620

کرائسٹ چرچ مساجد کے حملہ آور کا الزامات ماننے سے انکار

رواں برس 15 مارچ کو نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی 2 مساجد پر دہشت گردی کے نتیجے میں کم سے کم 51 نمازیوں کو شہید اور 80 سے زائد کو زخمی کرنے والے حملہ آور نے خود پر لگائے گئے تمام الزامات کو ماننے سے انکار کردیا۔

کرائسٹ چرچ کی النور اور لین ووڈ مسجد پر آسٹریلوی نژاد 28 سالہ برینٹن ٹیرنٹ نے حملہ کیا تھا اور اس پر اسی واقعے کے تحت الزامات بھی عائد کیے گئے تھے۔ برینٹن ٹیرنٹ کو نیوزی لینڈ پولیس نے حملے کے چند گھنٹوں بعد ہی گرفتار کرلیا تھا، جسے بعد ازاں عدالت میں پیش کرکے اس پر الزامات عائد کیے تھے۔

برینٹن ٹیرنٹ پر رواں برس اپریل کے آغاز میں 51 افراد کے قتل، 40 افراد کے اقدام قتل اور ایک دہشت گرد حملے جیسے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ آسٹریلوی حملہ آور پر عدالت کی جانب سے الزامات عائد کیے جانے کے بعد عدالت نے اس کے دماغی معائنے کا حکم بھی دیا تھا، تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا ملزم خود پر لگے الزامات کا دفاع کرنے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہے یا نہیں؟

عدالتی احکامات کے بعد دہشت گرد کا دماغی معائنہ بھی کیا گیا اور رواں برس مئی میں ڈاکٹرز نے عدالت کو بتایا کہ برینٹن ٹیرنٹ ذہنی طور پر بالکل درست ہے اور وہ اپنے اوپر لگائے گئے تمام الزامات کا دفاع کرنے کے قابل ہے۔

عدالت کی جانب سے ان پر الزامات عائد کیے جانے اور ان کے دماغی معائنے کی تمام رپورٹس آنے کے بعد 14 جون کو کرائسٹ چرچ ہائی کورٹ میں ان پر لگائے گئے الزامات کی سماعت ہوئی۔

خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ (اے پی) کے مطابق سماعت کے دوران برینٹن ٹیرنٹ عدالت میں پیش نہیں ہوئے اور انہوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے سماعت میں شرکت کی۔ ملزم کے وکیل نے عدالت کو اپنے مؤکل کا بیان پڑھ کر سنایا، جس میں انہوں نے خود پر لگے تمام الزامات کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔

رپورٹ کے مطابق جس وقت ملزم کے وکیل نے عدالت میں اپنے مؤکل کا بیان پڑھ کر سنایا اس وقت برینٹن ٹیرنٹ بالکل خاموش تھے اور بعد ازاں جج کی جانب سے پوچھے گئے سوال پر انہوں نے عدالتی کمرے کو دیکھا اور یہ تاثر دیا کہ وہ سماعت کی ہر بات سن رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے کے مطابق حملہ آور کی جانب سے تمام الزامات سے انکار کرنے کے بیان پر عدالت میں موجود حملے میں زخمی ہونے والے 80 افراد اور شہید ہوجانے والے افراد کے اہل خانہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اب برینٹن ٹیرنٹ کے خلاف اسی کیس کا ٹرائل آئندہ برس مئی میں شروع ہوگا اور ان کے خلاف باقاعدہ انسداد دہشت گردی کے تحت مقدمہ شروع کیا جائے گا۔