66

قطری امداد اور ہماری معیشت

قطر کے امیر اپنا دو روزہ دورہ مکمل کرکے واپس جاچکے ہیں‘ ایک ایسے وقت میں‘ جبکہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور ایران امریکی تلخی کے پس منظر میں تقسیم ہو رہی ہے‘ عرب دنیا سے الگ شناخت رکھنے والے ملک قطر کے سربراہ مملکت کا دورہ بہت اہمیت کا حامل ہے‘ اور ہماری پوزیشن یہ ہے جو کوئی بھی‘ کچھ دینے کی پوزیشن میں ہو‘ وہ ہمارے سرکا تاج ہے‘ اس دورے سے قبل ہماری حکومت نے بتایا تھا کہ8 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان ہوگا لیکن امیر قطر کی روانگی کے بعد مشیر خزانہ نے بڑے پیچیدہ الفاظ اور انداز میں بتایا کہ قطر 3 ارب ڈالر دے گا جو براہ راست سرمایہ کاری اور ڈیپازٹ کی صورت میں منتقل ہونگے‘ اس سے پہلے سعودی ولی عہد بھی 3 ارب ڈالر کا وعدہ کر گئے تھے جبکہ تین ارب کا ادھار تیل دینے کا اعلان بھی کیا تھا‘تین ارب ڈالرہی چین نے دئیے تھے اور عرب امارات نے 2 ارب ڈالر کا اعلان کیا تھا‘ ان کے ملنے اور استعمال کی کوئی خبر نہیں اور آئی ایم ایف کے ساتھ 6 ارب ڈالر3 سال میں ملنے کی امید پر تنخواہ دار اور غریب طبقے پر مصائب کے پہاڑ گرا دئیے گئے‘ ابھی یہ ڈیل فائنل نہیں ہوئی جبکہ پاکستان نے شرائط پر عملدرآمد کر بھی دیا‘ پہلے وزارت خزانہ اور مالیاتی اداروں میں پوری ٹیم ہی تبدیل کی گئی اور پھر بجٹ بھی اپنی شرائط پر بنایاگیا‘ بہرحال بات ہو رہی تھی قطر کی طرف سے ملنے والی امداد کی جس کے حصول کیلئے ہم نے سعودی عرب سمیت دیگر عرب ریاستوں کی ناراضگی کا خطرہ بھی لے لیا ہے اور حسب توقع امداد بھی نہیں مل سکی حالانکہ قطر کو اس وقت پاکستان کی حمایت اور تعلق کی اشد ضرورت ہے عرب لیگ کی طرف سے ایران کی حمایت کے الزام پر قطر سے تعلقات منقطع کرنے کے بعد یہ تیل کی دولت سے مالا مال ریاست خطے میں تنہائی کاشکار ہے۔

 ایران پر امریکی اور عالمی پابندیوں کے باعث کھل کر تجارت نہیں کر سکتا جبکہ دیگر ہمسایہ ممالک سعودی عرب کے زیر اثر ہیں‘ اگرچہ پاکستان بھی سعودی عرب کا اتحادی ہے اور عام طورپر اسکے جذبات کا خیال رکھتاہے مگر قطر کے امیر کا استقبال کرنے بعد امداد حاصل کرنے کیلئے یہ خطرہ بھی مول لیا‘ اگرچہ ابھی تک سعودی عرب اور امارات نے اس پر اپنا ردعمل ظاہر نہیں کیا مگر ان کو زبانی کوئی ردعمل دینے کی ضرورت ہی نہیں‘ ادھار تیل یا اعلان شدہ امداد ہی روک لیں گے اور کہیں گے کہ جاﺅ قطر سے ہی لے لو تو ہماری حالت خراب ہوجائے گی ویسے بھی ہماری معیشت کا دار ومدار ہی خیالی مفروضوں پر ہے‘ ازخود ہی اندازہ لگالیتے ہیں کہ اتنے پیسے فلاںملک دےگا اور اتنا قرض فلاں ادارے دے گا مگر توقعات پوری نہیں ہو پاتیں اور ان کی بنیاد پر قائم پالیسی بھی دھڑام سے گر جاتی ہے ہمارا اصل مسئلہ عوام کا ٹیکس نیٹ میں آنے سے گریز ہے حالاناکہ ہر شہری کئی قسم کے بالواسطہ ٹیکس ادا کرتا ہے مگر خود کو ایف بی آر کے شیشے میں آنے سے بچانے کیلئے اپنی فائل نہیں کھولنے دیتا‘ دوسرا سب سے بڑا پتھر تاجر برادری‘ بالخصوص دکانداروں کا اپنی خرید و فروخت کو دستاویزی شکل دینے سے گریز ہے ‘سابق وزیر خزانہ اور وزیر اعظم شوکت عزیز نے بڑی کوشش کی کہ کسی طرح معیشت کو دستاویزی شکل دی جائے مگر تاجروں نے ایک نہ چلنے دی اب بھی حالت یہ ہے کہ کوئی دکاندار اپنے گاہکوں سے لیاگیا جی ایس ٹی بھی جمع کروانے کو تیار نہیں اور ہڑتالوں کے خوف سے ٹیکس حکام بھی کسی دکان میں داخل ہونے سے ڈرتے ہیں حکومت کو کسی نے نہ جانے کیامشورہ دیا ہے کہ وہ ہاتھ میں موجود پرندوں کو چھوڑ کر اڑتے پرندوں کے پیچھے بھاگ رہی ہے۔

 اگر ہڑتالوں کے خوف سے نکل کرصرف روزانہ ایک لاکھ روپے سے زائد سیل والی دکانوں پر بھی مضبوط ہاتھ ڈالا جائے تو ملک کی مشکلات کم ہوسکتی ہیں مگر اس میں شرط یہ ہے کہ اپوزیشن بھی ”میثاق معیشت“ کے تحت اس کی حمایت کرکے المیہ یہ ہے کہ وقتی سیاسی فائدے کیلئے سیاسی جماعتیں تاجروں کے ساتھ کھڑی ہوکر حکومت کیلئے مشکلات پیدا کرتی ہے جو دراصل وہ اپنے لئے مشکل کو مضبوط کر رہی ہوتی ہیں‘ یہی صورتحال خسارے میں چلنے والے اداروں کا ہے جو صرف مزدور یونینز کی حمایت کیلئے اپوزیشن فروخت نہیں کرنے دیتی جس ملک میں سالانہ 200 ارب روپے پاکستان سٹیل‘ پی آئی اے‘ ریلوے‘ میٹروبس اور دیگر اداروں کو دینے کی مجبوری ہو‘ اس کی معیشت کیسے اوپر اٹھ سکتی ہے‘ ہونا تو یہ چاہئے کہ جن کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے منافع بخش ادارے تباہ ہوئے‘ ان کو سزا دی جائے‘ ہویہ رہا ہے کہ ان کو اس مجرمانہ غفلت کے انعام میں خزانے سے مراعات دی جارہی ہیں‘حکومت کو چاہئے کہ خفیہ اور نامعلوم فرضی اثاثوں کی تلاش میں توانائیاں خرچ کرنے سے پہلے خزانے کو دیمک کی طرح چمٹے اداروں سے جان چھڑانے اور بالواسطہ ٹیکس کو کھانے والے تاجروں پر مضبوط ہاتھ ڈالے تاکہ عام شہریوں کا ادا کیاگیا ٹیکس تو وصول ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔