72

پولیس کا ہے فرض

اقبال درزی کی خبرشائع ہوئی ‘پریس کلب کے باہر وہ پولیس کےخلاف احتجاج کر رہا تھا اور درخت پر چڑھ کرپولیس کےخلاف نعرے بازی کر رہا تھا ‘اس سے کپڑے سلوا کر پولیس والے سلائی کی اجر ت نہیں دے رہے تھے ‘ یہ اس کا اہم مسئلہ تھا جس کےلئے وہ درخت پر چڑھا ہوا تھا خبر کے آخر میں یہ بھی تحریر تھاکہ متعلقہ پولیس نے اس قسم کے کسی واقعہ کی تردید کی ہے ‘پولیس کےخلاف اس قسم کی شکایت پر مشتمل خبریں شائع ہوتی رہتی ہیں ایسی ہی ایک کہانی ہری پور سے جمیل حسین شاہ نے بیان کی کہ جب وہ پنڈی سے سفر کرتے ہوئے وزیر آباد پل چناب کے ناکے سے گزرتے ہیں تو پولیس سے بھی پالا پڑتا ہے اس بار اچانک سڑک پر ایک شخص انکی گاڑی کے آگے آگیا بمشکل بریک لگائی اپنے حلیے سے وہ پولیس افسر نہیں لگ رہا تھا کہ اس نے پینٹ کے اوپر صرف ایک بنیان پہن رکھی تھی سر پر ٹوپی تھی کوئی بیلٹ نہ تھی ‘ نہ ہی سینے پر نام کاسٹکر تھا قمیض ہوتی تو شولڈر بھی ہوتے اس طرح رینک کا پتہ بھی چلتا ‘ہم نے سمجھا کوئی چوکیدار نما مخلوق میں سے ہے اور لفٹ کےلئے اچانک کار کے آگے آ گیا ہے مگرکرخت لہجے میں بولا ‘ کون ہو اور کہاں سے آ کر کہاں جا رہے ہو؟ ہم نے اپنا تعارف کروایا کہ ہم بھی آپکے ”پیٹی بھرا“ رہے ہیں تو جانے دیا اس سے پچھلے برس بھی ایسی جگہ ایک مضحکہ خیز منظر دیکھا کہ ایک باوردی جوان بڑے غیر شائستہ انداز میں تربوز کھانے میں مصروف تھا‘ تربوز کا پیالہ منہ سے لگنے سے اسکی مونچھیں بھی ”رس بھری“ ہو رہی تھیں اپنے پولیس کے چھوٹے سے خیمے کے باہر کرسی پر تربوز سے’منہ صاف کرتے ‘ہوئے وہ گاڑیوںکو چیک کرنےوالے کانسٹیبل کو ہدایات بھی دئیے جا رہا تھا اس کےساتھ ایک سول لباس میں ملازم بھی تھا جو پولیس کا سپاہی زیادہ رعب ڈالنے کی کوشش کر رہا تھا پوچھ گچھ کے علاوہ کاغذات بھی چیک کئے جا رہے تھے ۔

اگر سب کچھ اوکے ہوتا وہ گاڑی کی لائٹس اور ٹائر بھی چیک کر رہا تھا جب سب کچھ چیک کرنے پر بھی اسکے ہاتھ کچھ نہ آیا تو پوچھا کہاں جا رہے ہو ہم نے بتایا کہ اپنے مرشد کے عرس پر جارہے ہیں تو نرمی سے مسکرا کر بولا ‘ توپھر اپنے مرشد کی نیاز ہی دیتے جاﺅ ہم چائے پی لیں گے‘ہم نے ہنستے ہوئے اسے نیاز پیش کی اور آگے چل دئیے ۔ ناکوں پر عموماً بہت کم گاڑیوں کو روکا جاتا ہے یہاں لاہور میں کئی جگہ صرف پولیس کی رکاوٹیں ہوتی ہیں اور خلق خدا بڑی تنگ ہو کر رینگتی گاڑیوں کےساتھ گزرتی ہے‘ پولیس والا کوئی موجود نہیں مگر آدھی سڑک پر وہ رکاوٹیں ٹریفک میں مسلسل خلل ڈالتی ہیں‘یہی حال ان پولیس ناکوں کا بھی ہے جہاں ایک دو سپاہی خلق خدا کو اذیت سے گزرتا دیکھتے ہیں اور ٹس سے مس نہیں ہوتے کہ ٹریفک جام ہو چکا ہے یا گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں‘ بعض اوقات پولیس نے ایک دو موٹر سائیکل والوں یا بڑے ٹرک کو روک کرلمبی پوچھ گچھ کا سلسلہ شروع کیا ہوتا ہے اور ٹریفک جام ہوجاتاہے گویا خود ان پولیس والوں کی وجہ سے بھی گاڑیاں لمبی قطاروں میں رینگتی نظر آتی ہیں‘ایک د و بار تو ہائی وے پر کئی بسیں لٹیروں نے لوٹیں ایک دو صاحبان نے قریبی تھانے میںجا کر اطلاع دی تو ان لٹےروں میں سے ایک دو وردی تبدیل کر رہے تھے کہتے ہیں تحریک انصاف کی حکومت نے صوبہ خیبرپختونخوا کی پولیس بہتر کردی ہے کاش کبھی پنجاب پولیس بھی اپنے روئیے سے بہتر دکھائی دے‘ایک ناکے پر اس طرح کی پوچھ گچھ جاری تھی کچھ لوگ شاید بری امام کے میلے سے واپس آ رہے تھے پوچھا گیا تم کون ہو ؟

ایک نے بتایا میں فلاں گدی کا مر ید ہوں پولیس والے نے کوئی توجہ نہ دی اور اسے بٹھایا پھر دوسرے کی باری آئی اس نے کسی اوربزرگ کا نام لیا کہ میں فلاں کا مرید ہوں مگر پولیس والے کی رعونت میں کوئی فرق نہ آیا تیسرے نے سوچا یہ تو پیر فقیر کو مان ہی نہیں رہا اس سے بھی پوچھا گیا کہ تم بتاﺅ بھی تم بھی مرید ہو ؟ تو وہ ہاتھ باندھ کر بولا ‘صاحب بہادر میں رن مرید ہوں‘ صاحب بہادر کے لبوں پرمسکراہٹ پھیل گئی اور ماتحتوں سے فرمایا اوئے اسے جانے دو ‘خیر یہ توایک لطیف بات تھی پولیس کی وردی تبدیل کرنے سے فرق نہیں پڑےگا ان کارویہ تبدیل ہونے کی ضرورت ہے ‘تعلیم یافتہ افراد کو پولیس میں شامل کیا جائے‘ توندوں والے پولیس افسروں کو چست اور چاک وچوبند رکھنے کی بھریور کوشش کی جائے تھانوں کا ماحول بہتر بنایاجائے‘ پولیس کو غیر سیاسی بنانے کےساتھ ساتھ یہاں میرٹ نافذ کی جائے‘سفارش اور رشوت کلچر کاخاتمہ ہونا بھی ضروری ہے ‘ایک جگہ پولیس کی بھرتی ہورہی تھی تو قطار میںایک نابینا نوجوان بھی موجود تھا اپنی باری پر جب اس سے پوچھا گیا بھئی تم تو اندھے ہوتمہیں دکھائی نہیں دیتا تو پولیس کی ملازمت میں کیسے آنا چاہتے ہو تو وہ برجستہ بولا۔صاحب‘ آپ مجھے اندھا دھندفائرنگ کےلئے بھرتی کرلیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔