84

جب میزبان تھک جائے

میزبان کتنا ہی فراخ دل کیوں نہ ہو مہمان کو چندر وز ہی برداشت کر سکتا ہے‘افغان مہاجرین کئی عشروں سے اس ملک میں رہائش پذیر ہیںانکے غیر معینہ قیام سے ابھی تک مقامی باشندوں کے ماتھے پر کوئی شکن نہیں پڑی لیکن کب تک‘ان مہاجرین کے ہاتھوں حالانکہ ان کا کاروبار متاثر ہو ا‘انکے جنگلات برباد ہوئے‘انکے علاقے میں جرائم میں اضافہ ہوا لیکن اسلامی اخوت کے جذبے کے تحت مقامی آبادی نے یہ سب کچھ خندہ پیشانی سے برداشت کیا‘لیکن کہتے ہیں ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے برداشت کی بھی ایک حد ہے مقامی لوگوں کےساتھ تو اونٹ والا معاملہ ہو گیا ہے کہ جسے ایک شخص نے اپنے خیمے میں پناہ دی تھی اور جس نے سخاوت سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اس خیمے پر ہی قبضہ کر لیا‘افغان مہاجرین کے بارے میں بھی ایک عرصے سے یہ سنتے سنتے ہمارے کان پک گئے ہیں کہ بس ان کا جانا ٹھہر گیا ہے‘ کوئی دن جاتا ہے کہ و ہ اپنے وطن واپس جائیں گے لیکن کئی کئی مرتبہ ان کی واپسی کی تاریخ میں چھ چھ ماہ کا اضافہ کر دیا جاتا ہے اور یہ عمل اب تو کئی برس سے جاری ہے‘ اب یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ 30 جون2019ءتک واپس اپنے وطن چلے جائیں گے۔

 لیکن لگتا نہیں کہ ایسا ہو اوراس کی کئی وجوہات ہیں اولاً تو یہ کہ کئی افغانیوں نے یہاں شادیاں رچالی ہیں‘ ثانیاً پیچھے افغانستان میں رکھا ہی کیا ہے جو وہ وہاں واپس جائیں وہاں ریاستی رٹ سرے سے موجود ہی نہیں ‘امن عامہ پامال ہے نہ وہاںکوئی ڈھنگ کا کاروبار ان کا انتظار کر رہا ہے اور نہ کھیتی باڑی کے کوئی ٹھوس مواقع موجود ہیں‘ کل کلاں وہاں کیا ہونےوالا ہے کوئی بھی کچھ وثوق سے نہیں کہہ سکتا‘امریکہ تو گرگٹ کی طرح ہر لمحہ رنگ بدلتا ہے کبھی وہ کہتا ہے کہ وہ وہاں سے اپنی افواج باہر نکال رہا ہے توکبھی یہ خبر سننے کو ملتی ہے کہ وہ بہرصورت چند ہزار فوجی افغانستان میں چھوڑے گا ‘ جہاں تک طالبان کا تعلق ہے وہ امریکیوں کو اسوقت تک سکھ کا سانس نہیں لینے دیں گے جب تک افغانستان سے آخری امریکی فوجی رخصت نہیں ہوتا‘بالکل اسی طرح کہ جس طرح 1980ءکی دہائی کے اواخر تک افغان جنگجو اسوقت تک میدان میں رہے جب تک روسیوں کا افغانستان سے انخلاءنہیں ہواتھا‘کاش ہم نے بھی افغان مہاجرین کے بارے میں اس قسم کی پالیسی پر عمل کیا ہوتا کہ جو ایران نے کیا تھا اور جنگ و جدل کے میدان سے دور آنےوالے افغان مہاجرین کو شہروں سے کافی دور ایک فاصلے پر رکھا ہوتا‘ایساکرکے ایران ان مسائل سے کافی حد تک بچا رہا کہ جن کا ہم بری طرح شکار ہوئے۔

 اس وقت توحکمرانوں کی آنکھیں ڈالروں کی ریل پیل سے اس قدر خیرہ ہو گئی تھیں کہ انہوں نے ملک کے مستقبل کا بالکل نہ سوچا بس آج ہی کی فکر کی‘ نتیجہ یہ نکلا کہ وہ خود بھی ایک دن ڈوب گئے اور اپنے ساتھ اس ملک کی کشتی کو بھی ڈبو گئے‘اس جنگ کے منفی اثرات آج تک یہ ملک بھگت رہا ہے اور نہ جانے کب تک بھگتے‘ تاریخ گواہ ہے کہ شمال سے آنےوالے مہاجرین شاذ ہی واپس گئے ہیں یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جسکا ہمیں سامنا ہے اور ہمارے ارباب اقتدار کے پاس اسکا کوئی حل نظر نہیں آ رہا‘ اقوام مغرب خصوصاً امریکہ زبانی جمع خرچ تو بہت کرتا ہے کہ وہ افغان مہاجرین کی وطن واپسی کا خواہاں ہے لیکن اندرون خانہ وہ نہیں چاہتا کہ ایسا ہو ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔