141

میزانیہ 2019-20ئ

وفاقی حکومت نے 70کھرب22ارب روپے سے زائد کا قومی بجٹ برائے مالی سال 2019-20ءپیش کردیا ہے‘ بجٹ میں 3ہزار 560ارب روپے کا خسارہ ظاہر کیاگیا ہے‘ ایف بی آر کے مطابق بجٹ میں 512ارب روپے کے نئے ٹیکس عائد کئے گئے جبکہ 300ارب کی چھوٹ ختم کردی گئی‘ بجٹ میں چینی‘ گھی‘ مشروبات اور سگریٹ مہنگے ہوئے‘ سیمنٹ کی بوری 25روپے مزید مہنگی ہو گئی‘ گاڑیاں‘ سریا‘ اینٹیں‘ زیورات‘ کاسمیٹکس کا سامان‘ ڈبہ بند خوراک‘ دودھ‘ خوردنی تیل‘ الیکٹرانک وسٹیل مصنوعات بھی مہنگی ہونیوالی اشیاءکی فہرست میں شامل ہیں‘دوسری جانب صنعتی وبرآمدی شعبے کیلئے بجلی‘ گیس سستی کرنے کیساتھ زرعی ٹیوب ویلوں کیلئے بجلی کی قیمت بھی کم کردی گئی ہے‘ ادویات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان بھی کیاگیا ہے‘ مارکیٹ میں بڑھتی مہنگائی کے تناظر میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میںگریڈ ایک سے 16تک 10فیصد اضافہ کیاگیا ہے تاہم یہ اضافہ 2017ءمیں دی جانیوالی بنیادی تنخواہ پر ہے‘ وفاقی وزراءکی تنخواہوں میں 10فیصد کمی بھی کی گئی‘ معاشی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ایف بی آر کیلئے وصولیوں کا ہدف 5ہزار 550ارب روپے مقرر کیاگیا ہے‘۔

تنخواہ دار طبقے کو 6لاکھ روپے سالانہ آمدن پر بھی ٹیکس دینا ہوگا جبکہ ایک لاکھ روپے مہینہ آمدنی پر ڈھائی ہزار روپے دینا ہوں گے‘ بجٹ پیش ہونے کے بعد رات گئے قوم سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے بجٹ کو نئے پاکستان کا عکاس قرار دیا‘ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ پاکستان عظیم ملک بننے جارہا ہے‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ پچھلے دس سال میں قرضے کا حجم 6ہزار ارب روپے سے بڑھ کر30ہزار ارب ہو گیا‘ وزیراعظم نے معاملات کی چھان بین کیلئے اعلیٰ سطحی باڈی تشکیل دینے کا اعلان بھی کیا‘ ملک کو درپیش معاشی چیلنج ایک حقیقت ہیں‘ جن سے نمٹنے کیلئے حکومت نے متعدد اقدامات اٹھائے بھی ہیں اور وزیراعظم مجموعی طور پر اب اطمینان کا اظہار بھی کررہے ہیں‘ اس سب کیساتھ حقیقت یہ بھی ہے کہ صورتحال کا سارا بوجھ ملک کے غریب اور متوسط شہری پر ہی پڑتا ہے‘ یہ شہری دوائی سے لیکر پینے کے پانی تک کیلئے ادائیگیاں ہی ادائیگیاں کرتا ہے۔

 حکومت کے نئے ٹیکس چاہے جس سیکٹر پر بھی عائد ہوئے وہ اسی شہری سے وصول ہوں گے‘ اس کے برعکس جس شعبے کو بھی کوئی مراعات دی گئیں ان کا فائدہ اس شہری تک پہنچ جانا اور اسے ریلیف کا احساس ہونا سوالیہ نشان ہی ہے‘ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ حکومت کیلئے بعض اشیاءکی قیمتیں کم کرنا ممکن ہی نہیں تاہم یہ بھی درست ہے کہ اس غریب اور متوسط طبقے کے شہری کو ریلیف دینا حکومت کیلئے کوئی بہت مشکل چیلنج بھی نہیں‘ ذمہ دار ادارے صرف چیک اینڈ بیلنس کا فول پروف نظام دے کر ہی اصلاح احوال ممکن بناسکتے ہیں‘ اس مقصد کیلئے مرکز اور صوبوں کو مل کر مربوط حکمت عملی ترتیب دینا ہوگی جس میں تجویز کردہ نکات یونین کونسل لیول تک قابل عمل بنانا ہوں گے‘ یہ بات مدنظر رکھنا ہوگی کہ عام شہری حکومت سے بہت ساری توقعات وابستہ کئے ہوئے ہے‘ اسے بہتر میونسپل سروسز‘ ہسپتالوں اور دیگر اداروں میں معیاری خدمات‘ کنٹرولڈ مارکیٹ دے کر متعدد مشکلات سے نکالا جاسکتا ہے‘ بجٹ کی منظوری تک کے مراحل میں گرانی کے حوالے سے اس شہری کی ریلیف کیلئے کوئی بھی قدم اٹھایاجاسکتا ہے تو اس سے دریغ نہیں ہونا چاہئے‘ اس ضمن میں آنے والی تجاویز پر غور ضروری ہے۔