105

ایکٹیکنو کریٹ کی باتیں

تین دنوں میں تین مرتبہ مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے تین مختلف خطابات میں عمران خان کی حکومت کا کچھا چھٹا ساری دنیا کے سامنے کھول کر رکھ دیا ہے آپکو یقین نہ آئے تو شیخ صاحب کے پیش کئے ہوئے اعداد و شمار پڑھ لیںساری کہانی نہ سہی آدھی آپکی سمجھ میں آجائیگی ‘باقی کی آدھی مجھے اسلئے معلوم ہے کہ میں نے ٹیکنوکریٹس کے بارے میں ایک امریکی جریدے میں کچھ عرصہ پہلے ایک ریسرچ پیپر پڑھا تھا اس میںبہت سی چشم کشا باتوں کے علاوہ یہ بھی لکھا تھا کہ ہر اچھے ٹیکنو کریٹ کو ملازمت سے زیادہ اپنی ساکھ عزیز ہوتی ہے اس پیشے کے لوگ مختلف ممالک اور عالمی اداروں میںدو چار سال کے کنٹریکٹ پرملازمت کرتے ہیںانکی ساکھ اور اعتبار اگر کھو جائے تو یہ کسی کام کے نہیں رہتے حفیظ شیخ صاحب نے اسی لئے انشراح صدرکےساتھ یہ بتا دیا ہے کہ پاکستان معاشی اعتبار سے کہاں کھڑا ہے اسکے سامنے چیلنجز کیا ہیںاور نئے بجٹ میں معیشت کے مقرر کردہ اہداف حاصل کر نا کتنا مشکل کام ہے۔

اس اعمال نامے کو پیش کرنے کا مطلب اسکے علاوہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ اب جو کچھ بھی ہو گا اسکی ساری ذمہ داری وزیر اعظم پر ہو گی‘ یہ الگ بات ہے کہ خان صاحب نے ایک سال بعد بھی سارا ملبہ ان ” چوروں اور ڈاکوﺅ ں“ پر ہی ڈالا ہے جن کےخلاف رات کے ایک بجے انہوں نے بڑی گھن گھرج کیساتھ ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیشن بنانے کا اعلان کیا ہے‘ عمران خان حزب اختلاف کو جو دھمکیاں آج دے رہے ہیں یہی دھمکیاں انکی حکومت اگر رہ جاتی ہے تو وہ دو تین سال بعدبھی دیتے ہوئے نظر آئیں گے وجہ اسکی یہی ہے کہ انکے پاس کوئی واضح لائحہ عمل نہیں ہے انکی حکومت کی کارکردگی نہایت مایوس کن ہے جن افلاطونوں اور جالینوسوں کے بل بوتے پر وہ تبدیلی لانا چاہتے تھے ان میں سے نصف کو فارغ کر دیا گیا ہے اب انکے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ
بوجھ بڑھتا جا رہا ہے ناﺅ پر
کچھ مسافر پھینک دو منجدھار میں
 
جوبقراط عصر باقی بچے ہیں وہ ہنوز دشمنوںکے لتے لینے میں مصروف ہیں‘حفیظ شیخ صاحب نے تین عدد تقریروں میں جو کچھ کہا ہے اس پر تھوڑی سی توجہ دینے سے بہت کچھ سمجھ میںآ جاتا ہے مشکل مگر یہ ہے کہ اعدا دو شمار پڑھنا ایک غیر دلچسپ کام ہے لوگ چٹ پٹی اور مصالحے دار باتیں پڑھنا اور سننا چاہتے ہیںہندسوں کے گورکھ دھندے میں کیا رکھا ہے اسی لئے خان صاحب نے آدھی رات کو وہ سماں باندھا کہ حریفوں کو لینے کے دینے پڑ گئے‘ سنا ہے کہ یہ تاریخ ساز لمحے کسی کھٹارا گاڑی کی طرح رک رک کر چلتے رہے کبھی فریم فریز ہوا اورکبھی آواز بند ہوئی مگرقوم سے خطاب ریکارڈ شدہ تھا اسلئے خان صاحب مینار پاکستان کی تقریر والاٹمپو برقرار رکھنے میں کامیاب رہے اور فنش لائن تک ویسے ہی جا پہنچے کہ جیسے انکے وزیر مملکت حماد اظہر نے قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر مکمل کی تھی‘ وزیر اعظم کی اس تقریر دل پذیر پر تبصرہ کرتے ہوئے الطاف حسین قریشی صاحب نے چودہ جون کے کالم میں لکھا ہے ”وزیر اعظم نے رات کے ایک بجے جو تقریر کی ہے اس نے معاملہ فہمی اور باہمی تعاون کی ساری امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے انہوں نے جو زبان استعمال کی ہے وہ انکے منصب کے شایان شان ہر گز نہ تھی“ مجھے یوں لگتا ہے کہ وطن عزیز اب کسی وزیر‘ سفیر یا فقیر کے غصے کا متحمل نہیں ہو سکتا اس قسم کے نازک لمحات میں ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا پڑتا ہے خان صاحب جس سمت میں اندھا دھند بھاگے چلے جا رہے ہیں وہ کٹھن اور دشوار گزار ہونے کے علاوہ مہیب اور خطرناک بھی ہے اس بیاباںکے بارے میں منیر نیازی نے کہہ رکھا ہے
نہ جا کہ اس سے پرے دشت مرگ ہو شائد
پلٹنا چاہیں بھی تو راستہ ہی نہ ہو

وزیر اعظم کا پسندیدہ راستہ کسی منزل کی طرف جاتا ہوا نظر نہیں آ رہا گیارہ جون کو پیش کیا جانےوالا بجٹ‘ اس سے ایک دن پہلے اور ایک دن بعد ہونیوالی گرفتاریاں‘ قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کے دوران ہنگامہ آرائی اور ان سب واقعات پر کڑکتی بجلی کی
طرح چمکنے والی خان صاحب کی تقریر پر منیر نیازی ہی کے اس شعر سے بہتر تبصرہ نہیں کیا جا سکتا
پتوں کا رنگ خوف سے پہلے ہی زرد تھا
پاگل ہوا کے ہاتھ میں شہنائی آگئی

ان حالات کو جن اعداد و شمار کی مدد سے ثابت کیا جا سکتا ہے انہیںحفیظ شیخ صاحب نے بڑی عرق ریزی سے بیان کر دیا ہے‘ گیارہ جون کو انہوں نے سالانہ اقتصادی سروے پیش کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے ایک سال میں زراعت کی شرح نمو 3.8 سے کم ہو کر 0.85 رہ گئی ہے اس شعبے میں ایک سال کے قلیل عرصے میں تین فیصد کمی اس حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے‘ مشیر خزانہ کے سالانہ سروے کے مطابق صنعت کی شرح نمو 7.6 فیصد سے کم ہو کر 1.40رہ گئی ہے یعنی ایک سال میں تقریباً چھ فیصد کمی اور سروس انڈسٹری کی شرح نمو 6.5 سے کم ہو کر4.71 رہ گئی ہے‘ حفیظ شیخ نے یہ بھی کہا کہ گذشتہ جولائی سے اپریل تک مہنگائی کی اوسط شرح 3.77 سے بڑھ کر سات فیصد ہو گئی ہے اسی عرصے میں ٹیکسوں کی وصولی میں447ارب روپے کی کمی ہوئی ہے برآمدات میں دو فیصد گھاٹا ہوااور قرضوں میں 3655 ارب روپے کا اضافہ ہوااس مایوس کن کارکردگی کے بعد کسی بھی ملک کے حکومتی سربراہ کا اولین فرض یہ بنتا ہے کہ وہ اپنی کوتاہی اور ناکامی کی ذمہ داری قبول کرے اور آئندہ بہتر کارکردگی کی حکمت عملی پیش کرکے لوگوں کو اعتماد میں لے‘پچھلے دس سال کی’چوری چکاری‘ کا ذکر بہت ہو چکا اور لگتا ہے کہ تا دیر ہوتا رہے گا۔

 مگر خان صاحب کی حکومت نے اچھی خاصی معیشت کا دھڑن تختہ کیوں اور کیسے کیا اسکا جواب کون دیگا حفیظ شیخ صاحب کے اعدادو شمار تو ببانگ دہل کہہ رہے ہیںکہ جو تباہی‘ تنزل اور بربادی ” چوروں اور ڈاکوﺅں “ کے ادوار حکومت میں نہ آئی وہ کرشمہ خان صاحب نے پلک جھپکتے میں کر دکھایا اور اس پر لیپا پوتی کرنے کیلئے ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیشن بھی بنا دیا‘وزیر اعظم کا اپنی سٹار پاور پر بے پناہ اعتماد انکی حکومت کیساتھ اور بھی بہت کچھ بہا کے لے جا سکتا ہے‘یو ٹرن بہت ہو چکے اب Course Correction کی ضرورت ہے‘ حفیظ شیخ صاحب نے اگلے دو سالوں میں معیشت کی گاڑی کو راہ راست پر لانے کیلئے جو روڈ میپ دیا ہے اس پر عملدرآمد خوف و ہراس کی موجودہ فضا میں ممکن نہیں اسوقت ایک اہم سوال یہ ہے کہ اگلے سال دیا جانیوالا تین ہزار ارب روپے کا سود کہاں سے آئیگا جب برآمدات کم ہو رہی ہوں‘ ایمنسٹی سکیم بھی وزیر اعظم کی بار بار تاکید کے باوجود خاطر خواہ نتائج نہ دے سکی ہو کاروباری سرگرمیوں کے ماند پڑ جانے کی وجہ سے ٹیکس کی وصولی بھی زیادہ امید افزا نہ ہو اور اس پر مستزاد یہ کہ وزیر اعظم نے اپنی توانائیاں اعلیٰ اختیاراتی کمیشن پر صرف کرنے کا اعلان کر دیا ہو تو پھر یہی کہا جا سکتا ہے کہ
چنگاری کوئی بھڑکے تو ساون اسے بجھائے
جو ساون آگ لگائے اسے کون بجھائے
مایوسی کفر ہے اور 1947 میں اس سے بھی زیادہ برے حالات تھے مگر اسوقت ہمیں قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میسر تھی‘ اب رو میں ہے رخش عمر کہاں دیکھئے تھمے‘ نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رقاب میں‘ والی بات ہے حفیظ شیخ نے اپنے حصے کا سچ بول دیا ہے اب بال خان صاحب کے ہاتھ میں ہے وہ باﺅنسر پھینکتے ہیں یا گگلی‘ یہ فیصلہ اور ذمہ داری ان کی ہے اور اسکا جواب بھی انہیں جلد یا بدیر دینا پڑے گا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔