69

آﺅ بارش کی دعائیں مانگیں

کرکٹ کا ایک اہم میچ ہارنے کے بعدکا غم و غصّہ اپنی جگہ مگر سوشل میڈیا پر جس طرح ہر شخص نے اپنے دل کا غبار نکالا ہے اس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ ہم ایک بہت ہی زرخیز ذہن رکھنے والے لوگ ہیں‘ورلڈ کپ میں ابھی ہماری ٹیم کوکچھ اور میچ کھیلنا ہیں اور بہتر کارکردگی دکھا کر ممکن ہے اپنے لوگوں کے ذہن سے اس میچ کو ایک برا خواب سمجھ کر کھرچنے میں کامیاب ہو جائیں، ایسا ہو اجاسکتا ہے تو پھر یہ میچ تو یار لوگ یقینا بھلا دینگے‘ مگر سوشل میڈیا پر جو چٹکلے اور بے ساختہ کمنٹس تخلیق ہوئے ہیں انہیں بھلانے میں شاید بہت وقت لگے، مجھے بہت حیرانی ہوتی ہے کہ سوشل میڈیا پر کسی بھی سیاسی‘سماجی یا سپورٹس کے حوالے سے ہونےوالے کسی بھی واقعہ کے ابھی خد و خال پورے طور پر بنے بھی نہیں ہوں گے اور ایسا ایسا تبصرہ اور تصاویر پر ایسا ایسا کیپشن یار لوگ چسپاں کر کے پوسٹ کر دینگے کہ منہ سے بے ساختہ واہ نکلتی ہے اور انگلیاں اسے فوراً اپنے حلقہ ¿ یاراں سے شیئر کر دیتی ہیں‘ اب کے بھی ایسا ہی ہوا کہ یقینا بہت سے تبصروں پر تو غالب کا یہ شعر صادق آتا تھا کہ

بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی

لیکن ایسے عمدہ اور خوبصورت کمنٹس بھی سامنے آتے رہے جس نے ان افسردہ ساعتوں میں زخموں پر ٹھنڈی مرہم کے پھاہے رکھے‘ یہ منظر دھوپ اور بادلوں کی آنکھ مچولی سے مشابہ تھا‘ آنکھوں میں نمی اور ہونٹوں پر ہنسی کا یہ موسم بہت دیر تک بلکہ اب تک چھایا ہوا ہے۔ افسردگی جب غصّہ کا چولا پہن لیتی ہے تو بھٹکنے اور پٹڑی سے اترنے میں دیر ہی کتنی لگتی ہے سو یہی ہوا اور یار لوگوں کا لہجہ تنک گیا تھا‘ لیکن اس کےساتھ ساتھ معصوم اور بے ضرر قسم کے کمنٹس اور پکچرز کےساتھ کیپشنز بھی سامنے آتے رہے‘ افراز نے امریکہ سے ایک پکچر شیئر کی ‘ جس میں انگلینڈ میں مقیم ایک پاکستانی کرکٹ لورز کی تصویر ہے جس میں وہ کرکٹ کا دیوانہ عربی سفید لباس میں ایک سفید گھوڑے پر بیٹھا اس طرح سٹیڈیم پہنچتا ہے کہ ایک ہاتھ میں گھوڑے کی لگام اور دوسرے میں ایک بڑا پاکستانی جھنڈا تھامے ‘اٹھ گردن اور تنے ہوئے سینے کےساتھ سٹیڈیم کی پارکنگ پہنچا تھا‘ اس تصویر پر مزے کا کیپشن تھا ” ہماری تو خیر ہے ‘ہم تو میچ ہارنے کے بعد ٹی وی بند کر کے سو گئے تھے‘ لیکن کرکٹ کی دنیا کا یہ شہسوار سٹیڈیم سے واپس کیسے گیا ہو گا“ خیر واپس تو گراو¿نڈسے ہارنے والے کھلاڑی بھی چلے ہی جاتے ہیں بلکہ ان کی جان پر دہرا عذاب ہو تا ہے ‘انہیں اپنا دکھ بھلا کرجیتنے والی ٹیم کو مسکراتے ہوئے مبارک باد بھی دینا ہوتی ہے‘ اسی کرٹسی کی وجہ ہی سے کرکٹ کو ” شریفانہ کھیل“ کہا جاتا ہے ‘اسکے اپنے آداب ہیں مجھے یاد ہے کہ ہم بچپن اور لڑکپن میں جب کسی اور ٹیم کو میچ کا پیغام بھیجتے تھے تو اس رقعہ کی عبارت میں یہی لکھا ہوتا کہ’ ہماری ٹیم آپ کی ٹیم کےساتھ ایک ” دوستانہ “ میچ کھیلنا چاہتی ہے‘۔

بھلے سے بعد میں میچ کے دوران کتنے ہی جھگڑے جھگڑنے پڑتے، چونکہ اس گیم میں بلے اور وکٹیں ہوتی ہیں اس لئے بھی بار بار کھلاڑی کو یاد دلانا پڑتا ہے کہ یہ جنٹلمین گیم ہے اور یہ میچ ایک دوستانہ میچ ہے‘ بہر حال یہ ورلڈ کپ ایک بڑا اور معتبر حوالہ ہے اسلئے ہر ٹیم بلکہ ہر پلیئر سے سو فیصد کارکردگی دکھانے کی توقع کی جاتی ہے اور کرکٹ لورز جانتے ہیں کہ ہار جیت کھیل کا حصّہ ہے اب نہ تو ساری ٹیمیں سیمی فائنل تک پہنچ سکتی ہیں اور نہ ہی فائنل ساری ٹیموں کے مابین ممکن ہے‘ مگر عمدہ کھیل پیش کر کے ہارنے میں اور پلیٹ میں رکھ کر جیت مخالف ٹیم کی خدمت میں پیش کرنے میں فرق تو ہے‘ فیض نے کہا تھا نا
”جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ، وہ شان سلامت رہتی ہے“
”یہ جان تو آنی جانی ہے اس جاں کی تو کوئی بات نہیں“
 پاکستانی شائقین کرکٹ کو غصّہ بس اس بات کا تھا کہ کسی کھلاڑی نے اپنی ذمہ داری محسوس نہ کی اور ” تو چل میں آیا“ کی سی حالت تھی۔ اور پاکستان کرکٹ ٹیم کے ساتھ یہ المیہ آج کا نہیں،ماضی میں بھی یہ ہوتا آیا ہے بس اتنی بات ہے کہ تب فیس بک نہیںتھی ٹوئٹر اور وٹس ایپ نہیں تھا،ان دنوں اخبارات بھی ناک کی سیدھ میں چلتے تھے اور صحافت کا عمدہ معیار کسی ایسے ویسے تبصرے کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا۔

اس لئے کھلاڑیوں کی کارکردگی کی خبر مزاحیہ میگزین میں لی جاتی تھی، ان دنوں پاکستان میں ایک ہی مزاحیہ رسالہ مقبول تھا اور یہ ماہنامہ چاند تھا، وحشی مارہروی کے اس رسالے پر مدیر کا نام ” پیر جنگلی علیہ ما علیہ“ کا نام دیا جاتا تھا اس رسالہ میںمزے مزے کے کارٹون چھپتے تھے، اور وہ اتنے عمدہ اور کاٹ دار ہوتے کہ ان کو کم کم ہی کسی کیپشن کی ضرورت ہوتی اور یہ جو ” تو چل میں آیا“ کا کیپشن کرکٹ کے حوالے سے مشہور ہوا تھا،سگریٹ کا پبلک مقام پرپینا نہ قانون کی زد میں آتا تھا اور نہ معیوب سمجھا جاتا تھا اسلئے یہ کارٹون بھی عام تھے جس میں بیٹنگ کےلئے جانے والا کھلاڑی اپنے ساتھی کو سلگتی سگریٹ یہ کہہ کر پکڑا جاتا کہ بس یہ گیا اور یہ آیا اور ایسا ہی ہوتا۔ مجھے یاد ہے کہ جب 1999 کے ورلڈکپ میںپاکستان کی ٹیم بنگلہ دیش کی نو آموز ٹیم سے ہار گئی تھی تو اس وقت وسیم اکرم ٹیم کے کپتان تھے،اس نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ ہم اپنے بھائیوں سے ہارے ہیںمگر اس میچ کی جیت کو جس طرح سرکاری سطح پر بنگلہ دیش میں سیلی بریٹ کیا گیا اور اسے ورلڈ کپ کے فائنل جیتنے سے بھی بڑی خوشی قرار دیا گیا تو بہت سوں کو چپ ہو نا پڑاکرکٹ کا کھیل کل بھی اسی ہنگامہ خیزی میں آگے بڑھتا رہا ہے اب بھی وہی حال ہے، لیکن بہتر یہی ہے کہ ابھی پلیئرز کو زیادہ نہ چھیڑا جائے تا کہ وہ باقی ماندہ میچوں کو جیتنے کے لئے سکون سے کوئی حکمت عملی طے کر لیں،کون جانے کوئی اچھی خبر مل جائے اور جب سے کرکٹ میں ” ڈک ورتھ لوئس میتھڈ“ متعارف ہوا ہے اب یہ شعربھی بے مصرف ہو گیا ہے۔
ٹیم پھر ہار رہی ہے اپنی
آو¿ بارش کی دعائیں مانگیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔