77

افغان امن کی بحالی‘مشکلات

افغانستان میں قیام امن کی کوششیں اس وقت تک خاطرخواہ اور عملاً کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوں گی جب تک فریقین اپنے مو¿قف میں لچک کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ المیہ رہا ہے کہ اقتدار میں رہنے اور آنے کےلئے لالچ کا مظاہرہ تو کیا جاتا ہے لیکن خانہ جنگی سے تباہ حال ملک کو اپنے پاو¿ں پر کھڑا کرنے اور افغان عوام کی اکثریت کے مصائب و مشکلات نیز خطے کی سکےورٹی صورتحال کے حوالے سے دو بنیادی فریق‘ افغان حکومت اور مزاحمت کار افغان طالبان اپنی اپنی بات منوانے کےلئے پہلے سے زیادہ سختی اور شدت پسندی پر اتر آئے ہیں‘تازہ ترین پیشرفت یہ ہوئی ہے کہ افغان طالبان نے روس میں ہونےوالے بین الافغان اجلاس میں بھی افغانستان کے حکومتی نمائندوں کےساتھ مذاکرات سے انکار کیا تو مذکورہ اجلاس میں افغان حکومت کے نمائندے شریک نہیں ہوئے‘ عالمی سطح پر افغان امن کے قیام کی کوششوں کو ماضی میں بھی اس قسم کے روئیوں سے نقصان پہنچتا رہا ہے‘ ذرائع ابلاغ میں شائع ہونےوالی خبروں کے مطابق دوسرے دن کا اجلاس ایجنڈے پر اختلافات کے باعث منعقد نہیں ہو سکا‘ اس سے پہلے اٹھائیس مئی کو ہونےوالے اجلاس میں بھی افغان حکومت کے صرف دو نمائندے شامل تھے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے سوشل میڈیا پر جاری کئے پیغام مےں کہا کہ ’پہلے روز چونکہ روس اور افغانستان کے 100سالہ سفارتی تعلقات پر بات چیت ہورہی تھی۔

 اسلئے انہوں نے افغان حکومت کے نمائندوں کےساتھ شرکت کی لیکن اب افغان طالبان حکومتی نمائندوں کی موجودگی میں بین الافغان کانفرنس میں شرکت نہیں کرسکتے‘افغان سیاستدانوں کے وفد میں سابق افغان صدر حامد کرزئی‘ افغان امن کونسل کے سربراہ کریم خلیلی‘ روس میں متعین افغان سفیر ڈاکٹر لطیف بہاند اور دوخواتین سمیت کل 24ارکان شامل تھے جبکہ ملاعبدالغنی برادر کی سربراہی میں 14رکنی طالبان وفد ماسکو اجلاس میں شریک تھا۔ اجلاس کے پہلے دن کے آغاز میں ملاعبدالغنی برادر پہلی مرتبہ ذرائع ابلاغ کے سامنے آئے اور اجلاس میں مختصر بات چیت بھی کی‘اٹھاون سالہ ملا عبدالغنی برادر پاکستان میں قریب 9سال قید کاٹنے کے بعد رواں برس فروری میں دوحہ چلے گئے تھے‘ جہاں ان کو طالبان نے قطر سیاسی دفتر کا سربراہ مقرر کیا افغان طالبان امریکہ کو افغانستان پرقابض سمجھتے ہیں اور ان کا سب سے بڑا مطالبہ افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا ہے اور وہ افغان حکومت کو امریکہ کی کٹھ پتلی حکومت بھی قرار دیتے ہیں۔ افغانستان میں قیام امن کےلئے امریکہ اور طالبان کے درمیان 2013ءسے اب تک لگ بھگ 19 مذاکراتی ادوار مختلف ممالک میں منعقد ہوچکے ہیں۔

 اس عرصہ میں طالبان کی کئی دیگر ممالک کے وفود کےساتھ بھی افغان امن کے سلسلے میں بات چیت ہوئی ہے لیکن امریکہ سمیت کئی ممالک کی کوششوں کے باوجود بھی طالبان‘ افغان حکومت کےساتھ مذاکرات کےلئے رضامند نہیں یقینا طالبان اسوقت کے انتظار میں ہیں جب انکے اس سب سے بڑے مطالبے پر عملدرآمد ہوجائے گا کہ افغان سرزمین سے تمام غیرملکی افواج بشمول امریکہ کا انخلا ہوجائے یا اس کےلئے امریکہ کسی باقاعدہ ٹائم ٹیبل کا اعلان کردے‘اگر ایسا ہو جاتا ہے تو یقینا افغان حکومت اور طالبان کے درمیان فاصلے کم ہو جائیں گے‘طالبان کو کسی بھی قسم کی جلدی نہیں‘ان کے پاس وقت ہی وقت ہے جبکہ افغان حکومت اور دنیا میں امن دیکھنے کے خواہشمند ممالک کو جلدی ہے کیونکہ افغان خانہ جنگی سے متاثرہ افراد ایک مسلسل عذاب سے گزر رہے ہیں‘ جنکی کفالت پر اٹھنے والے اخراجات برداشت کرنےوالے ممالک جن میں پاکستان بھی شامل ہے دلی خواہش رکھتے ہیں کہ افغان مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل جلد نکلنا چاہئے۔

اس صورتحال میں جب حزب مخالف سے تعلق رکھنے والے سیاسی جماعتوں کے رہنما طالبان سے ملتے ہیں اور وہ حکومت کےساتھ ملنے سے انکار کرتے ہیں تو ان جماعتوں اور حکومت کے درمیان فاصلے بڑھیں گے ‘ دارالحکومت کابل میں جو حزب مخالف کی جماعتیں یا سیاستدان ہیں‘ ان سے تو طالبان کی دو مرتبہ صرف ماسکو میں ملاقاتیں ہوئی ہیں اور پھر حزب مخالف سے ملنے کےلئے افغان طالبان ہر وقت تیار بھی رہتے ہیں تو صاف دکھائی دے رہا ہے کہ صدر اشرف غنی کی منتخب اور آئینی حکومت تنہا رہ جائے گی اور اس صورت میں انکا سیاسی مستقبل بھی زیادہ روشن نہیں دکھائی دے رہا!لیکن کیا افغان حکومت کی عدم موجودگی میں کسی بھی سطح پر ہونے والے امن مذاکرات میں کوئی پیشرفت ممکن ہے؟ شاید ہاں اور یقینا نہیں‘ کیونکہ وہ اصل فریق ہے۔ اگر اس طرح کے مذاکرات میں صرف عید الفطر کےلئے بھی جنگ بندی نہیں ہوسکتی تو امن کی بحالی شاید زیادہ مشکل ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔