84

ٹیکس اصلاحات: ڈیجیٹل ٹیکنالوجی

تحریک انصاف حکومت کے پہلے بجٹ اور ماضی میں پیش کردہ اسی طرز کے آمدن و اخراجات کے میزانیوں میں قدر مشترک یہ ہے کہ ان کے ذریعے نہ تو عوام کو ریلیف ملتا دکھائی دے رہا ہے اور نہ ہی ایک سال بعد پاکستان اس بلند مقام پرجا پہنچے گا جہاں درپیش اقتصادی بحران ختم ہو جائیں گے! آئندہ مالی سال کےلئے حکمت عملی میں کوئی بھی ایسا حکیمانہ اقدام شامل نہیں جسے انقلابی قرار دے کر یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکے کہ آئندہ 12ماہ کے دوران حکومت حسب خواہش معیشت کو راہ راست پر لانے میں کامیاب ہوجائے گی! وفاقی بجٹ کا سب سے خوفناک پہلو 5500ارب روپے کا ٹیکس یعنی آمدنی کا ہدف ہے جو کہ آئی ایم ایف کے کہنے پر رکھا گیا ہے جبکہ حکومت پچھلے 9ماہ کا 3کھرب روپے آمدنی کا ہدف باوجود کوشش بھی حاصل نہیں ہوسکا! اس کا مطلب یہ ہے کہ ٹیکس وصولی کا نظام اور ٹیکس وصولی کے ادارے دونوں ہی کسی بڑے ہدف یعنی ٹیکس ادا کرنےوالوں کی تعداد میں اضافے کو عملاً ممکن نہیں بنا سکتے۔ اب مشکل یہ ہے کہ اگر موجودہ سیاسی و غیرسیاسی فیصلہ ساز باوجود کوشش بھی پانچ ہزار پانچ سو ارب روپے آمدنی کا ہدف حاصل نہیں کر سکے تو آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کو دیئے جانے والے قرضے کی قسط روک لے گا کیونکہ یہ بات معاہدے کا حصہ ہے! یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت اس قدر بڑا ٹیکس ہدف کیسے حاصل کرے گی؟

کیا حکومت کے پاس کوئی منصوبہ بندی ہے؟ حکومت کی گھبراہٹ اور خاموشی سے یہ احساس ہو رہا ہے کہ بظاہر ان سوالات کے جوابات نہیں ہیں‘ ٹیکس ہدف کو حاصل کرنے کے لئے بھارت کی مثال موجود ہے جہاں 2013-14ءکی ٹیکس آمدنی 6.38لاکھ کروڑ تھی جو 2018-19ءمیں بڑھ کر 12لاکھ کروڑ ہوگئی ہے۔ ٹیکس ریٹرن جمع کروانے والوں کی تعداد 3.79کروڑ سے بڑھ کر 6.85کروڑ ہو گئی ہے بھارت نے ٹیکس اکھٹا کرنے کے لئے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا استعمال کیاہے‘ ٹیکس ریٹرنز فائل کرنے ہوں‘ ٹیکس جمع کروانا ہو‘ ریٹرنز منسوخ کرنے ہوں‘ ریٹرنز دہرانے ہوں‘ اپیل کرنی ہو‘ ری ویو فائل کرنا ہو نیز کہ ٹیکس سے متعلقہ کوئی بھی کام ہو چوبیس گھنٹوں سے پہلے آن لائن (بناءکسی سرکاری دفتر کا چکر لگائے) ہو جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر حکومت سے ٹیکس ریفنڈ لینا ہو تو وہ بھی چوبیس گھنٹوں میں سائل کے اکاو¿نٹ میں منتقل ہوجاتا ہے۔ بھارتی حکومت نے ٹیکس ریٹ کم کئے ہیں اور ٹیکس بیس بڑھانے کی طرف توجہ دی ہے! ان سنجیدہ کاوشوں سے ٹیکس چوری کو روکنے میں بھی مدد ملی ہے۔ اسی طرح چین کی معیشت ڈیجیٹل خریدوفروخت کی بہترین مثال ہے۔ چین دنیا کی سب سے بڑی موبائل سے ادائیگی کرنے والی مارکیٹ ہے۔ مرکزی بینک کے اعدادوشمار جو کہ انٹرنیٹ پر دستیاب ہیں ۔

کے مطابق ’چین میں 76.9 فیصد صارفین موبائل فون کے ذریعے ادائیگیاں کرتے ہیں‘ جبکہ بھارت اور چین کے برعکس پاکستان میں موبائل فونز کے ذریعے سرکاری خریداری کرنے کی نہ تو بڑے پیمانے پر سہولت موجود ہے اور نہ ہی حکومتی سطح پر اس کی کوئی منصوبہ بندی کرتی نظر آتی ہے۔ پاکستان جن بحرانوں سے گزر رہا ہے۔ ان سے نمٹنے کے لئے کام کاج کے روایتی طریقوں کی جگہ کامیاب ملکوں کے اصول اپنانے کی ضرورت ہے‘ پاکستان کو نقد معیشت سے نکال کر کیش لیس ڈیجیٹل معیشت بنانا ہوگا اور پاکستان جیسے ملک میں کہ جہاں سرکاری دفاتر ہر قسم کی کرپشن کا مرکز ہیں‘ جہاں سرکاری حکام اپنے صوابدیدی و غیرصوابدیدی اختیارات کے ذریعے قومی کی بجائے ذاتی اثاثوں میں اضافے کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں وہاں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو اپنانے کے بغیر چارہ نہیں رہا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔