103

اساتذہ اور مٹتی قدریں

 بعض دفعہ تو خوف محسوس ہونے لگتاہے کہ سماجی ڈھانچہ جس تیزی سے منہدم ہوتاجارہاہے اگر روک تھام نہ کی گئی تو بہت جلد بہت کچھ ہاتھوں سے پھسل چکاہوگا کیونکہ ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جب قدریں اس قدر تیز ی سے بدل رہی ہیں کہ کسی کو کچھ سمجھ ہی نہیں آرہی ایک قدر کو بچانے کی کوشش کی جائے تودوسری قدر پامال ہوتی ہوئی دکھائی دیتی ہے اگر دوسری قدرکی فکر کریں تو تیسر ی قدر نابود ہوتی دکھائی دیتی ہے دوسری طرف انسان اس قدرمصروف ہوگیاہے اسے اپنے زیاں کااحساس تک نہیں اس کے پاس اتنی فرصت ہی نہیں کہ ٹوٹتی قدروںکے بارے میں سوچے ان کے تحفظ کی فکرکرے اور انہیں اپنی نئی نسل تک پہنچانے کی سعی کرے ہر کوئی جانتاہے کہ اساتذہ کا جو احترام ماضی کے طلبہ میں ہوا کرتاتھا اب بہت کم ہوتاجارہاہے اس حوالہ سے سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ موجودہ دور کے طلبہ اساتذہ کو بھی خدمات کی فراہمی کے اسی زمرے میںرکھتے ہیں جس میں ڈاکٹر ہے جو طبی خدمات ،انجینئر ہے جو مشین کے کل پرزوں کی خدمات‘بینک کار ہے جو روپے جمع کرنے یا نکالنے یا قرض دینے کی خدمات انجام دیتاہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری زندگی مادیت پرستی کامرقع ہو چکی ہے اسلئے طلبہ کے اور بالخصوص نجی سکولوں اور تمام نجی و سرکاری اعلیٰ تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں کے طلبہ کے ذہنوں میں کہیں نہ کہیں یہ بات موجود ہے کہ اگرہم تعلیم حاصل کررہے ہیں تو اس کی فیس ادا کرتے ہیں ۔

بالکل اسی طرح جیسے دیگر خدمات کی قیمت ادا کرتے ہیں اساتذہ کے احترام کاجذبہ اسی وقت پیداہوگا جب طلبہ اس مادی طرز فکر سے ہٹ کے استاد کو ایک ایسی شخصیت کے روپ میں دیکھیں گے جیسے اپنے والدین کو دیکھتے ہیں کہ انہوں نے پیدا کیا ،پا لاپوسا ،بڑا کیا ،بیماری میںرات رات بھر جاگتے رہے ،ایک ایک بات اورایک ایک ضرورت کو پورا کیا یہ اسلئے ضروری ہے کہ اساتذہ محض خدمات کی فراہمی پر مامور نہیں وہ ا سکے علاوہ بھی بہت کچھ کرتے ہیں مثلاً تربیت کافریضہ انجام دیتے ہیں ذہنوں کے دریچے وا کرتے ہیں سوچنے سمجھنے کی قوتوں کو جلا بخشتے ہیں بلکہ سوچنے کاطریقہ وسلیقہ سکھاتے ہیں تحصیل علم کے عمل کو آسان بناتے ہیں اور پوشیدہ صلاحیتوں کو بیدار کرتے ہیںجہاں تک پیسوںکی بات ہے تو پڑھائی کے حوالے سے جوفیس طلبہ اداکرتے ہیں وہ انکی گرانقدر خدمات کے مقابلہ میں اتنی حقیر ہے کہ جس کا ذکر نوک زبان پر لانایا اس کے احساس کو دل میںجگہ دینا خود اپنی تحقیر کے مترادف ہوگا ،اساتذہ کے احترام کے بغیر طلبہ ڈگری تو حاصل کرسکتے ہیں لیکن ذہن و دل کی وہ روشنی اور کشادگی حاصل نہیں کرسکتے جو تعلیم یافتہ اورجاہل مطلق کے فرق کو فوراً طشت ازبام کردیتی ہے ان حالات میں والدین کو چاہئے کہ اپنے بچوں اساتذہ کے احترام کی تلقین خاص طورپر کرتے رہیں اس کےساتھ ہی انہیں یہ بھی سمجھایا جائے کہ اپنی درسگاہ سے محبت کریں اس کو مادر علمی کی حیثیت سے محبت دیں‘یہ احسا س محبت و ممنونیت کے نقطہ نظر سے بھی ضروری ہے ہوتایہ ہے کہ طلبہ تحصیل علم کے بعد ایک باراپنی درسگاہ کو خیرباد کہہ دیتے ہیں ۔

تو پھر اسکی جانب پلٹ کردیکھنابھی گوارہ نہیں کرتے ،جبکہ ہونایہ چاہئے کہ عملی زندگی کے ایک ایک قدم پر انسان اپنی درسگاہ کویاد رکھے اوریہ سوچے کہ اس نے وہاں سے جو کچھ بھی حاصل کیاہے وہ ایک قرض ہے جسے کسی نہ کسی انداز میں چکانا لازمی ہے اب یہ اس کی اپنی استطاعت پر منحصر ہے کہ وہ اس ادائیگی کو کس طرح سے یقینی بناتاہے اگرہرطالبعلم اپنے اندر اس احساس کو روشن کرلے توکسی بھی درسگاہ کو وسائل کی کبھی کمی نہیں ہوگی درسگاہ کو مادرعلمی ایسے ہی تو نہیں کہا جاتا اس سے بالکل اسی طرح محبت کرنی چاہئے جیسے انسان اپنی ماں سے کرتاہے جس تیزی سے قدریں بدل رہی ہیں مٹ رہی ہیں اسی تیز ی سے یہ ضرورت پیدا ہورہی ہے کہ انہیں بچایاجائے‘ اس کےلئے اساتذہ کوبھی فکرمند ہوناپڑے گا اوروالدین کو بھی جہاں تک اساتذہ کاتعلق ہے تو ان کے رویئے اور طریقہ کار میں جو تبدیلیاں آتی گئی ہیں ان پر بھی تفصیلی بات بہت ضروری ہوچکی ہے کیونکہ غلطیوں کااعتراف کرکے ہی ان کو سدھارا جا سکتا ہے اس پر پھر کسی اور کالم میں بات ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔