66

عام آدمی

ہم نے عام آدمی کے متعلق بہت کچھ سنا ہے اور اب بھی سن رہے ہیں مگر ہم سے ابھی تک کسی عام آدمی کی ملاقات نہیں ہو پائی‘پاکستان کی آبادی بائیس کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے‘ اتنی بڑی آبادی میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں‘کیا یہی عام آدمی ہیں ‘مگر شاےد یہ اس تعریف میں نہیں آتے اسلئے کہ عام آدمی کے متعلق جو کچھ کہا جا تاہے اس پر تویہ خط غربت سے نیچے رہنے والے انسان پورا نہیں اترتے‘اس لئے کہ ان پر مہنگائی کا بھی اثر پڑتا ہے ‘ان پر سستی اشیاءکا بھی اثر پڑتا ہے ‘عام آدمی کی تعریف میں کہا جاتا ہے کہ اشیائے صرف کے مہنگا ہونے سے اس پر کوئی فرق نہیں پڑتا‘اب بجٹ میں کہا گیا ہے کہ بیشتر اشیائے صرف کو مہنگاکردیا گیا ہے جس میں آٹا‘ دالیں‘ گھی ‘ چاول اور دیگر اشیائے صرف شامل ہیں ‘ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ عام آدمی پر اس کا کوئی اثرنہیںپڑے گا۔ یعنی وہ اس مہنگائی سے متاثر نہیں ہو گا۔ جیسے وہ اشیائے صرف سے قبل گزارہ کر رہا تھا اسی طرح گزارہ کرتا رہے گا۔ اگر اسکے فاقوں کو گنا جا رہا ہے تو واقعی اس پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کہ جیسے وہ اس سے قبل فاقے کر رہا تھا اسی طرح اب بھی فاقے کرتارہے گا تو پھر غریب انسان کوئی عام آدمی نہیں ہے‘ اسلئے کہ زبانی طور پر تو اس پر کوئی اثر نہیں پڑے گا مگر عملی طور پر تو اس پر اثر پڑتا دکھائی دیتا ہے‘ اس لئے یہ عام آدمی نہیں ہے۔ اب اسی بجٹ میں باہر سے منگوائی گئی مہنگی گاڑیوں پرٹیکس کی چھوٹ دےدی گئی ہے او ریہ بھی کہ ملک میں بننے والی گاڑیوں پر ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔

 اس میں بھی یہی کہا گیا ہے کہ عام آدمی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا‘اسکا مطلب یہ ہوا کہ جو لوگ گاڑیوںمیں سفرکرتے ہیں اور مہنگی مہنگی گاڑیاں خریدنے کی سکت رکھتے ہیں اور جن کےلئے حکومت نے بجٹ میں یہ سہولت دےدی ہے کہ وہ بیرون ملک سے گاڑیاںاسی طرح منگوا سکتے ہیں جیسے وہ اس سے پہلے منگواتے رہے ہیں اسکا مطلب یہ ہو ا کہ ایسے اشخاص بھی عام آدمی کے زمرے میں نہیں آتے کےونکہ کہا گیا ہے کہ اس سے عام آدمی پر کوئی اثر نہیںپڑے گا۔کہنے کا مطلب یہ کہ بڑی بڑی گاڑیاں خریدنے والے اور خط غربت سے نیچے رہنے والے انسان عام آدمی کے زمرے میں نہیں آتے توایسے انسان کہاں بستے ہیں کہ جن پر نہ مہنگائی اثر کرتی ہے اور نہ ہی سستائی کا کوئی اثر ہوتا ہے‘اگر آٹا مہنگا ہوتا ہے تو بھی کسی پر کوئی اثر نہیں پڑتا اور اگر آٹا مہنگا نہےںہوتا توبھی کسی پر کوئی اثر نہیں پڑتا تو اسکا مطلب یہ ہوا کہ امیراور غریب بھی عام آدمی نہیں ہے‘ تو پھر ہر بجٹ میں اور ہر دفعہ تیل ‘گھی ‘آٹے‘دالوں اور سبزیوں کی قیمت میں اضافے سے بقول حکومت عام آدمی پر کوئی اثر نہیں پڑتا تو ہر چیز کو مہنگا کرنے پر یہ اعلان کیوں کیا جاتا ہے کہ عام آدمی پر اس کا کوئی اثر نہیںپڑے گا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ عام آدمی اسی ملک میں کہیں رہتا ضرور ہے کہ جو ہمیں معلوم نہیںمگر حکومت کو ضرور معلوم ہے اور خاص طور پر ہمارے وزیر خزانہ جو ہر سال بجٹ پیش کرتے ہیں وہ عام آدمی سے ضرور واقف ہو ں گے۔ ہماری وہاں تک تو پہنچ نہیں ہے ورنہ ہم وزیر خزانہ سے ضرور پوچھتے کہ وہ عام آدمی کہاں واقع ہے۔

 ہم بھی اس شخص کا دیدار کرنا چاہتے ہیں کہ جس پر نہ کسی مہنگائی کا کوئی اثر نہیں ہوتا‘ گاو¿ں شہروں میں بھی گھومتے ہوئے ہم اس شخص کے متلاشی رہتے ہیںکہ جس پر کسی بھی بات کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔ نہ اسے لباس کی پرواہ ہے نہ اسے کسی کھانے پینے کی کوئی فکر ہے ‘نہ اس کو گرمی ستاتی ہے اور نہ اس پر سردی کا کوئی اثر ہوتا ہے‘مگر اس میں ایک عرصے تک کامیاب نہ ہو سکے‘ پوچھنے کو بھی ہم نے بہت سے لوگوں سے پوچھا مشاہدے کےلئے بھی ہم نے شہروں بازاروںکی خاک چھانی مگر کہیں سے ہمارا مسئلہ حل نہ ہوا‘ ایک دن ہم کچھ دوست کالج سے واپس جا رہے تھے کہ سڑک پر ایک بندہ پھٹے کپڑے پہنے زور زور سے نعرے مارتا جا رہا تھا اور ساتھ ہی حکومت کو گالیاں دے رہا تھا اسے کوئی پرواہ نہیں تھی کہ کوئی اسے دیکھ رہاہے یا اسے کوئی کچھ پوچھے گا‘ نہ اسے کسی حکومت کی کوئی پرواہ تھی اور نہ اسے کسی پولیس کا کوئی ڈر تھا‘اسے دیکھتے ہی ہمارے دوست پروفیسر نے ہماری عقدہ کشائی کر دی کہ یہ ہے وہ عام آدمی کہ جس پر نہ کسی مہنگائی کا اثر پڑتا ہے اور نہ کسی سستائی کا۔اورہم نے جان لیا کہ ہم سارے ہی حکمرانوں اور وزیر خزانہ کی نظر میں وہی عام آدمی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔