66

درست دفاعی تر جیحات

پاکستان کے دفاعی فیصلہ سازوں کی نظریں یقینا ترک صدر کی بصیرت اور فیصلوں پر ٹکی ہوں گی‘ جنہوں نے اپنے ملک کی دفاعی ضروریات کا تعین اور اس متعلق فیصلوں سے دنیا کو حیران کر رکھا ہے جبکہ وہ اپنے ملک کو عالمی طاقتوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کو بھی تیار نہیں‘ترک ذرائع ابلاغ کی وساطت سے عالمی میڈیا میں صدر رجب طیب اردوان کا یہ بیان زیربحث ہے کہ آئندہ ماہ تک روسی ساختہ طیارہ شکن میزائل سسٹم ترکی کو مل جائے گا‘یہ وہی دفاعی نظام ہے جسے امریکہ اپنی فضائیہ کےلئے خطرہ سمجھتا ہے‘ یاد رہے کہ ترکی کا دفاعی بجٹ 13.2 ارب ڈالر سالانہ ہے جبکہ پاکستان نے مالی سال 2019-20ءکےلئے آمدن و اخراجات کے میزانئے میں دفاع کےلئے سال گذشتہ کے مقابلے 1.3 فیصد اضافہ کیا جس کے بعد پاکستان کا مجموعی دفاعی بجٹ 1.15 کھرب روپے ہو جائے گا‘ جو تاریخ کا بلند ترین ہے جو کل حکومتی اخراجات کا 16 فیصد جبکہ ملک کی مجموعی پیداوار کے 3 فیصد کے مساوی ہے‘ لب لباب یہ ہے کہ دفاع کےلئے اضافی مالی وسائل مختص کرنے سے زیادہ ایسی درست دفاعی ترجیحات کا تعین ضروری ہے‘ جس میں ترکی کی طرح پاکستان کو بھی اپنے فیصلے خود اپنے ہاتھ میں لینا ہوں گے‘چھ جون کو امریکہ نے ترکی کو خبردار کیا کہ وہ بیک وقت ایف 35 لڑاکا طیارے اور روس سے ایس 400نامی طیارہ شکن میزائل سسٹم نہیں خرید سکتا تاہم اب صدر اردوان کا کہنا ہے کہ ترکی ہر اس شخص سے باز پرس کرے گا۔

 جس نے اسے ایف 35پروگرام سے بیدخل کیا ہے۔‘اس کرخت مو¿قف کے باوجود وہ پرامید ہیں کہ ’رواں ماہ کے اختتام پر انکی صدر ٹرمپ کےساتھ ہونےوالی ملاقات سے قبل وہ فون ڈپلومیسی کے ذریعے اس معاملے کو حل کر لیں گے‘ صدر اردوان کے اس اعلان سے قبل امریکہ نے ترکی کو آئندہ ماہ کے اختتام سے قبل کی مہلت دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس بات کا فیصلہ کر لے کہ اسے امریکہ سے جنگی جہاز خریدنے ہیں یا روس سے طیارہ شکن میزائل سسٹم! ترکی کو یہ الٹی میٹم امریکہ کے قائم مقام وزیر دفاع پیٹرک شانہان نے ترکی کے وزیر دفاع ہلوسی اکار کو ایک خط کے ذریعے دیا تھاجسکے بعد دونوں ممالک کے درمیان دفاعی معاہدے کی تفصیلات اور اختلافات ذرائع ابلاغ میں تواتر سے شائع ہو رہے ہیں۔ ایس 400 ٹریمف زمین سے فضاءمیں مار کرنے والا ایسا جدید میزائل نظام ہے‘ جو 400کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے کےساتھ‘ ایک ہی وقت میں 80اہداف کو صفحہ ہستی سے مٹا سکتا ہے! روس کا کہنا ہے کہ یہ میزائل نظام فضاءمیں نچلی سطح پرواز کرنے والے ڈرون طیاروں سمیت مختلف بلندیوں پر پرواز کرنےوالے تیزرفتار جنگی جہازوں کو نشانہ بنانے کےساتھ دور تک مار کرنےوالے میزائلوں کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔پاکستان کو ترکی سے زیادہ سرحدی خطرات کا سامنا ہے اور اس تناظر میں بنیادی سوال یہ ہے کہ پاکستان اپنی دفاعی ضروریات اور پیداوار کے لحاظ سے اس وقت کہاں کھڑا ہے اور کیا اسکا موازنہ ترکی سے کسی بھی صورت ممکن ہے‘ جو سال 2023ءتک اپنی دفاعی برآمدات 25 ارب ڈالر سالانہ تک بڑھانا چاہتا ہے۔

 گزشتہ 10برس کے دوران ترکی نے تیونیس‘ ترکمانستان‘ بحرین‘ بنگلہ دیش‘ مراکش اور روانڈا کو بکتربند فوجی گاڑیاں برآمد کی ہیں لیکن گذشتہ ایک سال کے دوران ہونے والے دفاعی معاہدوں کی روشنی میں ترکی کی دفاعی صنعتی ترجیحات اب پہیوں والی گاڑیاں بنانے کےساتھ ہیلی کاپٹروں اور ہوائی جہازوں سمیت جدید فضائیہ کو ترتیب دینے کی جانب مرکوز ہو گئی ہیں‘اِس سلسلے میں ترکی کی 3 معروف کمپنیاں ’اسیلسان ‘ہوالیسان‘اور روکٹسان ایسے دفاعی گائیڈڈ نظام بنانے میں پیشرفت کر رہے ہیں‘ جن کے ذریعے فضاءسے زمین یا فضاءسے فضاءمیں اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا جاسکے لیکن ترکی کی دفاعی صنعت نے ابھی بحری بیڑے‘ ہوائی جہاز اور ریڈار نظام تخلیق کرنے میں خاطرخواہ کامیابی حاصل نہیں کی اور یہی وجہ ہے کہ وہ بیک وقت روس سے میزائل شکن نظام اور امریکہ سے جنگی جہاز حاصل کرنا چاہتا ہے‘سردست ترکی دنیا کے 13ممالک کو اسلحہ فروخت کرتا ہے‘ جن میں 11 ایسے اسلامی ممالک ہیں‘ جن سے اسکے برادرانہ تعلقات ہیں اور ان میں دیرینہ اتحادی پاکستان اور قطر بھی شامل ہے۔ ترک کی دفاعی صنعت کےلئے کامیابی صرف اسی وقت ہوگی۔

 جبکہ وہ اپنی دفاعی صنعت کی مہارت نیٹو تنظیم کے رکن ممالک سے منوائے اور ان پر اپنا اسلحہ فروخت کرنے میں کامیاب ہو جائے‘ سالانہ 25 ارب ڈالر مالیت کی دفاعی برآمدات جیسا ہدف بظاہر ناممکن دکھائی دیتا ہے کیونکہ سردست ترکی ڈھائی سے تین ارب ڈالر کی برآمدات کرنے میں کامیاب ہو سکا ہے لیکن ترک ترجیحات‘ سمت اور سفر کا تعین بالکل درست ہے‘ پاکستان کےلئے ترکی کی مثال میں ایسے کئی اسباق موجود ہیں‘ جنہیں پیش نظر رکھا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ ترک قیادت کے لئے ایک بہت بڑا مسئلہ یہ تھا کہ اچانک ان کی فضائی صنعت سے وابستہ ذہین افراد بڑی تعداد میں یورپ و امریکہ نقل مکانی کرنے لگے کیونکہ انہیں وہاں نسبتاً بہتر تنخواہیں اور مراعات حاصل تھیں‘یہ صورتحال پاکستان کو بھی درپیش ہے کہ ڈالر کے مقابلے روپے کی گرتی ہوئی قدر اور تحقیق کے شعبے میں خاطرخواہ ترقی و تعلیم کے مواقع دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے نوجوانوں کی بڑی تعداد ترقی یافتہ ممالک کی جانب متوجہ ہو رہی ہے اور اس عمل کو برین ڈرین کہا جاتا ہے۔ ترکی اور دیگر مسلمان ممالک دفاعی شعبوں میں تحقیق اور پیداوار کو جس قدر چاہے جدید بنا لیں ان کےلئے عالمی منڈیوں میں اپنی مصنوعات کی فروخت مسئلہ رہے گا کیونکہ امریکہ کم سے کم یہ تو کبھی بھی اور کسی بھی صورت نہیں چاہے گا کہ مسلم دنیا اسلحے کی اس عالمی منڈی پر راج کرے‘ جسے اس نے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اور بدترین معاشی و اقتصادی سرمایہ دارانہ نظام کے علاوہ انسانیت سوز مظالم کے ذریعے تخلیق کیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔