52

میلہ درویش اور بجٹ

اگلے روز درویشوں کے میلے میںچند گھڑیاں گزریں حیرت ہوئی شدید گرمی میں فقیر سے محبت کرنےوالے دور دراز کے علاقوں سے آئے ہوئے تھے ‘ڈیرہ درویش پر جائیں تو چٹائیوں پر شب و روز گزارنے پڑتے ہیں زمین پر بیٹھنا آسان نہیں ہوتا یہاں کسی کو زندگی کی آسائشوں کا خیال نہیں آتا اور تو اور گھر خاندان عزیز و اقارب دنیاداری کسی کا بھی دھیان نہیں رہتا محسن اعظم کی محبت میں کچھ تو ایسا کمال ہے کہ کوئی بھی خیال یہاں پر نہیںمارتا مختلف شعبہ ہائے زندگی سے متعلق رکھنے والے اپنی لگژری لائف اور آسانیوں سے دور انہی چٹائیوں پر بیٹھے دکھائی دیتے ہیں آخر کوئی تو بات ہے کہ یہاں لوگ دو روز تک محبت کا موسم انجوائے کرتے ہیں‘مشاہدہ کیا کہ یہاں پر کوئی ایثار و محبت کا پیکر دکھائی دیتا ہے سبھی ایک دوسرے سے بسم اللہ بسم اللہ جی کرتے نظر آتے ہیں‘ ایسے میلوں پر روح سر شار ہو جاتی ہے اور مساوات اور جمہوریت کے حقیقی معانی کھلتے ہیں ہزاروں کی تعداد میں لوگ چٹائیوں پر بےٹھے ہوئے لنگر کھاتے ہوئے خاموشی بھی انگشت بدنداں ہوتی ہے ورنہ ہمارے ہاں تو بڑے بڑے فائیو سٹار ہوٹلوں کے عشائیوں ‘بڑی بڑی شادیوں یا ولیموں پر جب روٹی کھلتی ہے تو ایسے لگتا ہے کہ کئی ماہ کے فاقہ کش کھانوںپر ٹوٹ پڑے ہیں‘طعام کی بے حرمتی ہوتی ہے چھینا جھپٹی کے مناظر تو سیاسی جلسوں کے آخر میں کھانے کے دوران میں بھی دیکھنے کو ملتے ہیں کھانا وافر مقدار میں ہونے کے باوجود ہم لوگ صبر اور ہوش سے کام نہیں لے سکتے‘ ۔

امجد شاہ بتانے لگے کہ ہمارے ایک آفیسر نے بیٹے کے ولیمے پر چند غیر ملکی مہمانوں کو بھی مدعو کر رکھا تھا جیسے ہی کھانا شروع ہونے کا اعلان ہوا لوگ بھوکوں کی طرح کھانے پر ٹوٹ پڑے غیر ملکی مہمان کھانا تناول کرنے کی بجائے ہماری عوام کی بے صبری کا تماشا اپنے موبائلوں میں محفوظ کرنے لگے کھانے کی محافل میں ہی انسان کی اصل سے آگاہی ملتی ہے ہمارے ہاں عام زندگی میں ان محافل میں افراتفری‘ بدنظمی ہمارا قومی مزاج بنتی جاتی ہے لیکن خالص اور حقیقی صوفیائے کرام اور درویشوں کی محافل میں کمال کا نظم و ضبط دیکھنے کو ملتا ہے یہاں آنےوالے لوگ بھی اسی سماج کاحصہ ہیں لیکن یہاں انصاف اور مساوات پر وہ اس قدر یقین رکھتے ہیں کہ انہیں جہاں بٹھایا جائے بیٹھ جاتے ہیں انہیں مکمل یقین ہوتا ہے کہ سب کچھ ہمیں بیٹھے ملے گا اور سب کےساتھ یکساں سلوک ہوگا‘یہی حقیقی جمہوریت ہے یہاں مٹن کا سالن چاول نان ‘ سویٹ ڈشز‘ پھل فروٹ مٹھائیاں سب کو ایک ہی مقدار میں ملتی ہیں‘ ایسے میں وہ صبر بھی کرتے ہیں اور پھرزمین پر بیٹھ کر کھانے میں امیر‘غریب‘ چھوٹے بڑے کا کوئی فرق روا نہیں رکھا جاتا کوئی بہت بڑا زمیندار ہے ‘تاجر ہے افسرہے یا عام غریب مسکین ایک ہی چٹائی پر بیٹھ کر کھارہے ہوتے ہیں فرمان درویش ہے من ملے تو میلہ‘گرو ملے توچیلا ‘درشن بن رام بھی اکیلا یہ تو خیر ایک اکھان ہے بات سے بات یاد آتی ہے بات ملن اور میلے کی ہو رہی تھی فی زمانہ معاشرے میں اگر لوگوں کو کسی چیز کی تلاش ہے تو وہ سکون ہے ہم نے سکون اور راحت ‘دولت آرام اور تعیش کو سمجھ رکھا ہے حالانکہ کون نہیں جانتا ہے کئی متمول حضرات‘ ذہنی سکون کےلئے روزانہ مٹھی بھر دوائیں استعمال کرتے ہیں۔

سکون دولت‘ شہرت اور اقتدار میں کہاں ؟دولت سے آپ اعلیٰ ترین بسترتوخرید سکتے ہیں مگر نیند نہیں خرید سکتے بڑے بڑے دولت منداور عیش و آرام کے پجاری بے سکونی کی زندگی گزار رہے ہیں انہیں طرح طرح کے آرام اور بیماریاں لاحق ہیں اصل میں سب سے بڑی بیماری خواہش ہے سکون اور خواہش اکٹھے ہو ہی نہیں سکتے بالکل ایسے جیسے رات اور دن اکٹھے نہیں ہوسکتے آپ سکون کے آرزو مند ہیں تو خواہش سے نجات حاصل کرلیں سکون خود بخود مل جائےگا اپنے آپ کو حالات کے حوالے کردیں جو کچھ آپ کے ساتھ ہو رہا ہے جس حال میں بھی ہیں اس پر راضی ہو جائیں وہی آپ کےلئے بہتر ہے مگر ہم غافل ہیں ہم بظاہر اللہ اور اسکے رسول کو مانتے ہیں مگر انکے فرمان پر عمل پیرا نہیں ہوتے جب آپ حرص تعصب ‘ غصہ ‘کینہ ‘ حسد جیسی بیماریوں کو ساتھ لئے ہوئے زندگی گزار رہے ہیں تو یہ آپ کی روح کا بوجھ ہیں اس بوجھ کےساتھ کام پر جاتے ہیں یا کہیں بھی نکلتے ہیں توآپ نہ صرف خود کوبے سکون رکھتے ہیں بلکہ سارے ماحول کو غارت کر تے ہیں دوسروں کو بھی بے سکون کرتے ہیں بات قدرے سنجیدہ ہوگئی ہے‘میلے پر بابا صادق بتا رہے تھے کہ ہم سب کھانے پینے میں مگن ہیں اشیاءکے معنی جانے بغیر کہ ہم کیاکھا رہے ہیں ‘لوٹنے والے اسمبلیوں میں بیٹھ کر نئے بجٹ کو غریب کش بجٹ کہہ رہے ہیں حالانکہ موجودہ بجٹ سخت ہے تو اس سطح پر قوم کو سابق حکومتوںنے پہنچایا ہے حکومت ٹیکس اکٹھا ضرور کرے مگر پہلے مجرموں سے لوٹی ہوئی دولت بھی واپس لے جس کا فیصلہ عدالتیں کر چکی ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔