122

ایران پر نیا امریکی دباﺅ

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کےخلاف مزید گھیرا تنگ کرنے کےلئے عالمی برادری کو یکجا کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے مشیر قومی سلامتی جان بولٹن‘ وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور قائم مقام سیکرٹری دفاع پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے جو ایران پر مزید پابندیاں اور سخت کاروائی کےلئے عالمی رائے عامہ کو ہموار کرے گی‘ایران کےخلاف امریکی صدر کے خطرناک عزائم کااندازہ اس تازہ امریکی الزام سے لگایاجاسکتا ہے جس میں کہاگیاہے کہ آ بنائے ہرمز میں دو آئل ٹینکرز کو نشانہ بنانے سے قبل ایرانی میزائل نے ٹینکرز کی حفاظت پر مامور امریکی ڈرون کو مار گرایا تھا۔یادرہے کہ قبل ازیں امریکی فوج نے ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ خلیج اومان میں دو تیل بردار ٹینکروں پر ہونے والے حالیہ حملوں میں ایرانی پاسداران انقلاب ملوث ہیں جسکے ردعمل میں ایران نے امریکی دعوﺅں کو مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ ان حملوں سے ایران کا کوئی تعلق نہیں ہے‘جمعرات کو ہونے والے بارودی سرنگوں کے ان حملوں میںجاپان اور ناروے کے ملکیتی آئل ٹینکروں کونشانہ بنایاگیا تھا‘اس تازہ واقعے کا ایک پریشان کن پہلو امریکہ کی جانب سے اپنی روایتی ایران دشمنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس واقعے کی ذمہ داری ایران پر عائد کرناہے‘ امریکی وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ یہ بلااشتعال حملے عالمی امن اور سکیورٹی کےلئے خطرہ اور ایران کی جانب سے کشیدگی بڑھانے کی ناقابل قبول مہم کاحصہ ہے۔

یاد رہے کہ خلیج اومان میں پیش آنےوالا یہ واقعہ متحدہ عرب امارات کے قریب چار ٹینکروں پر ہونےوالے ان حملوں کے ٹھیک ایک ماہ بعد پیش آیا ہے جسکا الزام بھی امریکہ نے ایران پر عائد کرتے ہوئے خلیج میں اپنا بحری بیڑا اور بی52 جنگی طیارے بھیجے تھے جوتاحال قطر اور ملحقہ علاقوں میں لنگرانداز ہےں رپورٹس کے مطابق جمعرات کو ہونےوالے اس واقعے کے بعد تقریباً پانچ ماہ تک عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں مستحکم رہنے کے بعد ان میں اچانک چارفیصد اضافہ ہوگیاہے جس میں تناﺅ کی موجودہ صورتحال کودیکھتے ہوئے مزید اضافے کے خدشات کورد نہیں کیاجاسکتا۔متحدہ عرب امارات کے قریب ایک ماہ قبل ہونے والے حملوں کے متعلق امریکہ کا کہنا تھا کہ ان حملوں میں ایران ملوث ہے جبکہ تہران کی جانب سے یہ الزام مسترد کر دیا گیا تھا۔ان حملوں کے بعد ایران اور امریکہ اور خلیج میں موجود اسکے حامیوں کے درمیان نہ صرف کشیدگی بڑھ گئی تھی بلکہ بعض مبصرین حالیہ ان واقعات کو خلیج اور ملحقہ خطے کے امن کےلئے ایک بڑے بحران کا پیش خیمہ بھی سمجھ رہے ہیں‘دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے خلیج اومان کے حالیہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے سکیورٹی کونسل کو بتایا ہے کہ دنیا خلیج میں بڑے تصادم کی متحمل نہیں ہو سکتی‘اس تازہ واقعے پر ردعمل ظاہرکرتے ہوئے یورپی یونین نے تمام فریقین کو حد درجے تک تحمل سے کام لینے کو کہا ہے جبکہ روس نے کہا ہے کہ کسی کو بھی بلا تحقیق کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچنا چاہئے اور نہ ہی اس واقعے کو ایران پر دبا¶ ڈالنے کےلئے استعمال کیاجانا چاہئے ۔

 دریں اثنا ٹینکرز ایسوسی ایشن‘ انٹر ٹینکو کے چیئرمین پا¶لو ڈی امیکو نے کہا ہے کہ ٹینکروں پر حملہ دیگر ملکوں کے لئے بھی خطر ہ ہے،ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ پانی اسی طرح غیر محفوظ رہا تو پوری مغربی دنیا کو تیل کی فراہمی خطرے میں پڑسکتی ہے‘ خلیج اومان کا حالیہ واقعہ ایسے موقع پر پیش آیا ہے جب کوئی جاپانی وزیر اعظم پچھلی چار دہائیوں کے دوران پہلی دفعہ ایران کے سرکاری دورے پر تہران پہنچا ہے جہاںاس نے ایرانی صدرڈاکٹر حسن روحانی کے علاوہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ آئی کےساتھ خطے کی کشیدگی بالخصوص ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ تناﺅ کے خاتمے پر بات چیت کی ہے‘جاپان کے وزیر اعظم کی اس حالیہ سفارتکاری اور امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششوں کا آغاز چند دن پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جاپانی وزیر اعظم شنزو ابے کے درمیان ٹوکیو میں ہونےوالی ملاقات کے دوران جاپان کی جانب سے ثالثی کی کوششوں کی پیشکش کے بعد ہوا ہے جس کاامریکہ کےساتھ ایران نے بھی اعلیٰ سطح پر خیرمقدم کیا تھا اور اب جاپان کے کسی وزیر اعظم نے اسی سلسلے میں ایران کے اسلامی انقلاب کے بعد تہران کاپہلا دورہ کیاہے جسے بین الاقوامی حلقوں میں خصوصی اہمیت کاحامل قراردیا جارہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔