214

اسٹیٹ بینک نے ایف بی آر کو اکاؤنٹ ہولڈرز کی معلومات دینے سے انکار کردیا

اسلام آباد: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے  فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو 5 لاکھ روپے سے زائد کے اکاؤنٹس ہولڈرز کی معلومات فراہم کرنے سے انکار کردیا ہے۔

رازداری قوانین کی بنیاد پر مرکزی بینک کے معلومات فراہم کرنے سے  انکار سے حکومت کے ٹیکس نیٹ وسیع کرنے کے فیصلے کو دھچکا لگا  ہے جو ان اکاؤنٹ ہولڈرز کو ٹیکس نیٹ میں لانا چاہتی ہے۔ ایف بی آر نے یہ انکشاف ہونے کے بعدمرکزی بینک سے تعاون  مانگا تھا کہ  50 ملین بینک اکاؤنٹ ہولڈرز میں  سے بمشکل 10 فیصد انکم ٹیکس فائلرز ہیں۔

اسٹیٹ بینک نے پیر کے روز  ایف بی آر کو اپنے جواب میں لکھا ہے کہ موجودہ لیگل فریم ورک  بینک کے کھاتیداروں کی خفیہ معلومات فراہم کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔

واضح رہے کہ پیر کے روز ہی ایف بی  آر نے اپنی فیلڈ فارمیشنز کو انکم ٹیکس ادا نہ کرنے والوں کے خلاف بھرپور اقدامات کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

خیال رہے کہ چند روز قبل وزیراعظم نے محدود ٹیکس بیس ، کم ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح  پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ایف بی آر کو  ٹیکس نیٹ وسیع کرنے کی ہدایت کی تھی۔ وزیراعظم نے ایف بی آر کی کارکردگی کا ماہانہ بنیادوں پر جائزہ لینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

رواں مالی سال کے 11 ماہ کے دوران ایف بی آر کو  440  ارب روپے کے ریکارڈ ریونیو شارٹ فال کا سامنا ہے، جب کہ جون کے اختتام تک ٹیکس ٹو جی ڈی  پی شرح گر کر  10 فیصد  سے بھی کم ہوجانے کا خدشہ ہے۔

ایف بی آر ہیڈکوارٹر نے پیر کو  اپنی فیلڈ فارمیشنز کو ہدایت جاری کی تھی کہ  مرکزی بینک سے ان تمام بینک اکاؤٹ ہولڈرز کا ڈیٹا حاصل کیا جائے جن کے اکاؤنٹ  میں 5 لاکھ روپے سے زائد رقم موجود ہو۔ مرکزی بینک نے ایف بی آر سے کہا کہ ایس بی پی نہ تو  بینکوں کے اکاؤنٹ ہولڈرز کا ڈیٹا رکھتا ہے اور نہ ہی اس کے پاس  کوئی متعلقہ معلومات یا ریکارڈ ہے۔

مرکزی بینک نے اس نوع کی معلومات کی فراہمی میں  قانونی رکاوٹوں کا بھی ذکر کیا۔  اسٹیٹ بینک نے  ایف بی آر سے کہا ہے کہ   اسے ٹیکس بیس  وسیع کرنے کے لیے یہ معلومات کمرشل بینکوں سے حاصل کرنے کا اختیار ہے۔ لہٰذا ایف بی آر کے لیے براہ  راست  کمرشل بینکوں سے رابطہ کرنا مناسب ہوگا۔

وزیراعظم کی ہدایت پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے چیف کمشنرز سے ڈیفنس ہاوسنگ اتھارٹیز، رجسٹریشن اتھارٹیز،ہاؤسنگ سوسائٹیوں، ڈویلپمنٹ اتھارٹیز، نادرا، بجلی تقسیم کار کمپنیوں ،موٹر وہیکل رجسٹریشن اتھارٹیز، کار مینوفیکچررز اور کار امپورٹرزسمیت ایف آئی اے اور دیگر اداروں سے امیر ترین لوگوںکا ڈیٹا مانگ لیا ہے۔

’’ایکسپریس‘‘ کو دستیاب ایف بی آر کی جانب سے تمام چیف کمشنرز ان لینڈ ریونیو کو لکھے گئے خط کے مطابق تمام چیف کمشنرز کو کہا گیا ہے کہ مذکورہ ایریاز میں فیلڈ فارمیشنز کے پاس موجود بیس لائن ڈیٹا اور اس ڈیٹا کے تناظر میں نئے لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے و اضافی ریونیو اکٹھا کرنے سے متعلق آئندہ مالی سال 2019-20  کیلئے طے کردہ اہداف کے بارے میں رپورٹ تیار کر کے گیارہ جون 2019 تک ایف بی آر کو بھجوائی جائے اور وزیراعظم ماہانہ بنیادوں پربراڈننگ آف ٹیکس بیس کے حوالے سے ایف بی آر کی کاکردگی کا جائزہ لیا کریں گے۔