48

عالمی سلامتی: بڑا خطرہ

راز نہیں رہا کہ دنیا کو اسلحے کی منڈی کے طور پر دیکھنے والی طاقتیں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر اپنے کاروباری مفادات کا تحفظ کر رہی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ممالک کے درمیان تنازعات کو ہوا دے کر‘ ہر موسم اور ہر دور میں جنگیں جاری رہتی ہیں تاکہ اسلحہ ساز صنعتوں کا پہیہ رواں دواں رہے۔ بائیس مئی دو ہزار اٹھارہ کے روز جب اسرائیلی فضائیہ کے سربراہ یہ اعلان اور دعویٰ کر رہے تھے کہ اسرائیلی فضائیہ نے دنیا کا جدید ترین امریکی ساختہ ایف 35 جنگی طیارہ حاصل کرنے کے بعد اسے کم سے کم دو کاروائیوں میں استعمال بھی کیا ہے تو اس پیغام کا براہ راست مخاطب ایران اور روس تھے‘ جنہیں اپنے دفاع کو اپ ڈیٹ اور خطے میں اپنی سلامتی یقینی بنانے کےلئے حکمت عملی بنانا تھی۔ ممالک کی سطح پر جدید جنگی ہتھیاروں کا استعمال اور اس قسم کے بلندبانگ اعلانات سے شروع ہونےوالی دوڑ اسلحہ سازوں کا مقصود ہوتا ہے!اسرائیل امریکہ کے علاوہ واحد ایسا ملک ہے جسکے پاس ایف 35 نامی جنگی طیارے ہیں‘ اسے کل پچاس ایف 35 لڑاکا طیارے ملنے ہیں‘ جن میں سے 9 فراہم کئے جا چکے ہیں‘اسرائیل جو کہ اپنی جنگی مہمات کو خاموشی سے سرانجام دینے کا عادی ہے‘ ایسے ہتھیاروں کا استعمال کافی عرصے سے کر رہا ہے‘ جو اس کے علاوہ خطے کے کسی دوسرے ملک کے پاس نہیں۔

امریکی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کا بنایا ہوا ایف 35 کا عبرانی نام ادیر کا مطلب بہت طاقتور ہے اور اس پر 100ملین ڈالر فی جہاز لاگت آئی ہے! قابل ذکر ہے کہ امریکہ کاایف35 پروگرام سال 2070ءتک جاری رہے گا‘ جسکے ڈیڑھ کھرب ڈالر مختص کئے گئے ہیں لیکن ایران اور روس امریکہ کی تمام تر کوششوں کے باوجود بھی اسکی ٹیکنالوجی سے خوفزدہ نہیں! یہی بات امریکہ کےلئے پریشانی کا باعث بنی ہوئی ہے‘ جسے خود ساختہ جدید ٹیکنالوجی کا پول کھلتے نظر آ رہا ہے!اسلحہ فروخت کرنے والے ممالک منہ مانگی قیمتوں اور اپنے کاروبار مفادات ہی کا نہیں بلکہ دنیا میں طاقت کا توازن بھی اپنے حق میں رکھتے ہیں‘ 6 جون 2019ءکے روز امریکہ کے محکمہ دفاع نے ترکی کے وزیردفاع کو تحریری طور پر خبردار کرتے ہوئے جولائی دوہزاراُنیس کے آخر تک کی مہلت دی ہے کہ وہ اس بات کا فیصلہ کرے کہ اسے امریکہ سے جنگی جہاز خریدنے ہیں یا روس سے طیارہ شکن میزائل سسٹم؟ ترکی کو یہ الٹی میٹم امریکہ کے قائم مقام وزیر دفاع پیٹرک شانہان نے وزیر دفاع ہلوسی اکار کو ایک خط کے ذریعے دیا۔ خط میں ان کا کہنا تھا کہ ترکی ایک ہی وقت میں امریکہ سے ایف 35لڑاکا طیارے اور روس سے ایس 400 طیارہ شکن میزائل سسٹم نہیں خرید سکتا۔ امریکہ اور ترکی نیٹو تنظیم کے رکن ممالک ہیں اور اتحادی ممالک ہونے کے ناطے وہ ایک دوسرے سے اسلحے کی خریداری کر سکتے ہیں لیکن ترکی اپنے دفاع کےلئے امریکہ کا لڑاکا طیارہ تو خریدنا چاہتا ہے۔

 لیکن وہ اپنے دفاع کےلئے روسی ساختہ میزائلوں کو زیادہ قابل اعتمادسمجھتا ہے‘ جسکی وجہ سے دونوں ممالک میں اختلافات ذرائع ابلاغ کی شہ سرخیوں میں ہیں‘امریکہ کا مو¿قف ہے کہ روس کا میزائل سسٹم نیٹو کے دفاعی نظام سے مطابقت نہیں رکھتا اور یہ عالمی سلامتی کے لئے بہت بڑا خطرہ ہے اور وہ یہ چاہتا ہے کہ ترکی روس کا میزائل سسٹم خریدنے کی بجائے اسکا پیٹریاٹ طیارہ شکن میزائل سسٹم خریدے‘ترکی جو ایک آزادانہ دفاعی پالیسی کے لئے کوشاں ہے نے 100امریکی ایف35 لڑاکا طیارے خریدنے کے معاہدے پر دستخط کر رکھے ہیں اور ملکی سطح پر ایف 35 طیارے کے پرزہ جات بنانے کےلئے 937 ترک کمپنےوں کےساتھ غیرمعمولی سرمایہ کاری بھی کی ہے‘ قائم مقام امریکی وزیر دفاع شانہان نے خط میں کہا ہے کہ ”امریکہ کو یہ جان کر ’مایوسی‘ ہوئی ہے کہ ترکی نے اپنے فوجیوں کو روس میں ایس 400 طیارہ شکن نظام کی تربیت حاصل کرنے کےلئے بھیجا ہے اور اگر اپنے مو¿قف پر قائم رہا تو اسے ایف 35 لڑاکا طیارہ نہیں دیئے جائیں گے‘ اس خط میں ایف 35طیاروں کی پائلٹ ٹریننگ میں ترکی کی شرکت کے خاتمے کا شیڈول بھی شامل ہے۔

 امریکہ کو اندیشہ ہے کہ اگر ترکی نے ایف 35 طیاروں کو روسی طیارہ شکن میزائل سسٹم کےساتھ استعمال کیا‘ تو اسکے طیاروں کی خامیاں کھل کر سامنے آ جائیں گی جبکہ روس کو موقع مل جائے گا کہ وہ امریکی لڑاکا طیاروں کی ٹیکنالوجی کے مقابلے اپنا میزائل سسٹم زیادہ بہتر بنا سکے۔حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اپنے توسیع پسندانہ عزائم اور اسلحے کی منڈی پر اپنی اجارہ داری قائم کرنے کےلئے کسی دوستی کو خاطر میں نہیں لاتا اور پاکستان کےلئے اس طرزعمل میں کئی اسباق پوشیدہ ہیں‘ ترک افواج نیٹو ممالک اِتحاد میں دوسرا سب سے بڑا شریک ہے‘ یہ 29ممالک رکنی فوجی اِتحاد سوویت یونین کےخلاف دفاع کے لئے قائم کیا گیا تھا‘سات جون کے روز روس کی ریاستی دفاعی تنظیم کے سربراہ نے اعلان کیا تھا کہ وہ 2ماہ میں ترکی کو ایس 400 میزائل نظام کی ترسیل شروع کر دے گا‘مذکورہ اسلحہ زمین سے فضا میں مار کرنےوالا دنیا کا سب سے جدید میزائل نظام ہے۔

 یہ میزائل نظام 400کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے کےساتھ ساتھ ایک ہی وقت میں تقریباً 80 مختلف اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ میزائل نظام فضا میں نچلی سطح پر پرواز کرنےوالے ڈرونز سمیت مختلف بلندیوں پر پرواز کرنےوالے جہازوں کو نشانہ بنانے کےساتھ ساتھ دور تک مار کرنےوالے میزائلوں کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے‘ جس کا توڑ فی الحال امریکہ کے پاس نہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ ترکی بیک وقت امریکی اور روسی ساختہ دفاعی ٹیکنالوجی سے لیس نہ ہو کیونکہ ایسا ہونے کی صورت میں خطے میں اس کے مفادات کا دفاع مشکل ہی نہیں ناممکن ہو جائے گا اور یہ مفادات اسرائیل کی سلامتی اور ایران کو خوفزدہ رکھنے کے سوا کچھ اور نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔