65

اپوزیشن بے بس؟

حکومت کوئی بھی ہو جون کا مہینہ عوام کےلئے ہمیشہ قیامت خیز ہوتا ہے ایک تو گرمی کا موسم اپنے جوبن پر ہوتا ہے‘ سورج آگ برسانے لگتا ہے تو دوسری طرف اس مہینے میں بجٹ بھی پیش ہوتا ہے اور کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ بجٹ میں عام آدمی کےلئے کوئی خوشخبری آئی ہو‘ ایسے میں اہم سیاسی لیڈروں کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کیا گیا‘ اگرچہ یہ گرفتاریاں عدالتوں کی اجازت سے ہی ممکن ہوئی ہیں‘ اس سلسلے میں (سوموار کے دن) پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری کو گرفتار کرلیا گیا ‘ آصف زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کو اسلام آباد ہائی کورٹ سے منی لانڈرنگ اور جعلی اکاﺅنٹس کیس میں 5 بار عبوری ضمانت میں توسیع مل چکی تھی‘ گزشتہ روز چھٹی بار توسیع نہیں دی گئی‘ عدالت کے فیصلے سے پہلے ہی آصف زرداری عدالت سے نکل گئے تھے‘ لیکن شام کو جب نیب کی ٹیم گرفتار کرنے ان کے گھر گئی تو پرامن طریقے سے گرفتاری دے دی گئی‘ آصف زرداری کی گرفتاری کسی کےلئے بھی غیر متوقع نہیں تھی‘ بلکہ وہ خود بھی گزشتہ 4 ماہ سے ہر پیشی پر گرفتار ہونے کی توقع لےکر آتے تھے مگر عدالتوں سے ان کو ریلیف مل جاتا تھا‘ گزشتہ روز نیب کی ٹیم وارنٹ لے کر آئی تھی جس وقت گرفتاری عمل میں آئی‘ قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہورہا تھا‘ حسب توقع پیپلز پارٹی کے ارکان نے اس پر احتجاج کیا اور اپوزیشن نے بھی ان کا ساتھ دیا۔

 ساتھ ہی موجودہ بجٹ اجلاس کےلئے آصف زرداری کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا‘ جون میں ہونے والے بڑے متوقع واقعات میں یہ پہلا بڑا واقعہ تھا اسکے بعد حمزہ شہباز بھی نیب کی تحویل میں چلے گئے‘ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ جون میں ہی شریف فیملی سے مزید گرفتاریاں ہوں گی اور یہ بھی ممکن ہے کہ احتساب میں بیلنس رکھنے کےلئے حکومتی بنچوں سے بھی کوئی گرفتاری عمل میں لائی جائے‘ اس کے علاوہ جون میں ہی سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس فائز عیسیٰ کے ریفرنس پر یہ فیصلہ بھی ہوگا کہ یہ ریفرنس قابل سماعت ہے یا نہیں‘ عام حالات میں تو اس ریفرنس میں سیاست کا دخل نہیں ہوسکتا‘ کیونکہ جس طرح فوج کا اپنا احتساب کا نظام ہے اور فوجیوں کے خلاف مقدمہ فوجی عدالتیں ہی سنتی ہیں‘ اسی طرح اعلیٰ ججوں کے خلاف الزامات کا احتساب سینئر ججز پر مشتمل سپریم جوڈیشل کونسل ہی سنتی ہے‘ مگر جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس پر وکلاءنے احتجاج کی دھمکی دے رکھی ہے۔

 اس لئے جون کے وسط میں اگر اپوزیشن نے پارلیمنٹ کے باہر احتجاج نہ بھی کیا تو وکلاءکا متوقع دھرنا اسلام آباد میں حکومت کےلئے مشکل پیدا کرنے کا باعث بنے گا‘ وفاقی دارالحکومت کے شہری ایک آدھ دن کے مظاہرے یا دھرنے کو تو ہنسی خوشی برداشت کرلیتے ہیں‘ مگر زیادہ لمبے احتجاج سے ان کےلئے مشکلات پیدا ہوجاتی ہیں‘ 2014ءکے جڑواں دھرنے کی طوالت کے باعث شہر اقتدار میں کئی مسائل پیدا ہوگئے تھے‘ عام شہری تو رہے ایک طرف‘ سپریم کورٹ اور پارلیمٹ ہاﺅس کا راستہ بھی بند ہوگیا تھا‘ بہرحال اب اتنے لمبے دھرنے کی توقع نہیں ‘ جہاں تک اپوزیشن کے احتجاج کا تعلق ہے تو آصف زرداری اور حمزہ شہبازکی گرفتاری کے بعد اس میں عوام کی کشش ختم ہوگئی ہے‘ حکومت کو اس سے یہ فائدہ ہوگا کہ بجٹ کے خلاف احتجاج بھی احتساب اور گرفتاریوں کے خلاف احتجاج ثابت کرسکے گی ویسے بھی ہمارے عوام اس قسم کی معرکہ آرائی سے خوش رہتے ہیں‘ وزیراعظم عمران خان شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس میں شرکت کے لئے بشکک میں ہوں گے‘ پھر وہاں سے برطانیہ بھی جائینگے‘ یہاں پارلیمنٹ میں شاہ محمود قریشی‘ پرویز خٹک اور سپیکر اسد قیصر جیسے معتدل حکومتی عہدیدار اپوزیشن کو ٹھنڈا رکھنے اور بجٹ منظور کروانے کی کوشش کرینگے‘ یعنی وزیراعظم کو کسی کی جلی کٹی سننی پڑیں گی نہ ہی کسی کی منت سماجت کرنے پڑے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔