65

خوابوں کی دنیا

 موجودہ انتخابات سے قبل ہم یہ سن رہے تھے کہ سابقہ حکومتوںنے عموماً‘شریف خاندان اور زرداری خاندان نے خصوصاًاتنے زیادہ ڈالر ملک سے باہر نکالے ہیں کہ جیسے ہی عمران خان برسر اقتدار آئے گا تو وہ سارے ڈالر جو ملک سے باہر نکال لئے گئے ہیں لمحوں میں پاکستان واپس آئیں گے اورملک میںخوشحالی آجائے گی‘عمران خان کو اقتدار میں آئے نوماہ سے زیادہ ہو گئے ہیں مگر آج تک نہ وہ ڈالر واپس آئے اور نہ خوشحالی واپس آ سکی۔ الٹا مہنگائی نے وہ زور پکڑا ہے کہ عام آدمی کو دو وقت کی روٹی بھی نصیب نہیں ہورہی‘اور ڈالروں کا توشاےد پینتیس پنکچروں والا ہی معاملہ دکھائی دیتا ہے‘ جس طرح پینتیس پنکچر سیاسی نعرہ تھا اسی طرح منی لانڈرنگ بھی لگتا ہے کہ سیاسی نعرہ ہی ہے‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ پیسہ ملک سے باہر گیا ہے اور اسکی وجوہات بھی کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہیں‘ یہ پیسہ چونکہ بیرونی ممالک میں سرمایہ کاری پر خرچ ہو چکا ہے اسلئے اسکی واپسی بھی ممکن نہیں ہے اور یہ بھی کہ یہ دوخاندانوں نے ہی نہیں نکالا بلکہ کراچی میں جتنے بھی کارخانہ دار یا بڑے تاجر تھے انہوں نے کراچی کے حالات سے بددل ہو کر اپنا سرمایہ باہر کے ملکوں میںانویسٹ کر دیاہے‘ اب صرف دو خاندانوں کو ٹارگٹ کر لینا اورسارے پاکستان کی منی لانڈرنگ کا ذمہ دار ان ہی کو قرار دینا سرمائے کی واپسی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ‘اب اگر کسی ٹھیلے والے کے اکاو¿نٹ سے اربوں ڈالر کی ٹرانزیکشن ہوئی ہے یا کسی مزدور کے اکاو¿نٹ سے اربوں ڈالر ملے ہیں توکیا یہ ضروری ہے کہ وہ زرداری یا نواز شریف ہی کی ملکیت تھے‘پاکستان میں اور بھی سینکڑوں لوگ ہیں۔

جو ڈالروں کے کاروبار میں ملوث ہیں اور یہ لوگ اپنی دولت کو چھپانے کے بھی ماہر ہیں اور جب حکومت کا اور اس کے اداروں کاسا رارخ ہی دو خاندانوں کی جانب ہے توان لوگوں کے تومزے بنے ہوئے ہیں اور وہ جو بھی منی لانڈرنگ کر رہے ہیں اس پرحکومت زرداری اور شریف خاندان سے پوچھ گچھ میں مصروف ہے‘اور سب پر اثاثوں اور آمدن کے مقدمے بن رہے ہیں ‘یہ نہیںدیکھا جا رہا کہ انکے کاروبار آج کے نہیں بلکہ ایک مدت سے اس ملک میں جاری ہیں‘ خیر یہ تو ان خاندانوں کا معاملہ ہے کہ وہ کیسے اپنا جواب دیتے ہیں مگر اس صور تحال نے معیشت کا بیڑا تباہ کر دیا ہے۔ حکومت کا خیال ہے کہ یہ ڈالر واپس آئیں گے تو معیشت عروج پر پہنچ جائے گی اسلئے اس طرف کسی کی توجہ ہی نہیں جا رہی کہ معیشت کدھر جا رہی ہے۔ قومی اسمبلی کہ جہاں کوئی ملکی معیشت کی بات ہو کوئی ملک کو آگے لے جانے کی بات ہو وہاں ایک سنجیدہ مسئلے کو بھی تلخی کی نذر کر دیا جاتا ہے‘ہماری حکومت ابھی تک خوابوں کی دنیا سے نہیں نکل پارہی‘ اب لاکھوں گھروں کی اور کروڑوں نوکریوں کی بات ہو رہی ہے تو مجھے اپنے دوستوں کاایک لطیفہ یاد آ رہا ہے کہ ایبٹ آباد میں ایک مشاعرہ ہوا ‘اس میں مانسہرہ اور ہری پور کے دوست بھی شامل ہوئے ‘ ۔

شاعرہ رات دیر سے ختم ہوا تو ہمارے ایک دوست نے مانسہرہ کے دوستوںسے کہا کہ وہ رات یہیں ٹھہر جائیں ‘انہوں نے انکار کیا تو اس دوست نے اصرار کیا ۔آخرمانسہرہ کے اےک دوست نے کہا کہ کہاں ٹھہریں ؟ تو اصرار کرنے والے دوست نے کہا کہ” ہاں یہ بات تو ہے“وزیر اعظم صاحب جگہ جگہ مکانات کے علاقوں کا افتتاح کر رہے ہیں اور ساتھ یہ بھی خوشخبریاں سنارہے ہیں کہ اس سے سینکڑوں فیکٹریوں کوجِلا ملے گی اور ہزاروں لوگوں کو روزگار ملے گا۔مگر اس کےلئے پیسے کہاں سے آئیں گے‘ یہ سوال البتہ ایساہے کہ جس کا جواب ہمارے خیال میں یہی ہے کہ ’ہاں یہ بات تو ہے‘ جب ملک میں پیسہ اتنا بھی نہیں ہے کہ لوگوں کی تنخواہیں پوری ہو سکیں توان اللوں تللوں کےلئے رقم کہاں سے آئے گی‘اس میں شک نہیں کہ اگر مکانات کی تعمیر شروع کر دی گئی تو بہت سی انڈسٹریوں کےلئے میدان کھل جائے گا اور اس میں لوگوں کو نوکریاں بھی ملیں گی مگر اس کےلئے جو سرمایہ درکار ہو گا وہ کہاں سے آئے گا؟ ہاں اگر ڈالروں ہی کی توقع پر افتتاح ہو رہے ہیں تو ہم کیا کہہ سکتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔