69

ریاست کے مفادات

ملک مےں امن عامہ کی صورتحال ٹھیک نہیں ‘دشمن نے عید کے دنوں میں بھی وطن عزیز کو نہیںبخشا وہ اپنے اہداف کمال چالاکی سے پورے کر رہا ہے اور چن چن کر ان ٹھکانوں پے وار کر رہا ہے کہ جن سے وہ چاہتا ہے کہ چینی سرمایہ کار گھبرا کر کام چھوڑ دیں اور باہر سے آنے والے دیگر سرمایہ کار بھی اپنے ہاتھ روک لیں‘ وہ ہر قیمت پر بلوچستان کے اندر اور سابقہ فاٹا میں فوجی چوکیوں پر بھی حملہ کرےگا فوجیوںکی گشت کرنےوالی پارٹیوں کو بھی نشانہ بنائےگا اورفرقہ واریت کی لہر بھی اس ملک کے اندر اٹھانے کی کوشش کرےگا‘عوام کے اندر افواج پاکستان کےخلاف نفرت پیدا کرنا بھی دشمن کے ایجنڈے میں شامل ہے ‘دشمن بیک وقت اس ملک کےخلاف کئی محاذوں پر سرگرم ہے‘ باجوڑ سے لیکر جنوبی وزیرستان تک پھیلی ہوئی وسیع قبائلی پٹی اس کی زد میں ہے اس انتہائی دشوار اور مشکل جغرافیائی محل وقوع پر مشتمل قبائلی علاقے کے کئی مقامات ایسے ہیں کہ جن سے تخریب کار باآسانی خیبرپختونخوا میں داخل ہوسکتے ہیں گوکہ افواج پاکستان اس رستے پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے اور اس پر باڑ بھی لگائی جارہی ہے اور اس کی رکھوالی کیلئے فوجی قلعے بھی زیر تعمیر ہیں پر اسے مکمل ہونے میں ایک آدھ سال مزید لگ سکتا ہے‘ اس طرح بلوچستان کےساتھ جو غیر ملکی بارڈر لگتا ہے اس پر بھی پاک فوج باڑ لگانے میں مصروف ہے‘ایڈمنسٹریشن کوہمیشہ ڈنڈے اور گاجر دونوںکے امتزاج کےساتھ چلایا جاتا ہے۔

جہاں ڈنڈے کی ضرورت ہو وہاں اس کا چلانا ضروری ہوتا ہے اور جہاں گاجر کھلانے سے کام چل سکتا ہے وہاں ڈنڈا چلانے کے بجائے گاجر کے استعمال پر اکتفا ضروری ہوتاہے‘ باڑ لگانے کا عمل اپنی جگہ پر اس کےساتھ ساتھ حکومتی پارٹی اور اس کی اتحادی پارٹیوں کے رہنماﺅں کے اشتراک عمل سے ان سیاسی عناصر سے مکالمہ بھی ضروری ہے کہ جو کسی بات پر نالاں ہیں یا دشمن نے انہیں کوئی پٹی پڑھا کر گمراہ کر دیا ہے اور انہوں نے ہتھیار اٹھالئے ہیں۔ ملک دشمن عناصر کو پہلے مکالمے کے ذریعے بے نقاب کرنا ضروری ہے تاکہ بعد میں کوئی گلہ نہ کرے کہ انہیں تو اپنی صفائی پیش کرنے کا موقع دئیے بغیر ہی سزا دے دی گئی اپوزیشن کو بھی حکومت دشمنی یا بغض میں اتنا اندھا نہیں ہونا چاہئے کہ وہ ریاست کے اور حکومت وقت کے مفادات میں تمیز نہ کرسکے‘ حکومت وقت سے بے شک وہ دشمنی کرے پر ان عناصر کی پشت پناہی نہ کرے کہ جو ریاست کی بیخوں میں پانی دے رہے ہیں‘سیانے اسی لئے باربار یہ کہتے آئے ہیں کہ افواج پاکستان کو صرف افغانستان سے ملنے والی سرحدات پر ہی تعینات کرنا عقلمندی ہے‘ سابقہ فاٹا کے اندر آمدورفت پر نظر رکھنے کیلئے فرنٹیئر کور یا پھر مقامی خاصہ داروں کی خدمات حاصل کی جائیں کہ جس طرح ماضی میں ہوتا آیا ہے افواج پاکستان کو سابقہ فاٹا کے اندر چیک پوسٹوں پر زیادہ ایکسپوز کرنا کوئی دانشمندانہ بات تھوڑی ہے۔

 یہاں ایک اور بڑا سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ایف سی آر کے تحت مشترکہ اجتماعی قبائلی علاقائی جغرافیائی کانسپٹ کو ختم کرنے سے پہلے سابقہ فاٹا کے بندوبستی علاقے سے انضمام کرنے والوں نے یہ بھی سوچا تھا کہ کیا پولیس تن تنہا اس بہت بڑے انتظامی خلا کو پر کرنے میں کامیاب بھی ہوسکے گی یا نہیں کہ جو یقینا ایف سی آر کے خاتمہ کے بعد ہوگا اور جو اب ہوچکا ہے؟ اگر ایف سی آر سے کوئی ملا جلا نظام ہی لانا مقصود تھا تو پھر اسے مکمل طورپر ختم کرنے کی کیا ضرورت تھی؟جو کام قبائلی ملک‘ خاصہ دار اورملیشیا فورس کے جوان آپس میں تعاون کرکے کیاکرتے تھے وہ آج کماحقہ سرانجام نہیں دیا جا رہا۔ قبائلی علاقے کا نظام محض زور بازو پر کبھی بھی نہیں چلایاگیا اور نہ چلایاجاسکتاہے ورنہ رابرٹ سنڈیمن جیسے معاملہ فہم‘دور اندیش اور زیرک فرنگی افسر اس علاقے کیلئے مشترکہ اجتماعی قبائلی علاقائی جغرافیائی ذمہ داری کا نظام کبھی بھی وضع نہ کرتے جو نہایت کامیابی کےساتھ ایک بڑے عرصے تک چلتا رہا اسے اگر ختم ہی کرنا مقصود تھا تو کاش اس سے کوئی بہترنظام وہاں لاگو کیا جاتا صرف نام بدلنے سے سابقہ فاٹا کے امن عامہ کے مسائل بہتر طریقے سے حل نہیں کئے جاسکتے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔