284

کائنا ت کا مطالعہ

اگر قمری کلینڈر کو اس ملک میں نافذ کردیا جاتا ہے تو یہ جو دو دو عیدیں منانے کا چلن اپنے ہاں عام ہے یہ اپنی موت آپ مر جائے گا سائنسی ایجادات سے ہمیں مستفید ہونا چاہئے بھلے ان کا خالق کوئی بھی کیوں نہ ہو اگر ان سے بنی نوع انسان کا فائدہ ہوتا ہے‘ وہ شر کو ختم کرتی ہے یا انسانی جسم کی بیماریوں کو رفع کرتی ہیں تو نہیں اپنانے میں کیا قباحت ہے؟ جب اس خطے میں لاﺅڈ سپیکر نیا نیا آیا تھا تو یار لوگوں نے اس کے استعمال کی بھی کھل کر مخالفت کی تھی اور تو اور بجلی کے کھمبوں کی تاروں کو یار لوگوں نے شیطان کی آنتوں سے تشبیہ دی تھی وقت کے ساتھ ساتھ قمری کلینڈر بھی ایک دن حقیقت بن جائے گا۔ بزرگوں کا فرمان ہے اور کتابوں میں ہم نے پڑھا ہے کہ کائنات کا مطالعہ بھی از بس لازمی ہے انسان کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ زمین میں چل پھر کر دیکھے کہ خدا نے کس طرح آفرینش کی ابتداءکی مطالعہ کائنات کی اہمیت کا اندازہ صرف اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن میں مطالعہ کائنات کے متعلق کافی زیادہ آیات موجود ہیں جومعادن ارضیہ دفائن جبال اور خزائن بحار سے مستفید ہونے کا درس دیتی ہے آج اہل مغرب لوہے‘ تانبے‘ بارود اور دیگر خزائن ارضی سے فائدہ اٹھا کر فلک‘ علم و ہنر پر آفتاب بنے ہوئے ہیں ہواﺅں میں اڑ رہے ہیں دریاﺅں میں تیر رہے ہیں زمین کی بعید ترین اطراف کی خبریں لمحوں میں سن رہے ہیں آنے حوالے حوادث سماویہ باد و باراں کی خبریں دے رہے ہیں‘ یہ کیوں؟ اسلئے کہ وہ صحیفہ کائنات کے مطالعہ کے بعد اس کے قوانین ونشانیوں کو اپنی بہتری کےلئے استعمال کررہے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ کائنات میں غور وفکر سے ہی اقوام نے ترقی کی ہے اور آج پوری دنیا پر راج کررہی ہیں‘ مسلمان جب تک ستاروں پرکمند ڈال رہے تھے تو ان کو اقوام کی دنیا میں قیادت کرنے والی قوم کی حیثیت حاصل تھی ‘پھر وہ دور بھی آیا کہ ہم نے سائنس اور تحقیق کو چھوڑ کر دیگر معاملات پر توجہ دینے شروع کی جس کے نتیجے میں دیگر اقوام نے اس دولت کو اپنایا جسے ہم نے ٹھکرایا اور آج ہم جس دور سے گزر ررہے ہیں اس کو بدلنے کیلئے ہمیں ایک بار پھر سائنس اور ٹیکنالوجی سے ہر شعبہ زندگی میں بھرپور استفادہ کرنا ہوگا‘ہم نے وہ دور بھی دیکھا ہے کہ جب ہر ضلع میں رویت ہلال کمیٹی ہوا کرتی اسکی سربراہی ضلع کا ڈپٹی کمشنر کرتا رمضان شریف کا چاند یا عیدین کا چاند دیکھنے کےلئے یہ کمیٹی اجلاس منعقد کیا کرتی اور چاند دیکھنے کے بارے میں شہادتوں کو ریکارڈ کرنے کے بعد رمضان شریف کے مہینے کے آغاز یا عیدالفطر اور عیدالاضحی کے دن کا اعلان کرتی اکثر ایسا بھی ہوجاتا کہ ڈپٹی کمشنر کوئی اور فیصلہ کردیتا اور ضلع کا کوئی خطیب مسجد کوئی اور ایک کے بجائے دو دو عیدیں ہو جاتیں اور یہ سلسلہ ایک معمول بن گیا اسی طرح کے ایک واقعے کو معروف شاعر مرزا محمود سرحدی جن کو اکبر سرحد کہا گیا نے ایک قلعہ میں یہ لکھ کر کیا خوبصورت الفاظ میں قلم بند کیا۔

ہمارے ڈپٹی کمشنر نے چاند دیکھا ہے
ہمیں معلوم ہے وہ غیر ذمہ دار نہیں

ماضی میں تو یہ تماشہ بھی ہم نے دیکھا کہ دو عیدوں کے بجائے اس خطے میں تین تین عیدیں بھی ہوئیں۔ عید مسرتوں کا دن ہے خوشیوں کا مذہبی تہوار ہے یہ دن ایک دوسرے کو دیکھنے کا موقع فراہم کرتا ہے تب ہی تو ایک شاعر نے کہا کہ
مجھے مل گیا بہانہ تیری دید کا
کیسی خوشی لے کے آیا چاند کا عید
پر جن کا محبوب اور ہوتا ہے ان کے لبوں پہ یہ فریاد بھی .... لگتی ہے کہ عید کا دن تیرے بن ہے پھیکا
آجا آجا کہ دن ہے خوشی کا
ہم اکیلے اور یہ میلے عید ہے اور تیری یاد ہے
عید ہے اور تنہائیاں ہیں کیا کریں یار سے دوریاں ہیں
کچھ بھروسہ نہیں زندگی کا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔