63

سیاست‘توقعات اور بجٹ

وفاقی حکومت نے وعدہ کیا ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں معیشت کے استحکام‘ مالی خسارے میں کمی اور درآمدات کم کرکے کرنٹ اکاﺅنٹ خسارے پر قابو پانے پر توجہ دی جائے گی‘ تاکہ کسی طور قومی قرضوں میں کمی لائی جا سکے‘ ساتھ ہی ساتھ معاشرے کے نادار طبقے کے مفادات کا تحفظ بھی کیا جائے گا اور بجٹ میں عام آدمی پر کم سے کم مالیاتی بوجھ منتقل کرنے کی کوشش کی جائے گی‘ سیاسی بیانات کی حد تک تو یہ بات انتہائی خوشگواردکھائی دیتی ہے لیکن برسرزمین حقیقت یہ ہے کہ ہمیشہ ہی سے بجٹ کے ذریعے آنےوالی مہنگائی کا سب سے زیادہ بوجھ عام آدمی کے حصے میں آتا ہے‘ جو پہلے ہی مشکل مالی حالات سے گزر رہا ہے‘ تحریک انصاف کو یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ یہ تبدیلی کے بلند بانگ دعوﺅں‘ ایک کروڑ ملازمتوں اور پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر کے پرکشش نعروں کےساتھ اقتدار میں آئی‘تحریک انصاف نے کڑے احتساب کا وعدہ کیا تھا جس پر یہ جماعت قائم ہے اور مشکلات کے باوجود کسی دباو¿ اور مصلحت کو خاطر میں نہیں لا رہی‘ مہنگائی سے نجات‘ یوٹیلٹی بلز میں نمایاں کمی اور پٹرولیم مصنوعات پر لاگو ٹیکسوں کا خاتمہ کرنے کی جانب بھی کچھ نہ کچھ پیشرفت ضرور دیکھنے میں آئی ہے۔ بجلی اور گیس کی قیمت میں بھی کمی کی امید دلائی گئی‘ جو مہنگائی کے اسباب میں سے ایک ہے۔ تحریک انصاف حکومت میں آئی تو ایک بار پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی گئی‘ اوگرا کی نرخوں میں اضافے کی تجویز وزیراعظم نے یہ کہہ کر مسترد کر دی کہ وہ عوام پر بوجھ نہیں ڈال سکتے!یوں عوام میں واہ واہ ہو گئی مگر اسکے بعد پٹرولیم‘ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافوں کا طوفان امڈنے لگا گویا عوام کی آنکھوں میں بسے امیدوں کے چراغ ایک ایک کر کے بجھنے لگے۔ یادش بخیر ضمنی بجٹ بھی ہم عوام کےلئے صدمہ ثابت ہوئے۔

عددی اعتبار سے ملکی تاریخ کی بڑی حزب اختلاف اتنی ہی منتشر و بکھری دکھائی دے رہی ہے‘کڑے احتساب کی زد میں آئی تو ایک دوسرے کا سہارا بننے لگی مگر سٹریٹ پاور کے فقدان سے دوچار ہے لیکن اگر حکومت نے مہنگائی پر کنٹرول نہ کیا تو یہ حزب اختلاف کو موقع فراہم کریں گے کہ وہ اقتصادی مشکلات پر سیاست کرے! بجٹ سے ہم عوام بجا طور پر ریلیف کی توقع کرتے ہیں‘ عوام کو وزراءکے بلاضرورت اور بے وقت کے بیانات نے بھی مایوس کر رکھا ہے جس میں سخت فیصلوں اور کڑوی گولی کھانے کی نوید سنائی جاتی ہے لیکن وزراءکا پروٹوکول بدستور قائم ہے‘ عوام جن سخت معاشی و سماجی حالات سے گزر رہے ہیں اس میں ریلیف ملنا چاہئے‘ذخیرہ اندوز‘ گراں فروش اور ناجائز منافع خور بھی بجٹ کے اپنے مذموم مقاصد کی بجاآوری کےلئے منتظر رہتے ہیں‘حکومت کو بہرحال عوام کو ریلیف دینے میں دلچسپی ہونی چاہئے جو تحریک انصاف کو اقتدار میں لائی اور آئندہ بھی اس پارٹی نے اقتدار میں آنا ہے تو عوام ہی پر تکیہ کرنا ہے جس کےلئے عام آدمی کا اعتماد حاصل کرنا ناگزیر ضرورت ہے حکمرانوں کو عوام کےلئے حاجت روا اور مشکل کشا ہونا چاہئے لیکن یہاں صورتحال برعکس ہے‘ جس کی بڑی وجہ یہ غلط فہمی یا خوش فہمی ہے کہ عوام نے بذریعہ انتخابات انہیں پانچ سال کا مینڈیٹ دیا ہے لیکن جب حکمران اس مینڈیٹ دینے والے عوام کا عرصہ حیات تنگ کر دیں تو پھر انہیں عوامی جذبات کے سامنے ٹھہرنے کے بارے میں بھی سوچنا چاہئے۔

 پاکستانی معیشت کو درست کرنا تحریک انصاف حکومت کی ذمہ داری ہے‘ٹیکسوں کے علاوہ بھی حکومتی وسائل میں اضافہ ممکن ہے جس کےلئے برآمدات پر توجہ دی جائے‘ ملکی و غیرملکی سرمایہ کاری کےلئے پہلے کی نسبت حالات سازگار ہیں اور توانائی ضرورت کے مطابق دستیاب ہے تو اس سے فائدہ اُٹھانے والے کہاں ہیں؟ ماضی میں بجلی کی کمی کے باعث بیروزگاری میں اضافے کا گلہ کرنےوالے صنعتکاروں نے کیوں ہاتھ کھینچ رکھا ہے؟سیاسی مقاصد اپنی جگہ لیکن تحریک انصاف کی ناکامی کے پس پردہ عوام کی مشکلات کا بھی احساس یکساں اہم و ضروری ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔