65

ٹیکس وصولی میں کسی کو ناراض کرنا پڑ ا تو تیار ہیں ٗ حفیظ شیخ

اسلام آباد۔ وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ حفیظ شیخ نے کہا ہے کہ معاشی اہداف کے حصول کے لیے کچھ لوگوں کو ناراض کرنا ہوا تو تیار ہیں، کسی اور سے قربانی مانگنے سے قبل خود قربانی دینا ہوگی،ہمیں سیاست سے بالا تر ہوکر ملکی مفاد کو دیکھنا ہوگا،موجودہ حکومت قرض لے کر درست استعمال نہ کرے تو اس کا احتساب ہو سکتا ہے،برآمدات کرنے والوں پر کوئی ٹیکس نہیں ہو گا،برآمدی شعبے کی اندرون ملک فروخت پر دیگر شعبوں کی طرح ٹیکس وصول کیا جائیگا،ٹیکس ادا نہ کرنے والے افراد پر گاڑی یا مکان کی خریداری پر 45 دن کے بعد نوٹس جاری کیا جائیگا،نوٹس میں آمدنی کا تعین اور جرمانہ عائد کیا جائیگا،آئندہ مالی سال کے ٹیکس ہدف کو پورا کرنے کیلئے 1400 ارب روپے اضافی حاصل کرنا ہوں گے،ٹیکس میں روبدل سے عوام زیادہ متاثر نہیں ہوں گے،زیادہ ٹیکس اکھٹا کریں گے تو دیگر ممالک میں عزت ہوگی،اگر بنگلہ دیش اور بھارت کر سکتا تو ہم بھی کر سکتے ہیں،آئی ایم ایف کے اسٹاف لیول معاہدہ ہو چکا،آئی ایم ایف کا بورڈ جلد پاکستان کی درخواست پر غور کرے گا۔ بدھ کو مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے وفاقی وزراء عمر ایوب، خسرو بختیار، وزیرمملکت حماد اظہر، چیئر مین ایف بی آر شبر زیدی و دیگر کے ہمراہ پوسٹ بجٹ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بجٹ چیلنجنگ دور میں پیش کیا گیا۔

معیشت مشکل دور سے گزررہی ہے، حکومت کو پہلے دن سے ہی مشکل حالات کا سامنا رہا، بجٹ کے اندر تین سے چار چیزوں کو ہدف رکھنے کی کوشش کی ہے، کوشش کررہے ہیں پھر بھی ہم پر تنقید کی جارہی ہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت جب اقتدار میں آئی تو 31 ہزار ارب روپے کا قرض ورثے میں ملا،چار ہزار ارب روپے ٹیکس آمدن میں سے دو ہزار ارب روپے قرض پر سود کی ادائیگی میں استعمال ہو رہا تھا۔ انہوں نے کہاکہ ایک سو ارب ڈالر کے غیر ملکی قرض تھے،پانچ سالوں میں برآمدات میں صفر فیصد اضافہ تھا۔ انہوں نے کہاکہ پٹرولیم مصنوعات کی مؤخر ادائیگی کیلئے ساڑھے چار ارب ڈالر کی سعودی عرب سے امداد حاصل کی۔ انہوں نے کہاکہ ہماری ٹیکس اور آمدن کی شرح 12 فیصد ہے،اس کو بہتر بنانا ہے۔ انہوں نے کہاکہ سول حکومت کے اخراجات کو 468 سے کم کر کے 431 ارب روپے کیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ مسلح افواج نے رضاکارانہ طور پر اپنے بجٹ کو گزشتہ سال کی سطح پر منجمد کیا۔ حفیظ شیخ نے کہاکہ پاکستان ڈیفالٹ نہیں کر سکتا،انہوں نے کہاکہ دوسروں نے جو قرض لئے وہ بھی ادا کریں گے۔

 انہوں نے کہاکہ قرض پر سود کی ادائیگی کیلئے 2900 ارب روپے رکھے گئے۔مشیر خزانہ نے دفاعی بجٹ سے متعلق بتایا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ مسلح افواج نے بجٹ کو گزشتہ سال کی سطح پر قبول کیا اور اس میں بھی کوئی اضافہ نہیں کیا گیا، یہ دنیا اور پاکستان کے لوگوں کے لیے ایک بہت اچھا پیغام ہے کہ کس طرح حکومت کے اخراجات کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ دفاعی شعبے کیلئے 1150 ارب روپے مختص کئے گئے۔حکومت کی سادگی مہم کا حوالہ دیتے ہونے انہوں نے کہا کہ پہلے حکومت نے اپنے اخراجات کو واضح طور پر کم کرکے لوگوں کیلئے مثال قائم کی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے اخراجات کم کرنے ہیں اور عوام کو یہ پیغام دینا ہے کہ ہم اخراجات کم کرنے میں سب سے آگے ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ اس سے ملازمتیں پیدا ہوتی ہیں اور انفرااسٹرکچر بنتا ہے، گزشتہ برس اس مد میں 550 ارب روپے خرچ ہوئے جبکہ اس سال 950 ارب روپے رکھے گئے ہیں جبکہ ڈیمز، کراچی، بلوچستان، سابق قبائلی علاقوں کے لیے بھی رقم رکھی ہے۔انہوں نے بتایا کہ تیسرا شعبہ جہاں ہم نے توجہ مرکوز کی وہ غربت اور مسائل کا شکار علاقے خصوصی طور پر قبائلی اور بلوچستان کے کچھ علاقوں پر تھی، اس کے لیے فاٹا کے ضم علاقوں کو قومی دھارے میں لانے کیلئے ان اضلاع کے لیے 152 ارب روپے رکھے گئے ہیں تاکہ وہ پاکستانی معاشرے میں مکمل طور پر ضم ہوجائیں۔

انہوں نے کہاکہ ملک میں برآمدات کرنے والوں پر زیرو ریٹنگ ہے یعنی برآمدی شعبے پر کوئی ٹیکس نہیں ہے اور یہ نظام میں کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کی، تاہم برآمدات کے ساتھ اپنے ملک میں اشیا فروخت کرنے پر ٹیکس دینا ہوگا۔مشیر خزانہ نے بتایا کہ برآمد کنندگان کو برآمدات بڑھانے کے لیے نئے مالی سال کے بجٹ میں مراعات دی گئیں، جبکہ حکومت کی جانب سے اندرونی خسارے پر قابو پانے کی کوشش کی گئی۔انہوں نے کہا کہ یہ غلط تاثر ہے کہ برآمدی شعبے کے ٹیکس نظام میں کوئی چھیڑ چھاڑ کی گئی بلکہ ہم برآمد کنندگان کو مدد دینے کے لیے مزید اقدامات کر رہے ہیں، تاہم اس وقت ہمارے اندازے کے مطابق مقامی شعبے میں 1200 ارب روپے کی ٹیکسٹائل کی سیل ہورہی ہے لیکن ہمیں 6 سے 8 ارب روپے ٹیکس ملتا ہے جو ناقابل قبول ہے، اس ملک میں کاروبار کریں لیکن یہ نہیں ہوسکتا کہ 1200 ارب پر 6 یا 8 ارب کا ٹیکس دیں۔عبدالحفیظ شیخ نے ڈالر کی قیمت سے متعلق بتایا کہ برآمدات میں واضح کمی آئی جس سے ڈالر کی قیمت بڑھی۔مشیر خزانہ نے کہا کہ موجودہ حکومت نے اپنا پہلا بجٹ پیش کیا، جس میں 3 سے 4 اہم چیزوں پر توجہ دی گئی، سب سے پہلا بیرونی قرضوں پر منظم حد تک قابو پانا ہے اور اس کے لیے 9 ارب 2 کروڑ ڈالر موبیلائزڈ کیے گئے، پیٹرولیم مصنوعات کے لیے تاخیری ادائیگیوں کا انتظام کیا گیا۔اس کے علاوہ درآمدات پر اس طرح کی ڈیوٹی لگائی گئی اور برآمدی شعبے کو مراعات دی گئیں۔