43

ہوس زر کی بیماری

اس ملک میں ہوس زر کی بیماری من حیث القوم ہماری رگ و پے میں سرایت کر چکی ہے‘ اخلاقیات کا جنازہ بھی کب کا اٹھ چکا ‘تقریباًہر ریاستی ادارے کو کرپشن دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے عسکری حکام نے اچھاکیا جو گزشتہ دنوں اپنی صفوں میںموجود غدار عناصر کو پھانسی یا عمر قید کی سزا دی‘ میر جعفر اور میر صادق نے بھی تو ہوس زر کی وجہ سے فرنگیوںسے ساز باز کرکے ایوان اقتدار میںآنے کی سازش کی تھی اقتدا کا زینہ تب بھی کئی لوگ دھن کمانے کیلئے استعمال کرتے تھے اور اب بھی اقتدا ر میں آکر وہ راتوں رات ارب پتی بننے کی کوشش کرتے ہیں‘ہم صرف سیاستدانوںکو ہی کیوں اس جرم میں مطعون کریں کونسا طبقہ ہو گا جو کرپشن سے بچا ہو گا جن پاکستانیوں کو ٹیکس دینا چاہئے وہ ٹیکس ادا نہیں کرتے عمران خان نے بجا کہا کہ صرف ایک فیصد پاکستانی22 کروڑ عوام کا بوجھ اٹھاتے ہیں وزیراعظم صاحب گزشتہ دنوں اپنی پارٹی کے کئی سرکردہ رہنماﺅں کو اپنے ساتھ سعودی عرب لے گئے جہاں انہوںنے عمرہ ادا کیا اب یہ تو ہم نہیں کہہ سکتے کہ کیاانہوں نے یہ عمرہ سرکاری خرچے پر کیا ہے یا نہیں لیکن یہ ہم ضرور جانتے ہیں کہ ان سب کے پاس ماشاءاللہ اتنی دولت ضرور موجود ہے کہ وہ عمرے کی سعادت اپنے ذاتی پیسوں پر بھی حاصل کر سکتے ہیں‘۔

 ہمارے اکثر قارئین ہم سے تقاضا کرتے رہتے ہیں کہ ہم ارباب اقتدار کی توجہ ٹریفک حادثات کی طرف مبذول کرائیں کیونکہ آج اس ملک میں ایک مستند سروے کے مطابق جتنے لوگ ٹریفک حادثات میں ہلاک ہو رہے ہیں اتنے کینسر یا دل کے امراض کی وجہ سے نہیں مرتے‘ ڈرائیونگ کرنے کے دوران ڈرائیور موبائل فون کا جو استعمال کرتے ہیں وہ اتنا زیادہ ہو چکا ہے کہ اللہ کی پناہ‘ کیا کسی سیاسی پارٹی کے نمائندے نے یا کسی رکن اسمبلی نے اپنی نجی حیثیت میں اس ضمن میں قانون سازی کرنے کے لئے کوئی بل قومی یا صوبائی اسمبلی میں پیش کیا ہے کہ جسکے تحت دوران ڈرائیورنگ موبائل فون کو ناقابل ضمانت جرم قرار دےدیا جائے‘ملک میں تقریباًہر شہر میں 18 برس سے کم عمر کے بچے بغیر ڈرائیونگ لائسنس اور اگر لائسنس انکے پاس موجود بھی ہو تب بھی بغیر ہیلمٹ کے موٹر سائیکل چلاتے ہیں چلاتے نہیں بلکہ نچلی پرواز کرتے ہیں اوریہ سب کچھ ٹریفک پولیس کی ناک کے نیچے ہوتاہے۔

 مجال ہے کہ کوئی ان پر ہاتھ ڈال سکے ٹریفک پولیس کیوں اس معاملے میں سرد مہری کا مظاہرہ کرتی ہے یہ تو ہم نہیں جانتے لیکن عام لوگ اب کھلے بندوںالزام لگا رہے ہیں کہ یاتوٹریفک پولیس کسی سیاسی مصلحت کی وجہ سے ان پر ہاتھ ڈال نہیں رہی کہ سیاسی طور پر انکے ہاتھ کافی لمبے ہیں اوریا پھر چونکہ ان کی مٹھی گرم کر دی جاتی ہے اسلئے وہ اس جرم کو نظر انداز کر دیتے ہیں‘ تیسری کوئی وجہ ہو ہی نہیں سکتی عوام میں اب اتناسیاسی شعور ضرور ہونا چاہئے کہ وہ اپنے اپنے حلقہ انتخاب سے کامیاب ہو کر اسمبلیوں میں بیٹھنے والے ارکان اسمبلی سے پوچھیں کہ کیا ہم نے آ پ کو اسمبلیوں میں اسلئے بھجوایا تھا کہ آپ اپنی موٹی موٹی تنخواہیں اور الاﺅنسز کھرے کرنے کےلئے صرف اجلاسوں میں حاضری لگائیں اور وہاں گونگے پہلوانوں کی طرح بیٹھے رہیں؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔