تھے‘ گورنر ہاﺅس عوام کے لئے کھول دیئے گئے تھے۔ تمام سرکاری محکموں کو ہداےت کی گئی تھی کہ وہ اپنے اخراجات کم کر کے ملکی خزانے کی لبریزی کا سبب بنیں چنانچہ یہ وہ دن تھے جب وزیر اعظم ہاﺅس میں مدعو حضرات یا تو جیب میں ابلے ہوئے انڈے لے کر جاتے تھے اور یا پھر وزیر اعظم سے ملاقات کرکے باہر آتے تھے تو گرتے پڑتے آتے تھے کہ وہاں روکھی سوکھی چائے کے علاوہ شکم پروری کے لئے کچھ دستیاب نہ ہوتا تھا۔ البتہ کسی سربراہ مملکت کی آمد پر بسکٹوں کا ایک پیکٹ کھل جاتا تھا اور عوام الناس رَجھ رَجھ کے کھاتے تھے۔

 شنید ہے کہ وزیر اعظم ہاﺅس کی بچی کھچی خوراک پر گزارہ کرنے والی بلیاں ان دنوں بہت لاغر ہو گئی ہیں۔ کتے چوﺅں چوﺅں کرنے لگے کہ اگر باورچی خانے کو تالے لگ جائیں گے۔ خوراک تیار ہی نہیں ہو گی تو پھر وہ کہاں بچے گی یاکھچے گی چنانچہ ان میں سے بیشتر نے جاتی عمرہ کا سفر اختیار کیا کہ وہاں ابھی تک خوراک کی ریل پیل تھی بلکہ پہلے سے کہیں زیادہ کوڑے کے ڈھیروں پر پھینکی جاتی تھی کہ وہاں کے کچھ مکین تو جیل جا چکے تھے اور بقیہ پر عدالتوں وغیرہ میں اتنے مقدمے چل رہے تھے کہ ان کی بھوک اڑ گئی تھی‘ تو قومی بچت کی اس مہم میں شامل ہو جانا میرا قومی فرض بنتا تھا چنانچہ میں نے نہاےت صدق دل سے ایسے سرکاری محکموں کی فہرست تیار کی جن پر خاصے اخراجات اٹھ رہے تھے اور جن کو اگر غتربودکر دیا جاتا تو کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوتی کہ ان کی موجودگی سے قومی صحت پر کچھ اثر نہ پڑتا تھا بلکہ صحت بہتر ہو جانے کا امکان زیادہ تھا۔ یقین کیجیے ان محکموں یا اداروں یا کمیٹیوں وغیرہ سے مجھے کچھ ذاتی پرخاش نہ تھی۔ میں نے اس قومی بچت کی مہم کا آغاز ڈولفن فورس کے بارے میں ایک کالم سے کیا۔ اب آپ جانئے کہ ڈولفن ایک نہاےت انسان دوست اور کھلنڈری مچھلی کا نام ہے۔ یہ اکثر بندرگاہ سے نکلنے والے جہازوں اور کشتیوں کا پیچھا کرتی ہے۔ ڈوبتی ابھرتی سیٹیاں بجاتی چلی آتی ہے۔

ایک تو میری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ ایک پولیس فورس کا نام ڈولفن کیوں رکھا گیا کہ بے چاری ڈولفن نہ تو لاکھوں روپوں کی شاندار وردی زیب تن کرتی ہے نہ بیش قیمت ہیلمٹ پہنتی ہے اور جہازی سائز کے مہنگے موٹر سائیکل تو ہرگز نہیں چلاتی اور اگر بہ فرض محال چلاتی ہے تو دن دےہاڑے ان کی تمام لائٹس روشن کر کے بے وجہ دندناتی تو نہیں پھرتی۔ آپ جانتے ہوں گے کہ ڈولفن فورس چھوٹے میاں صاحب حال مقیم لندن برائے علاج معالجہ کا ’برین چائلڈ‘ ہے یعنی یہ ان کے دماغ کا بچہ ہے اور بچہ بھی ایسا جو استنبول سے اغوا کیا گیا تھا۔ میاں صاحب یعنی برادر خورد نے شنید ہے کہ استنبول میں اس نوعیت کی بنی ٹھنی یونہی ہارن بجاتی ڈولفن فورس دیکھی تو اس پر دل و جان سے فدا ہو گئے۔ وطن واپسی پر پہلی فرصت میں جوں کی توں شکل اور وردی میں اس کی تشکیل کا حکم جاری کیا جس پر جنگلہ بس جتنے تو نہیں اس کے قریب قریب اخراجات اٹھے۔نوجوانوں کی بھرتی کوئی مسئلہ نہ تھی۔ پارٹی کے بہت سے جیالے بیکار پھرتے تھے انہیں روزگار مل گیا۔ چنانچہ لاہور کم از کم اس حوالے سے استنبول کے ہم پلا ہو گیا کہ وہاں بھی اسی رنگ ڈھنگ کی ڈولفن فورس گھومتی تھی اور یہاں بھی اس کی کاربن کاپی سڑکوں پر بے وجہ لائٹیں جلائے پاں پاں کرتی دندناتی تھی۔ پولیس کے اتنے وسیع محکمے کے باوجود آخر اس کے متوازی ایک اور فورس قائم کرنے کی کیا ضرورت تھی اور اربوں روپے ضائع کرنے کی کیا تکلیف تھی۔ حکمران چاہے آمر ہوں یا عوام کے منتخب ہوں۔

 مسلسل اقتدار ان کو قائل کر دیتا ہے کہ تم تو ایک معجزہ ہو۔ تمہارے دماغ کے سامنے آئن سٹائن کا دماغ تو مکوڑا تھا۔ چنانچہ ان کے دماغ میں خبط کا ایک جرثومہ پرورش پانے لگتا ہے اور وہ نہاےت نامعقول فیصلے کرنے لگتے ہیں اور درباری ان فیصلوں پر داد کے ڈونگرے برسانے لگتے ہیں کہ وہ خود بھی نامعقول ہوتے ہیں۔ آپ کو یاد ہو گا کہ بھٹو صاحب نے فیصلہ کیا کہ وہ اور ان کی کابینہ کے ارکان خصوصی طور پر ڈیزائن کئے ہوئے بند گلے کے کوٹ سنہری آرائش والے اور پتلونیں پہنا کریں گے۔ بھٹو صاحب کو تو ہر لباس سج جاتا تھا البتہ ان کے بیشتر وزراءان وردیوں میں بینڈ ماسٹر لگتے تھے۔ذرا تصور کیجئے کہ ڈاکٹر مبشر حسن ایسے دانشور اور ملک معراج خالد ایسے درویش صفت انسان کو بھی مجبوراً یہ وردیاں پہنا کر بینڈ ماسٹر بننا پڑا۔چنانچہ ہم شکر کرتے ہیں کہ چھوٹے میاں صاحب نے ذاتی طور پر ڈولفن کی وردی اور ہیلمٹ نہیں پہن لی تھی اور موٹر سائیکل پر پھٹ پھٹ کرتے ہوئے جاتی عمرہ سے چیف منسٹر ہاﺅس روانہ نہیں ہو گئے تھے صرف ایک ضرورت سے بڑے کاﺅ بوائے ہیٹ پر اکتفا کر گئے اور ڈولفن فورس والوں کو یا تو میں نے بے وجہ لائٹیں جلاتے موٹر سائیکلیں بھگاتے دیکھا ہے اور یا پھر لڑکیوں کے ساتھ سیلفیاں اترواتے۔

 شنید ہے کہ سینکڑوں بیش قیمت موٹر سائیکلیں خراب شدہ حالت میں بیکار کھڑی زنگ آلود ہو رہی ہیں۔ یہ کون لوگ ہیں ان کا دائرہ کار کیا ہے اور انہوں نے اب تک کون سے کارنامے سرانجام دیئے ہیں۔ کسی کوکچھ پتہ نہیں البتہ کبھی کبھی وہ محلے کے کسی پاگل نوجوان کے ہاتھ میں پکڑی ہوگی چھری سے ہراساں ہو کر اسے ہلاک کر ڈالتے ہیں اور خبروں کی زینت بن جاتے ہیں۔ آخر اتنے قیمتی اسلحہ کو استعمال تو کرنا ہے۔ زنگ تو نہیں لگانا۔ ابھی چند روز پیشتر انہوں نے ایک عورت کو بے وجہ گولیوں سے بھون ڈالا ہے کیا یہ کارنامہ نہیں۔ ویسے ڈولفن فورس کارآمد ثابت ہو سکتی ہے۔ انہیں موت کے کنویں میں موٹر سائیکل چلانے پر مامور کر دیا جائے تب یہ بیکار بھی نہیں رہیں گے اور ٹکٹوں کی آمدنی بھی خاصی ہو جائے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔