77

اِمتیازی احتساب؟

جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے صدرِ پاکستان کے نام پانچ صفحات پر مشتمل ممکنہ تفصیلی خط لکھا ہے! جس میں اپنے پہلے خط کا حوالہ دیتے ہوئے صدر عارف علوی سے شکوہ کیا گیا ہے کہ اُنہیں بار بار طلبی کے باوجود بھی اپنے خلاف ریفرنس کی نقل فراہم نہیں کی جا رہی‘ آخر کیوں؟ اِس قسم کی فریاد جب عدالتوں میں دھکے کھانے والے عام لوگ کرتے ہیں تو تب کسی جج کا ضمیر کیوں نہیں جاگتا؟ یہ اپنے پرآسائش کمروں سے نکل کر راہداریوں میں مایوسیوں کی تصویر بنے سائلوں سے شفقت یا کم سے کم انسانی ہمدردی کا سلوک کیوں نہیں کرتے؟ خود پہ افتاد آئی ہے تو آسمان سر پر اٹھا رکھا ہے!جسٹس فائز عیسیٰ کا خط سوشل میڈیا پر کیسے وائرل ہوا جبکہ اُنہوں نے اِسے تین شخصیات (صدر‘ وزیراعظم اور سپرئم کورٹ کے رجسٹرار) کے نام لکھا اور یہ ایک خفیہ دستاویز ہے؟ جب وہ خود ذرائع ابلاغ کا استعمال کر رہے ہیں تو پھر ذرائع ابلاغ میں اُن کے بارے میں بھی سوال اُٹھیں گے‘ جس پر اظہار ناراضگی نہیں ہونا چاہئے۔ اُنہوں نے آئین کے ’آرٹیکل 209‘ کا حوالہ دیتے ہوئے صدر پاکستان کو لکھا ہے کہ وہ جسمانی یا پھر ذہنی طور پر کام کرنے سے معذور نہیں اور شاید ریفرنس کی وجہ ’مِس کنڈکٹ‘ یا نظم و ضبط کی خلاف ورزی ہے۔ اُنہوں نے یہ بھی پوچھا ہے کہ کیا مذکورہ آرٹیکل کے تحت اُن کے خلاف ناقابل تردید شواہد صدر کو دکھائے گئے ہیں کہ جن کی بنیاد پر انہوں نے اسے ”مِس کنڈکٹ“ قرار دیا؟ جسٹس فائز عیسیٰ کے مطابق اس سے پہلے کہ انہیں اس ریفرنس کی کاپی موصول ہوتی اور وہ اس کا جواب دیتے۔

 لیکن ان کے خلاف کردار کشی کی مہم چلا دی گئی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر قانون‘ وزارت اطلاعات کے سینئر ارکان اور دیگر حکومتی ارکان ریفرنس کے مخصوص حصے کی دستاویزات پھیلا رہے ہیں۔ جناب صدر‘ کیا یہ مناسب رویہ ہے اور کیا یہ آئین سے مطابقت رکھتا ہے؟ کیا ریفرنس سے متعلق مخصوص مواد پھیلا کر اور گفتگو کر کے حلف کی خلاف ورزی کے مرتکب نہیں ہو رہے؟ وہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ آیا وزیراعظم کی تجویز پر ان کے خلاف ریفرنس دائر کیا گیا ہے کیونکہ ایک جملے میں اُنہوں نے کہا ہے کہ ’میں صرف یہ تصور ہی کرسکتا ہوں کہ الزام لندن کی تین جائیدادوں کے بارے ہیں! جسٹس عیسیٰ کا مو¿قف ہے کہ یہ جائیدادیں اُن کی بیوی اور بچوں کے نام پر ہیں۔ ان کے بچے کم سن نہیں اور ان کی کفالت کی ذمہ داری بھی اُن پر نہیں۔ جائیدادوں کو کسی بھی طرح چھپانے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی‘ نہ ہی یہ جائیدادیں کسی ٹرسٹ یا کسی آف شور کمپنی کی ملکیت ہے۔

جسٹس فائز عیسیٰ کے بقول ”وہ پاکستان کے ٹیکس قوانین پر مکمل طور پر عمل کرتے ہیں۔ جائیدادوں بارے کبھی کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا۔ نہ ہی میری بیوی اور بچوں کی جائیدادوں بارے کوئی نوٹس موصول ہوا اور اُن پر کوئی حکومتی ٹیکس واجب الادا نہیں ہے۔“ اپنے خط میں سپریم کورٹ کے جسٹس نے صدر سے یہ بھی پوچھا کہ ”کیا اس کی جانچ کی گئی کہ وزیر اعظم نے اپنی بیویوں اور بچوں کے اثاثہ جات گوشواروں میں ظاہر کئے؟ ابتدائی تفصیلات کے مطابق 3 فاضل ججوں کی غیر ملکی جائیدادوں کے حوالے سے شواہد موصول ہوئے تھے‘ جنہیں وزارتِ قانون کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ مراسلے کے مطابق دیگر سرکاری اداروں (بشمول ایف بی آر‘ ایف آئی اے اور نیب) کے ذریعے ان اطلاعات کی جانچ پڑتال کرنے کے بعد وزارت نے برطانوی ہائی کمیشن کے ذریعے ان اثاثوں کی ملکیت کی تصدیق کی۔ یہ معلومات صدر‘ وزیرِاعظم‘ اٹارنی جنرل اور وزارتِ قانون کی رضامندی پر 2 ریفرنسوں کی صورت میں پاکستان کی سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے رکھی گئیں۔ حکومت کی جانب سے جاری کئے گئے بیان میں ججوں کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی تھی۔

 اس سے قبل 29مئی کی صبح پاکستان کے ایڈیشنل اٹارنی جنرل زاہد فخرالدین جی ابراہیم نے یہ کہتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا کہ ”سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کے کچھ ججوں کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں صدارتی ریفرنس دائر کیا جا رہا ہے۔ اُنہوں نے بھی اپنے استعفے میں سپریم کورٹ کے جج کا نام شامل نہیں کیا تھا بلکہ ”نظر ثانی کی درخواست“ کا ذکر کیا اور اس کا نمبر بھی دیا جو گزشتہ ماہ دائر کی گئی تھی۔ نظرثانی کی یہ درخواست فیض آباد دھرنے سے متعلق از خود نوٹس کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی تھی۔پاکستان میں احتساب کا عمل شروع دن سے امتیازی اور عوام کی نظروں میں مشکوک بنایا گیا ہے اور اِس کے پیچھے ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کارفرما ہے‘ جو ملک کے سیاسی و غیرسیاسی فیصلہ سازوں کے احتساب کو سیاسی انتقام قرار دے کر اُنہیں عام آدمی (ہم عوام) کی نظروں سے گرنے سے بچانا چاہتے ہیں۔ سیاست دانوں سے سوال مشرق اور جواب مغرب ملتا ہے۔ قومی احتساب بیورو (نیب) کے روبرو پیش ہونے اور سوالوں کے متعلقہ جواب دینے کی بجائے غیرضروری اور غیرمتعلقہ امور کو چھیڑا جاتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔