126

پشاور کے لئے میگا پارک کا تحفہ

غالباً اس وقت پورے ملک میں سب سے زیادہ قیمتی زمینوں کی مالک پاکستان ریلویز ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اسی کی سب سے زیادہ جائیداد قابضین کے چنگل میں ہے ‘ماضی میں اس قبضہ مافیا کےخلاف کم ہی سنجید ہ اقدامات کئے گئے مگر کچھ تو سپریم کورٹ کے فیصلوں اور کچھ تبدیلی سرکار کی پالیسیوں کے نتیجہ میں اب پہلی بار اس قبضہ مافیا پرہاتھ ڈالا جارہاہے‘ پشاور میں بھی ریلوے کی قیمتی اراضی قبضہ گروپوں سے واگزار کرانے کی کئی کامیاب کوششیں کی جاچکی ہیں‘ اس سلسلہ میں اسی صوبہ سے تعلق رکھنے والے ڈی ایس ریلوے ناصر خان خلیلی کی کوششوں کو نظراندازنہیںکیاجاسکتا گذشتہ دنوںایک محفل کے دوران انہوںنے بتایاکہ سٹی ریلوے سٹیشن کے قریب ریلوے کی بارہ ایکڑ اراضی جس کی مالیت کروڑوں روپے بنتی ہے طویل عرصہ کے بعد انتہائی ٹیکنیکل انداز میںطاقتور قبضہ گروپ سے واگزار کرائی جاچکی ہے تاہم اگلی بات ہمارے لئے کہیں زیادہ دلچسپی کاباعث ثابت ہوئی‘کہنے لگے کہ اگر صوبائی حکومت سنجیدگی کے ساتھ ہم سے رابطہ کرے اور یہ زمین پشاورمیں پارک کےلئے فراہم کی جاسکتی ہے‘یہ ایک بہت بڑی پیشکش قراردی جاسکتی ہے کیونکہ پشاور کے شہری علاقوںمیں بارہ ایکڑ اراضی کاملنااب ناممکن حقیقت بن چکی ہے مگر یہ موقع اب پہلی بار ملاہے کہ قیمتی ترین شہری علاقے میں اتنا بڑا رقبہ پار ک کےلئے مل سکتاہے۔

 جس سے پشاور کے لاکھوں شہری مستفید ہوسکتے ہیں‘ باربار ا ن کالموں میں پشاور کی حالت زار پر نوحہ خوانی کی جاچکی ہے اور سب سے زیادہ افسو س اس امر پرکیاجاتارہاہے کہ باہر سے آنےوالوں نے اس شہر کو کبھی بھی اپنانہیں سمجھا ارباب جہانگیر کے بعد سے گذشتہ تین عشروںکے دوران پشاور سے تعلق رکھنے والا کوئی وزیر اعلیٰ نہیں آسکا اسلئے حکمران تو یہیں مقیم رہے مگر ان کے دل صرف اپنے اپنے علاقوں کےلئے ہی دھڑکتے رہے جسکی وجہ سے پشاور کے مسائل گمبھیر صورت اختیار کرتے چلے گئے حالانکہ ان تمام سالوںمیں پشاور پر آبادی کے دباﺅ میںریکارڈ تیز ی کےساتھ اضافہ ہوتارہا ‘افغان مہاجرین کی آمد اور انکے ہاں بچوں کے افزائش کی دنیا بھر میں سب سے تیز شرح کی وجہ سے انفراسٹرکچر تباہی سے دوچارتھاکہ نائن الیون کے بعدقبائلی علاقوں میں مخصوص حالات کی وجہ سے وہاں سے انتقال آبادی کا سلسلہ شروع ہوا جس کا سب سے زیادہ اثر پھر پشاور پر پڑا‘ لاکھوں لوگ پشاور آتو گئے مگر ان میں سے بہت کم ہی واپس گئے جس نے پشاور کے وسائل پر ناقابل تلافی بوجھ ڈال دیا مگر اس دوران ایم ایم اے ‘اے این پی اور پی ٹی آئی کی حکومتوں نے پانچ پانچ سال پورے کرنے کے باوجود پشاور کےلئے کوئی خصوصی پیکےج نہیں دیا ‘موجودہ صوبائی حکومت برسراقتدار آئی تو وزیر اعلیٰ محمود خان نے پہلے روز سے ہی یہ اعلان کیاکہ پشاور ان کااپناشہر ہے اور وہ اس شہر کےساتھ ہونےوالی زیادتیوں کی تلافی ہرصورت کریں گے‘ اسوقت انکی صوبائی حکومت اپنے پہلے بجٹ کی تیاری میں مصروف ہے تو یہ سنہری موقع ہے کہ پشاور کےلئے جامع پیکےج کااعلان کیاجائے ۔

اس ضمن میں آج ایک سنہری موقع بھی ہاتھ آیاہے‘ ڈی ایس ریلوے کاتعلق اسی صوبہ سے ہے اوروہ اتنی قیمتی اراضی صوبائی حکومت کو دینے کےلئے تیار ہیں صرف ضابطے کی کاروائی کرناہوگی‘ کمشنرپشاور برادرم امجدعلی خان کاشمار بھی فعال افسران میں کیاجاتاہے جو سرکاری امور میں وقت کے ضیاع کے قائل نہیں اور فائل فی الفور نکالنے پریقین رکھتے ہیں اگر وہ اس حوالہ سے وزیر اعلیٰ محمودخان کے سامنے کیس رکھیں تو افسرشاہی کے روایتی سرخ فیتے سے بچتے ہوئے جلدسے جلد اس حوالہ سے اقدامات کا آغاز کیا جاسکتاہے اورجہاں تک محمود خان کاتعلق ہے تو وہ پشاور کیلئے کچھ یادگار اقدامات کے خواہشمندہیں ان کو بھی اب فوری طورپر متعلقہ حکام سے تفصیلی رپورٹ منگواکر اس بجٹ میں پشاور کے شہریوں کے لئے بارہ ایکڑ پر مشتمل عظیم الشان پارک کاتحفہ پیش کرناچاہئے ‘بصورت دیگریہ زمین نیلام ہو جائےگی اسوقت ڈی ایس ریلوے اور کمشنر پشاور اس سلسلہ میں ایک پیج پرہیں بس وزیر اعلیٰ محمود خان کے ایک حکم کی دیر ہے جسکے بعدپیش کئے جانےوالے بجٹ میں پشاور کے لئے میگاپارک کاتحفہ یقینی بنایاجاسکتاہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔