236

بجٹ ترجیحات اور عوام

قومی اقتصادی کونسل نے اگلے مالی سال کیلئے 1837ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ کی منظوری دیدی ہے‘ کونسل کے اجلاس میں جی ڈی پی کا ٹارگٹ 4فیصد مقرر کیاگیا ہے‘ اقتصادی کونسل کی جانب سے وطن عزیز کے 12ویں 5سالہ منصوبے کی اصولی منظوری بھی دیدی گئی ہے‘ وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ملک کو درپیش معاشی بحران سے نکلنے کیلئے صوبے اور وفاق مشترکہ اقدامات اٹھائیں جبکہ وزیراعظم صوبوں سے یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ وہ خیبرپختونخوا کا حصہ بننے والے قبائلی اضلاع کی مالی ضروریات پوری کرنے سے متعلق اپنے وعدے پورے کریں‘ مہیا تفصیلات کے مطابق مالی سال 2019-20ءکیلئے 11جون کو پیش ہونیوالے میزانیے میں صنعتوں کیلئے شرح نمو 2.2جبکہ خدمات کیلئے 4.8فیصد مقرر کی گئی ہے‘ حکومت پبلک سیکٹر ڈیویلپمنٹ پروگرام میں زراعت‘ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور فنی تعلیم پر زیادہ توجہ دینے کا فیصلہ کررہی ہے‘ وزیراعظم پرامید ہیں کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں نئے بلدیاتی نظام کیساتھ اختیارات عوام کو منتقل کرنے میںمدد ملے گی‘ وطن عزیز میںمعاشی مشکلات ایک حقیقت ہیں‘ اندرونی اور بیرونی قرضوں کا حجم روزبروز بڑھتا چلا جارہا ہے‘ اس کیساتھ حقیقت یہ بھی ہے کہ متعدد سرکاری ادارے سیاسی دباﺅ اور سفارش کی بنیاد پر خلاف میرٹ تقرریوں کے باعث مطلوبہ کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے ہیں۔

 یہی وجہ ہے کہ گزشتہ روز مزید 31اثاثوں کی نجکاری کا عندیہ دیاجاچکا ہے بجٹ سے قبل ملک میں گرانی طوفان کی صورت اختیار کئے ہوئے ہے‘ یوٹیلٹی بلوں میں اضافے کیساتھ پٹرولیم مصنوعات روزبروز مہنگی ہوتی چلی جارہی ہیں‘ جو پوری مارکیٹ کو متاثر کرتی ہیں‘دوسری جانب خدمات کے شعبوں میں مرکز اور صوبوں کی جانب سے بھاری بجٹ مختص کرنے کے باوجود لوگوں کو بنیادی سہولیات تک حاصل نہیں‘ ہسپتالوں میں مریض برآمدوں میں پڑے ایڑیاں رگڑ رہے ہیں جبکہ میونسپل سروسز کے ادارے پینے کا صاف پانی تک فراہم کرنے میں کامیاب نہیں ہو پارہے‘ اقتصادی مشکلات سے نکلنے کیلئے حکومت کی کوشش اور عزم قابل اطمینان سہی تاہم آنے والے بجٹ میں اگر فوکس صرف اقتصادی اعشاریوں میں بہتری پر ہی کیاگیا اور عوامی ریلیف کیلئے مناسب حکمت عملی نہ دی گئی تو لوگوں میں مایوسی بڑھے گی اور اربوں کے نئے متوقع ٹیکس عوامی مشکلات میں مزید اضافے کا موجب بن جائیں گے۔

عید شاپنگ اور ٹریفک؟

عید الفطر کے لئے ذمہ دار ادارے سکےورٹی پلان ضرور تشکیل دیتے ہیں تاہم اس کیساتھ ضرورت بازاروں میں بڑھنے والے رش اور اس کے نتیجے میں پارکنگ کے حوالے سے انتظامات کی بھی ہے‘ ضرورت بازاروں میں ہلڑ بازی کو قابو میں رکھنے کی بھی ہے تو خواتین کے رش والے بازاروں میں خصوصی انتظامات کی بھی ‘ ہوائی فائرنگ کی روک تھام کے لئے اقدامات میں کمیونٹی کو شریک کرنا بھی ناگزیر ہے جبکہ بازاروں میں سکےورٹی‘ پارکنگ اور نرخوں کے کنٹرول میں تاجروں کی اپنی تنظیموں سے تعاون لینا بھی مثبت نتائج دے سکتا ہے‘ اس سب کیساتھ نرخوں پر کنٹرول خصوصاً ٹرانسپورٹ کرایوں کو اپنی حد میں رکھنے کے لئے انتظامات بھی ضروری ہیں‘ جن کے لئے ٹرانسپورٹرز کی مختلف تنظیموں کو سارے عمل میں شریک کیاجاسکتا ہے۔