130

معاشی اہداف‘ترجیحات؟

مالی سال 2018-19ءکے لئے اکنامک سروے آج جاری کیا جا رہا ہے خبر رساں ایجنسی کے مطابق وطن عزیز میں ترقی کی شرح3.32 فیصد تک گر گئی ہے جبکہ مہنگائی 9.1 فیصد سے بھی بڑھ گئی‘رپورٹس کے مطابق اقتصادی شعبے میں مقررہ اہداف کا حصول ممکن نہ بنایاجاسکا‘اس ساری صورتحال میں حکومت نئے مالی سال کے لئے بجٹ پیش کررہی ہے‘ اس سال میزانیہ ایک ایسے وقت میں پیش ہونے جا رہا ہے جب ملکی معیشت کھربوں روپے کے بیرونی قرضوں تلے دبی ہے‘ ان قرضوں کا والیوم ڈالر کی قدر میں اضافے کےساتھ مزید بڑھتا چلا جا رہا ہے‘گردشی قرضے تشویشناک حد تک پہنچ چکے ہیں‘تجارتی خسارہ مسلسل بڑھتا رہاہے‘ ریونیو کے شعبے میں ایمنسٹی تک دے کر ریکوری بڑھانے کی سعی کی جا رہی ہے‘ اس سب کےساتھ ملک میں مہنگائی کا طوفان ہے غریب اور متوسط طبقے کے لئے زندگی اجیرن ہوکر رہ گئی ہے‘ مہنگائی کےساتھ ملاوٹ کے مکروہ دھندے نے انسانی صحت اور زندگی کو داﺅ پر لگا دیا ہے۔

 توانائی بحران اپنی جگہ یوٹیلٹی بل پورے گھریلو بجٹ کو متاثر کر رہے ہیں‘ دوسری جانب ان ہی بلوں نے پیداواری شعبے کو بھی متاثر کیا ہوا ہے ٹیکس نظام میں اصلاحات کی ضرورت خود حکومت کے ذمہ دار کررہے ہیں‘ آئی ایم ایف کے ساتھ قرضے کی شرائط میں مزید ٹیکسوں کا خدشہ اپنی جگہ ہے‘ اس منظرنامے میں آنے والے بجٹ سے متعلق خزانہ کے لئے وزیراعظم کے مشیر عبدالحفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ بجٹ غریب دشمن نہیں ہوگا وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ بجٹ میں غریبوں پر ٹیکس اور مہنگائی کا بوجھ نہیں پڑے گا جبکہ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر ملازمین کی تنخواہوں میں15 فیصد تک اضافے کا عندیہ دے رہے ہیں‘برسرزمین حالات اور عوام کو درپیش مشکلات اس بات کی متقاضی ہیں کہ عام شہری کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دی جائے‘غیر ضروری اخراجات کو کنٹرول میںرکھاجائے‘ محاصل میںاضافے کے لئے فول پروف حکمت عملی ترتیب دی جائے‘کفایت شعاری کیساتھ روزگار کے مواقع بڑھانا بھی ضروری ہے‘ توانائی کے بحران پر قابو پانے کے ساتھ ضروری یہ بھی ہے کہ پیداواری لاگت کم کی جائے تاکہ ایکسپورٹ میں اضافہ ہو اور تجارتی خسارہ کم ہوسکے اس کے ساتھ مقامی صنعت کے فروغ کے لئے سمگلنگ پر قابو پانے کے لئے اقدامات بھی ضروری ہیں۔

قبائلی اضلاع کی ترقی

وزیراعظم عمران خان سے خیبر پختونخوا کے گورنر اور وزیراعلیٰ کی ملاقات میں قبائلی اضلاع کی ترقی سے متعلق مختلف امور پر غور کیاگیا‘ ملاقات سے متعلق مہیا تفصیلات کے مطابق صوبے کا حصہ بننے والے اضلاع میں امن وامان کی صورتحال پر بھی غور کیاگیا ‘اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ وفاق کیساتھ صوبائی حکومت بھی قبائلی ا ضلاع میں تعمیر وترقی کے لئے اقدامات اٹھا رہی ہے وزیراعلیٰ اس مقصد کے لئے فنڈز مختص کرنے کی منظوری بھی دے چکے ہیں حکومتی عزم کے برسرزمین نتائج وفاق کی جانب سے فنڈز کے بروقت اجراءاور خصوصاً این ایف سی ایوارڈ میں شیئر مختص کرنے سے جڑے ہیں‘وزیراعظم کو خود اس ضمن میں ٹائم فریم دیتے ہوئے تمام اداروں کو کام کا پابند بنانا ہوگا۔