90

اور سرتاج خان بھی

سناتھاکہ کچھ جنازے بہت بھاری ہوتے ہیں ہم نے بھی کئی جنازوںکو کندھا دیاہے جن میں سے واقعی کچھ بہت ہی بھاری تھے ہفتہ کے روزرات دس بجے ہم نے جس جنازے کو کندھا دیا وہ انہی بھاری جناروںمیں سے ایک تھا کیونکہ جس روز ہم ا سکے مہمان تھے اسی روز وہ ہمیںداغ مفارقت دے کرچلاگیاسرتاج خان اے این پی کے اُبھرتے ہوئے رہنماﺅں میں سے تھے ان کاجنازہ اس لیے بھاری محسوس ہواکہ اسی روز ہم بعض صحافی دوستوں کو اس نے اپنے دفتر میں مدعو کیاہوا تھا اپریل میں جب وہ سٹی ڈسٹرکٹ کے صدر بنے تب سے ا ن کے ساتھ کوئی تفصیلی ملاقات ہی نہ ہوسکی تھی پھر رمضان المبار ک میں ادائیگی عمرہ کے لیے چلے گئے چند دن قبل ایک محفل میں چھوٹتے ہی گلہ کیاکہ آپ دوستوں نے تو مبارکباد تک نہیں دی جس کے بعد ہفتہ کے روز پونے بارہ بجے ان کے ساتھ فون پر گفتگوکے دوران ان کے دفتر میں دو بجے ملاقات طے پائی دیگر چارپانچ دوست بھی مدعو تھے پونے ایک بجے سرتاج خان کافون آیاکہ میں دو کے بجائے ڈیڑھ بلکہ سوا یک بجے تک پہنچ جاﺅں گا آپ لوگ بھی جلد ی آجائیں ہمارا جواب تھاکہ دیگر تو دوبجے ہی آئیں گے۔

 میں پونے دوبجے تو پہنچ جاﺅں گا جس کے بعد دوبجنے سے ٹھیک پانچ منٹ پہلے ہم ان کے دفتر پہنچے مگر ان کو نہ پاکر حیرانگی ہوئی حیرانگی اس بات پر کہ کبھی بھی سرتاج خان نے وقت کی پابندی میں کمزور ی نہیں دکھائی تھی بلکہ مقررہ وقت سے بعض اوقات چند منٹ پہلے پہنچنا اس کی عادت تھی اس لیے اس روز خلاف معمول سوا ایک کے بجائے پانچ منٹ کم دو بجے بھی وہ غائب تھے چنانچہ اسی وقت ان کے ساتھ بات کرنے کی کوشش کی مگر بات نہ ہوسکی اسی دوران ان کے دفتر کے ساتھیوںنے کہاکہ ان کا فون آیا تھا اور انہوں نے ہمیں کہہ دیاتھاکہ چند صحافی آئیںگے اگر میرے آنے سے قبل پہنچ گئے تو میرے دفتر میں بٹھادیں ہم ان کے دفتر میں بیٹھ کر انتظار کرنے لگے دوبجنے کے پانچ منٹ بعدایک مرتبہ پھر ان کانمبر ملایا کہ لیٹ کیوںہوگئے ہو اس بار کسی اور نے نمبر اٹینڈ کیا ہم نے کہاکہ سرتاج سے بات کراﺅ اس نے فوراً پوچھاکہ آپ سرتاج کے کیالگتے ہیں یہ سنتے ہی دل کی دھڑکنےں تیز ہونے لگیں ہم نے کہاکہ ہم اس کے دوست ہیں اور اس کے دفتر میں اس کاانتظارکررہے ہیں جس پر اس نے یہ کہہ کرہمار ے اوسان خطا کردیئے کہ سرتاج خان کو کسی نے گولی ماردی ہے اور وہ جاں بحق ہوچکے ہیں آپ ایل آرایچ پہنچیں یہ سننا تھاکہ پیروں تلے سے زمین ہی نکل گئی ہم تو سرتاج خان کے انتظارمیں بیٹھے ہوئے تھے اورپروگرام بنارہے تھے کہ اس تاخیر پر اس کی خصوصی کلاس لیںگے مگر ہمیں پتہ نہیںتھاکہ اس بار وہ وقت کی پابند ی کے بجائے وعدے ہی کی خلاف ورزی کرے گا ۔

 ہسپتال میں جو کیفیت تھی وہ ناقابل بیان تھی رات دس بجے ہم اپنے میزبان اور پیارے دوست کو منوں مٹی تلے سلا چکے تھے یوں محسو س ہورہاتھاکہ پورا شہرامڈ آیاہو بچپن میں سناکرتے تھے کہ جب زور کی آندھی چلتی ہے تو سمجھ جاﺅ کو ئی بے گناہ ماراگیاہے اس روز تو خوب آندھی چلی اور آسمان بھی کھل کررویا نجانے بے گناہوں کاخون بہانے کاسلسلہ کیسے رُکے گا اورکون روکے گا اے این پی کے شہداءکی فہرست میں اب سرتاج خان بھی شامل ہوچکاہے جس نے کالج کے زمانے میں پی ایس ایف کے پلیٹ فارم سے سیاسی سرگرمیوںکا آغاز کیا جس کے بعدپہلے سٹی ڈسٹرکٹ کے سیکرٹری اطلاعات ،پھر جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے چونکہ پارٹی کے جوانوں میں مقبولیت رکھتے تھے اس لیے آگے بڑھتے چلے گئے اور رواں سال چھ اپریل کو سٹی ڈسٹرکٹ کے صدر منتخب ہوئے ان میں آگے بڑھنے کاجذبہ اور صلاحیت بہت زیادہ تھی اور یہ صاف دکھائی دے رہاتھاکہ اگلے چندسا ل میں سرتاج خان پارٹی کی صوبائی کابینہ میں جگہ بنالیں گے مگر زندگی نے وفا نہ کی سرتاج خان تو رخصت ہوگئے مگر جس کسی سے ان کے حوالہ سے بات ہوئی سب نے ہی نہ صرف اچھے الفاظ میں یاد کیا بلکہ ان کی خوش اخلاقی اور ملنساری کی تعریف کی اوریہی انسان کے لیے اصل سرمایہ ہوتاہے کہ اس دنیا سے رخصت ہونے کے بعدخلق خدا اچھے الفاظ میں یاد رکھے اللہ سرتاج خان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے آمین ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔