82

مثالی و افسانوی

تحقیق کاروں کےلئے انٹرنیٹ متعارف ہونے کے ساتھ زندگی آسان نہیں بلکہ پہلے سے زیادہ مشکل ہو گئی ہے۔ سماجی رابطہ کاری کے ذریعے جہاں اظہار کی آزادی جیسا ہدف حاصل ہوا‘ وہیں جعلسازی بھی اس قدر بڑے اور منظم پیمانے پر ہو رہی ہے کہ حقائق اور سچائی جاننے کےلئے پہلے سے زیادہ محنت درکار ہے! نامور مفکروں سے منسوب فرضی اقوال زریں ہوں یا مشہور شعراءکے ناموں سے خودساختہ شاعری‘ سوشل میڈیا صارفین بناءتحقیق ہر بات پھیلاتے چلے جاتے ہیں اور شیئر کرنے سے پہلے اپنی اس ذمہ داری کا احساس بھی نہیں کرتے‘ جسکا تعلق کہیں نہ کہیں اخلاقیات و اقدار سے بھی ہے! رواں ہفتے پاکستان سے سوشل میڈیا کے ٹاپ ٹرینڈزمیں معروف مسلمان جنگجو صلاح الدین ایوبی کا ایک قول بہت مقبول رہا بلکہ عیدالفطر کے موقع پر اس پر سب سے زیادہ پسند کیا گیا۔ پاکستانی اداکار شان بھی پیچھے نہ رہے جو اِن دنوں غیرمتعلقہ موضوعات پر اظہار خیال کرنے کےلئے سوشل میڈیاپر خاصے سرگرم دکھائی دے رہے ہیں‘انہوں نے یروشلم فتح کرنےوالے صلاح الدین ایوبی کی تصویر کےساتھ ان سے منسوب ایک قول ٹویٹ کیا‘ جس میں کہا گیا تھا کہ ’اپنے دشمنوں سے پہلے غداروں کو قتل کرو۔‘ تب سے صلاح الدین ایوبی نے کہا‘ ٹاپ ٹرینڈ بن گیا! اور اس بحث نے بھی جنم لیا کہ اس قول کا ذکر تاریخ کی کس کتاب سے درج ہے؟ کچھ صارفین یہ جاننے کے اب بھی خواہشمند ہیں کہ آخر اداکار شان کی اس ٹویٹ کا مقصد کیا تھا؟

 کچھ صارفین نے ایسے مزید فرضی اور مزاحیہ اقوال صلاح الدین ایوبی سے منسوب کر کے اس پوری صورتحال سے لطف اندوز ہونے کی کوشش کی۔ صلاح الدین ایوبی سے منسوب قول کو ایک ایسے وقت میں پڑھا اور سمجھا جا رہا ہے جبکہ حکومت احتساب کر رہی ہے اور 9 جون کے روز نیب نے پیپلزپارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے ہیں‘ جنہیں آج 10جون عدالت کے سامنے پیش ہو کر اپنے خلاف عائد الزامات کا دفاع کرنا ہے۔ گویا ایک اور دن تماشے کی نذر ہوگا۔ اب تک آصف علی زرداری پر جتنے الزامات بھی عائد کئے گئے وہ ان سب سے بری ہوں یا نہ ہوں لیکن انہیں عدالتوں سے ضمانتیں ضرور ملی ہیں اور شاید اب طے کر لیا گیا ہے کہ رمضان اور عید کے بعد گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کیا جائے کیونکہ تحریک انصاف نے عوام سے جس بلاامتیاز و سخت گیر احتساب کا وعدہ کیا تھا‘ وہ ابھی تک پورا نہیں ہو سکا ہے!رمضان کے آخری عشرے سے عیدالفطر کے تین دن اور رواں ہفتے سوشل میڈیا پر ’غدار‘ غدار‘ کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ ایک ٹرینڈ چل نکلا ہے جس میں کسی کو بھی غدار قرار دےکر تنقید کی توپوں کا رخ اس کی طرف کر دیا جاتا ہے لیکن ایسا صرف پاکستان کی حد تک ہی محدود نہیں۔ پوری دنیا میں سوشل میڈیا پر اسی طرح کی الزام تراشیاںمعمول دکھائی دیتی ہے۔

بھارت کا سوشل میڈیا زیادہ بے رحم ہے‘ جہاں کسی بھی شخص کو ایک ہی سکینڈ میں ریاست مخالف قرار دے کر واجب القتل قرار دے دیا جاتا ہے یا اس پر انتہاءدرجے کی گالی گلوچ پر مبنی تنقید شروع کر دی جاتی ہے۔ جہاں تک ماضی کے کسی قول‘ تاریخی واقعے یا شخصیت کو استعمال کرنے کی بات ہے تو تاریخ کے کئی باب ایسے ہیں تصوراتی ہے یا پھر جن کو بیتے ہوئے اتنا وقت گزر چکا ہے کہ اسکے بارے میں کچھ بھی کہا جائے تو وہ غلط نہیں لگتا‘ یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی واقعہ گھڑا جا سکتا ہے اور کوئی بھی تصور قائم کیا جا سکتا ہے ‘دراصل ہمارے ہاں حقائق سے زیادہ کہانیوں مقبول ہوتی ہیں اور یہ سوشل میڈیا صارفین ہی نہیں بلکہ ایسے تذکرے نامور مفکروں کے ہاں بھی ملتے ہیں‘ جو سنی سنائی باتوں یا من گھڑت خیالات کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے نیا رنگ دے دیتے ہیں! صلاح الدین ایوبی سے منسوب قول کی حقیقت بھی یہی ثابت کرنے کی اچھی خاصی متحرک کوشش ہے کہ مثالی اور افسانوی ماضی پر یقین کر لیا جائے‘ جس کا استعمال ایک خاص طرح کی طاقت کو عمل میں لانے کےلئے کیا جاتا ہے کہ دیکھیں جب مسلمان شاندار تھے‘ طاقتور تھے اور فتوحات پر فتوحات کر رہے تھے تو اس کی وجہ یہ تھی کہ اِن کی صفوں میں جو غدار تھے انہوں نے پہلے ان کا قلع قمع کیا اور ایسا صرف اسلئے ممکن ہوا تھا کیونکہ ماضی کے رہنمامصلحتوں کا شکار نہیں ہوتے تھے‘وہ اپنے قول و فعل کے پکے تھے اور تب خداخوفی و خداترسی اپنے عروج پر ہوا کرتی تھی‘ پاکستان کے سیاسی و اقتصادی مسائل کا حل بھی اسی قیادت میں ہے‘ جو قومی وسائل کا ذاتی استعمال کرنےوالوں کو غدار سمجھے‘ افسانوی ماضی کے استعمال کی یہی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اسے جھٹلانا ممکن نہیں ‘ضرورت اس امر کی ہے کہ سوشل میڈیا صارفین بناءتصدیق ایسے کسی بھی قول کو نہ پھیلائیں‘ جس کی صداقت پر انہیں جس قدر یقین ہو‘ وہ جس قدر بھی حسب حال ہو لیکن ’جھوٹ بہرحال جھوٹ‘ ہوتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔